اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا حکم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ ستمبر ۲۰۱۵ء

ملک میں اردو زبان کو سرکاری، دفتری اور عدالتی شعبوں میں عملاً رائج کرنے کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے پر اگر خلوص دل سے عمل کا اہتمام ہوگیا تو ہمارے بہت سے معاشرتی، فکری اور تہذیبی مسائل بحمد اللہ تعالیٰ از خود حل ہوتے چلے جائیں گے۔ جبکہ آنے والی نسلیں یقیناً عدالت عظمیٰ کی شکر گزار ہوں گی اور اس کے معزز ججوں کو دعائیں دیں گی۔

جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ کے لیے چیف جسٹس رہے ہیں لیکن جاتے جاتے یہ تاریخی فیصلہ سنا کر اپنا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک قابل احترام جج کے طور پر محفوظ کرا گئے ہیں۔ ویسے تو ان کے بارے میں یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے مدت ملازمت کے دوران کوئی پلاٹ حاصل نہیں کیا، کسی امتیازی پروٹوکول کے روادار نہیں ہوئے، اور زیادہ مراعات کے حصول کی فکر نہیں کی۔ بلکہ ایک عام فاضل جج کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے بعد سادہ کپڑوں میں عدالت عظمیٰ سے رخصت ہوگئے ہیں۔ مگر مختلف مقدمات کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس اور پھر چیف جسٹس کے طور پر ان کے جو ریمارکس منظر عام پر آتے رہے ہیں وہ ان کی سادہ، نظریاتی اور با اصول زندگی کی بہتر عکاسی کرتے ہیں۔ اور ہر پاکستانی کے دل سے اس قسم کی خبروں پر یہ دعا بے ساختہ نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی طرح کے سادہ، قناعت پسند، محب وطن اور اپنی روایات و اقدار پر یقین رکھنے والے حکمران، افسران اور جج صاحبان عطا فرماتے رہیں، آمین یا رب العالمین۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاج برطانیہ نے متحدہ ہندوستان کی حکومت سنبھال لی تو مغل حکومت کے دوران دفتری، سرکاری اور عدالتی زبان کے طور پر رائج زبان فارسی کو یکلخت ختم کر کے اس کی جگہ انگریزی کو نافذ کر دیا جس سے اپنے وقت کی علمی اور عدالتی زبان پر عبور رکھنے والے افراد دفتر و عدالت کے کسی بھی منصب کے لیے نا اہل قرار پا گئے تھے۔ اور یہ محاورہ زبان زد عوام ہوگیا تھا کہ

پڑھیں فارسی بیچیں تیل

اس وقت فارسی سے پیچھا چھڑانے کا مقصد یہی تھا کہ پورے نظام کو نئی بنیادوں پر استوار کیا جائے اور علمی، فکری، تہذیبی اور معاشرتی ماحول کو تبدیل کر کے اس بہت بڑی برطانوی نوآبادی کو مغربی فکر و فلسفہ کے رنگ میں رنگ دیا جائے۔ اس مقصد میں نوآبادیاتی حکمرانوں کو کس قدر کامیابی حاصل ہوئی؟ اس کا اندازہ دیگر برطانوی نوآبادیات کے ساتھ متحدہ ہندوستان کا معاشرتی موازنہ کر کے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ بہت سی نوآبادیات میں لباس، زبان، تعلیم، ثقافت اور خوراک سمیت ہر چیز بدل گئی ہے۔ مگر متحدہ ہندوستان میں جہاں ہمیں یہ شکایت ہے کہ انگریزوں نے ہمارا بہت کچھ بدل دیا ہے، وہاں ہم سے زیادہ انگریزوں کو شکایت ہے کہ وہ جو کچھ اور جس طرح بدلنا چاہتے تھے اس میں انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ جبکہ باہر سے دیکھنے والوں کو سارا معاملہ درمیان میں پھنسا ہوا بلکہ الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے اور اس فکری و تہذیبی آنکھ مچولی کو فکر و دانش کی دنیا الگ انجوائے کر رہی ہے۔

یہ ایک مستقل موضوع ہے کہ استعماری حکمران کونسی چیز بدلنے میں کامیاب ہوئے اور کون سی چیزوں کو تبدیل کرنے میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر کوئی باذوق اسکالر اسے عنوان بنا کر پی ایچ ڈی کرنا چاہے تو اسے بہت سے دلچسپ حقائق اور مناظر سے واسطہ پیش آئے گا۔ مگر اس وقت ہم صرف زبان کے حوالہ سے گفتگو کر رہے ہیں کہ اردو کو راستے سے ہٹانے کے لیے ہر سطح پر سر توڑ کوششوں کے باوجود آج بھی یہ زبان زندہ و توانا زبان کے طور پر پوری دنیا کے سامنے کھڑی ہے اور اپنا وجود منوا رہی ہے۔ زبانوں کے حوالہ سے جب بین الاقوامی رپورٹوں پر نظر پڑتی ہے تو اردو کی سخت جانی حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ تمام تر مخالفتوں اور مزاحمتوں کے باوجود آج اردو اپنے بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی زبان شمار ہوتی ہے۔ مگر پھیلاؤ کے اعتبار سے اسے دنیا کی سب سے بڑی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انسانی آبادی کی سب سے بڑی تعداد چینی زبان بولتی ہے اور اردو کو اس کے بعد شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن چینی زبان بولنے والے زیادہ تر ایک ہی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ اردو بولنے والے، سمجھنے والے اور لکھنے والے دنیا کے ہر بر اعظم میں لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ خود مجھے انڈیا اور پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، ازبکستان، افغانستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کینیا، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے بیسیوں اسفار اور بلا مبالغہ سینکڑوں اجتماعات میں شرکت و خطاب کا موقع ملا ہے مگر کہیں بھی ایسی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی کہ کوئی اردو بولنے والا اور سمجھنے والا نہ ملا ہو۔ بلکہ کم و بیش اکثر جگہ سینکڑوں سامعین کے اجتماعات سے خطاب کی سعادت حاصل ہوئی ہے جن میں بہت کم اجتماعات ایسے تھے کہ جن میں کسی ترجمان کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ یہ اردو کی سخت جانی ہے کہ وہ نہ صرف وجود قائم رکھے ہوئے ہے بلکہ مسلسل اپنا دامن وسیع کرتی جا رہی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے وہ مسلمانوں ہی کی طرح سخت جان بھی ہے کہ ہر طرف سے طوفانی تھپیڑوں کا سامنا کرنے کے بعد جب کپڑے جھاڑتے ہوئے غبار سے باہر آتی ہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ بہت سے دیکھنے والوں کو مضطرب اور پریشان کر دیتی ہے۔

اردو زبان کے تحفظ، فروغ اور استحکام میں دینی مدارس اور تبلیغی جماعت کا مستقل کردار ہے جس پر الگ سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ میں نے کچھ عرصہ قبل برطانیہ میں پی ایچ ڈی کے ایک اسکالر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ’’دنیا میں اردو زبان کے فروغ میں تبلیغی جماعت کے کردار‘‘ کو اپنے مقالہ کا موضوع بنائے۔ مگر اس سے قطع نظر اس وقت اردو کے بقا کی جنگ لڑنے والوں میں سے سر سید احمد خان، مولوی عبد الحق، اور ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ مرحومین مجھے بہت یاد آرہے ہیں کہ ان کی روحوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کی خبر سے کتنا سکون ملا ہوگا۔ البتہ اس خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھی کسی مولوی عبد الحق اور ڈاکٹر سید عبد اللہ کی ضرورت ہے۔ دیکھیں پردۂ غیب سے کیا نمودار ہوتا ہے؟