قادیانیوں کی پاکستان کے لیے ’’خدمات‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

وزیراعظم عمران خان نے ملک کے اقتصادی و معاشی معاملات کے حوالہ سے جو ایڈوائزری کونسل قائم کی ہے اس میں عاطف میاں کی شمولیت پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ وہ مبینہ طور پر قادیانی ہیں اور مرزا قادیانی کے خاندان کے ساتھ ان کا تعلق بھی بتایا جاتا ہے، اس لیے اس کونسل میں ان کی شمولیت درست نہیں ہے اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کا نام کونسل سے خارج کر دیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مذہبی انتہا پسندی کا بے جا اظہار ہے اور مطالبہ کرنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے خیال میں قادیانی اس ملک کے شہری ہیں اور ملک کے نظام میں شرکت ان کا بھی حق ہے۔ ہم اس سلسلہ میں جذباتی فضا سے ہٹ کر زمینی حقائق کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آخر ملک کے دینی حلقوں کو کسی قادیانی کے کسی منصب پر فائز ہونے پر کیوں اعتراض ہوتا ہے اور وہ کسی بھی حوالہ سے اس گروہ کے کسی فرد کو برداشت کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟

پاکستان بننے کے بعد چودھری ظفر اللہ خان ملک کے وزیرخارجہ اور جوگندرناتھ منڈل وزیر قانون بنے تھے۔ اول الذکر قادیانی اور دوسرے ہندو تھے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف ظفر اللہ خان کو کابینہ میں شامل کرنے پر احتجاج کیا گیا اور ملک کے تمام دینی مکاتب فکر نے متفقہ طور پر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ اور یہ مطالبہ ظفر اللہ خان کے وزیرخارجہ بنتے ہی نہیں بلکہ اس کے پانچ سال بعد ۱۹۵۳ء میں کیا گیا جبکہ ہندو وزیرقانون کے خلاف نہ کوئی مہم چلی اور نہ ہی ان کی برطرفی کا کسی نے مطالبہ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بات مسلمان یا غیر مسلم کی نہیں بلکہ متعلقہ گروہ اور فرد کے طرزعمل کی ہے جس نے لوگوں کو اس مطالبہ پر مجبور کر دیا۔ چودھری ظفر اللہ خان کا یہ کردار اس سے قبل ریکارڈ پر آچکا تھا کہ انہوں نے قیام پاکستان کے وقت پنجاب کی تقسیم کی حدود طے کرنے والے ریڈکلف کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کی نمائندگی کی، مگر ضلع گورداسپور کے حوالہ سے جہاں قادیانیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی ان کا کیس مسلم لیگ کے موقف سے ہٹ کر الگ پیش کیا، جس سے یہ ضلع غیر مسلم اقلیت کا ضلع قرار پا کر بھارت میں شامل ہوگیا اور اسی سے ہندوستان کو کشمیر میں دخل اندازی کا راستہ ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے امیر مرزا بشیر الدین محمود کی ہدایت ہے کہ قادیانیوں کا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کیا جائے اس لیے وہ ان کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود انہیں وزیرخارجہ کے طور پر کافی عرصہ برداشت کیا گیا مگر جب یہ رپورٹیں عام ہونے لگیں کہ مختلف ممالک میں ان کے زیر سایہ پاکستان کے سفارت خانے قادیانیوں کی تبلیغ اور سرگرمیوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں تو ان کے اس طرز عمل کو برداشت نہ کرتے ہوئے ۱۹۵۳ء میں ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس دوران یہ واقعہ بھی ہوا جس نے اشتعال میں اضافہ کیا کہ کراچی کی قادیانی جماعت نے ایک پبلک جلسہ میں ظفر اللہ خان کے خطاب کا اعلان کیا تو وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے انہیں روکا کہ وہ اس جلسہ سے وزیرخارجہ کی حیثیت سے خطاب نہ کریں۔ جسٹس منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چودھری ظفر اللہ خان نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ اپنے منصب سے استعفٰی دے سکتے ہیں مگر جلسہ سے خطاب ضرور کریں گے اور انہوں نے جلسہ سے خطاب کیا۔

اس کے بعد جنرل یحیٰی خان کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد کو ملک کی اقتصادی کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین بنایا گیا اور وہ جنرل یحیٰی خان کے معتمد ترین افسر سمجھے جاتے تھے۔ مگر ان کے بارے میں مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی کے رکن مولوی فرید احمد مرحوم اور دیگر ذمہ دار حضرات نے کھلم کھلا یہ کہا کہ وہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے خلیج بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں جبکہ بہت سی دیگر رپورٹوں میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دینے کے مکروہ عمل میں ایم ایم احمد کا خاصا کردار رہا ہے۔ اس حوالہ سے راقم الحروف کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ کیجئے جو ۱۲ مارچ ۱۹۷۱ء کو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں شائع ہوا:

’’قارئین کو یاد ہوگا کہ حالیہ انتخابات سے قبل مشرقی پاکستان کے متعدد سیاسی راہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں مسٹر ایم ایم احمد کو اقتصادی منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ماضی میں اقتصادی طور پر مشرقی پاکستان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں ان کے ذمہ دار مسٹر ایم ایم احمد ہیں کہ انہوں نے اقتصادی منصوبہ بندی میں مشرقی پاکستان کو ثانوی حیثیت دی، اور شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات جو آج سیاسی بحران کا باعث بنے ہیں اسی نا انصافی اور ترجیحی سلوک کی صدائے بازگشت ہیں۔صدر مملکت نے مسٹر ایم ایم احمد کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے تو ہٹا دیا مگر اس سے زیادہ اہم پوسٹ ان کو دے کر اپنا اقتصادی مشیر مقرر کر لیا۔ اور صدر کے مشیر کی حیثیت سے ان صاحب نے جو ’’خدمات‘‘ سرانجام دیں وہ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ، پی آئی اے کے سابق سربراہ، سابق ڈپٹی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور سابق گورنر مغربی پاکستان جناب نور خان سے دریافت کیجئے۔ انہوں نے ۲ مارچ کو اپنی ہنگامی پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے التواء پر تبصرہ کرتے ہوئے اس طرف اشارات کیے ہیں۔ روزنامہ آزاد لاہور ۳ مارچ کے مطابق جناب نور خان نے مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافیوں کا ذمہ دار نوکر شاہی خصوصاً ایم ایم احمد کو قرار دیا اور الزام لگایا کہ موصوف صدر مملکت کو غلط مشورے دے کر ملک کے دونوں حصوں کے درمیان اختلافات کی خلیج کو وسیع کر رہے ہیں۔ جناب نور خان نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ سیاسی بحران بپا کرنے کے لیے مسٹر احمد اور ان کے ساتھی افسروں نے اور بھی خفیہ سازشیں کی ہیں۔‘‘

پھر ایک قادیانی سفارتکار مسٹر منصور احمد کا یہ کردار بھی پیش نظر رہے کہ جب جنیوا انسانی حقوق کمیشن میں حکومت پاکستان کے خلاف قادیانیوں نے اپنے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالہ سے درخواست دائر کی تو جنیوا میں پاکستان کا سفیر ہونے کے ناتے سے مسٹر منصور احمد حکومت پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر قادیانی ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے نمائندہ کے طور پر پیش ہوئے اور قادیانیوں کی درخواست کے حق میں فیصلہ دلوایا جو ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

یہ چند مثالیں ہیں جو ریکارڈ پر ہیں اور قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کی بے اعتمادی کے بنیادی اسباب پر شواہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ورنہ جس ملک میں جوگندرناتھ منڈل، جسٹس اے آر نیلئس، جسٹس دراب پٹیل، فادر روفن جولیس اور ان جیسی درجنوں غیر مسلم شخصیات کو حکومتی مناصب پر قبول کیا گیا ہے وہاں دو چار قادیانیوں کے آجانے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ نہیں بلکہ اس کی اصل وجہ وہ ہے جو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے آخری ایام میں اپنے جیل کے نگران کرنل محمد رفیع سے کہی تھی اور جو ان کی یادداشتوں میں چھپ چکی ہے کہ قادیانی حضرات پاکستان میں وہ پوزیشن حاصل کرنے کی تگ و دو میں مسلسل مصروف ہیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے کہ ملک کا کوئی فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف نہ ہو اور کوئی پالیسی ان کی منشا سے ہٹ کر طے نہ پا سکے۔

ہم وزیراعظم عمران خان اور ان کے رفقاء سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ اسے صرف مذہبی جذباتیت کے حوالہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھیں اور پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے ان مضامین کا بھی ایک بار ضرور مطالعہ کر لیں جن میں قادیانیت کو یہودیت کا چربہ اور قادیانیوں کو اسلام اور ملک دونوں کا غدار کہا گیا ہے۔