گلوبل ہیومن سوسائٹی کا مستقبل اور قرآن کریم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اگست ۲۰۱۰ء

۴ اگست ۲۰۱۰ء کو بعد نماز مغرب دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں راقم الحروف نے مسلم کمیونٹی کے ایک اجتماع سے خطاب کیا، اس موقع پر جو گفتگو ہوئی وہ نذرِ قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن کریم کی دو آیات پڑھی ہیں جو بیسویں پارے کی آخری آیات ہیں اور ان میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم ہی کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہے۔ مشرکین مکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، حالانکہ بیسیوں کھلے معجزات کا انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رکھا تھا مگر اس کے باوجود ان کا معجزات اور نشانیوں کے لیے مطالبہ جاری رہتا تھا اور وہ اپنی طرف سے طے کر کے کہا کرتے تھے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں وہ دکھائی جائیں۔ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالٰی نے ان کے مطالبات کی ایک فہرست بیان کی ہے جس میں یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ ہم اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ ان باتوں میں سے کوئی پوری نہ کر دیں:

  • ہمارے لیے زمین سے پانی کا چشمہ نکالیں۔
  • یا آپ کے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور اس کے درمیان پانی کے کھال بہتے ہوں۔
  • یا اپنے دعوٰی کے مطابق ہم پر آسمان گرا دیں۔
  • یا اللہ تعالٰی اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لائیں۔
  • یا آپ کے لیے سونے کا محل ہو۔
  • یا آپ آسمان کی طرف چڑھ جائیں اور آسمان سے کتاب لے کر آئیں، وغیر ذٰلک۔

یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں بھی اسی قسم کے سوال کا ذکر ہے کہ مشرکین کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ان کے رب کی طرف سے نشانی کیوں نہیں اترتی؟ حالانکہ نشانیاں تو وہ بہت سی دیکھ چکے تھے مگر وہ اپنی مرضی اور مطالبے کی نشانی کا تقاضا کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالٰی نے ان آیات میں دو باتیں ارشاد فرمائی ہیں:

  1. ایک یہ کہ آپؐ ان سے کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں اس کے عذاب سے ڈرانے والا اور اس کا پیغام بیان کرنے والا ہوں۔ یہ اللہ تعالٰی کی مرضی ہے کہ وہ کونسی نشانی نازل کرے اور کونسی نشانی کا مطالبہ پورا نہ کرے، اس کی حکمت ہو تو چاند کے دو ٹکڑے کر دے اور حکمت نہ ہو تو مکہ میں ایک باغ نہ دے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیں کہ یہ میری ڈیوٹی نہیں ہے کیونکہ میں تو صرف پیغام پہنچانے اور خدا کے عذاب سے ڈرانے کے لیے آیا ہوں، یہ اللہ تعالٰی کی مرضی ہے کہ وہ کوئی نشانی دے یا نہ دے۔
  2. جبکہ دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے، اس میں ایمان لانے والوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے۔ مشرکین کی طرف سے نشانیوں کے مطالبے کے جواب میں یہ ارشاد ربانی کہ ’’کیا قرآن کریم کا اتارا جانا کافی نہیں ہے؟‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے جس کے بعد کسی اور نشانی اور معجزہ کے مطالبہ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

ہمارا جناب نبی کریمؐ کے تمام معجزات پر ایمان ہے جو کسی صحیح سند اور روایت کے ساتھ ثابت ہوں۔ مگر قرآن کریم اور دیگر معجزات میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ باقی معجزات پر ہمارا ایمان ہے لیکن ہم نے ان میں سے کوئی دیکھا نہیں ہے، مثلاً ایک موقع پر آنحضرتؐ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹے جو سینکڑوں لوگوں نے پیا، ہمارا اس پر ایمان ہے مگر نہ ہم نے پانی دیکھا اور نہ ہی پینے والے دیکھے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن کریم وہ معجزہ ہے جس پر ہمارا ایمان ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے اس کے معجزہ ہونے کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں کیونکہ قرآن کریم قیامت تک رہے گا، وہ آج بھی اپنا اعجاز دکھا رہا ہے اور ایک دنیا اس کے اعجاز کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ مشرکین مکہ نے قرآن کریم کو جادو کہا تھا، اللہ تعالٰی نے اس کا رد کیا اور فرمایا یہ جادو نہیں بلکہ میرا کلام ہے۔ اس لیے قرآن کریم یقیناً جادو نہیں ہے لیکن محاورے کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم اگرچہ خود جادو نہیں ہے مگر اس کا ’’جادو‘‘ آج بھی دنیا کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

مفسرین کرام نے قرآن کریم کے اعجاز کی بیسیوں وجوہ اور پہلو بیان کیے ہیں، میں ان میں سے تین چار ایسی وجوہ کا ذکر کرنا چاہوں گا جو آج بھی دنیا سے اپنا لوہا منوا رہی ہیں اور ہماری گناہگار آنکھیں کھلے بندوں ان کا مشاہدہ کر رہی ہیں، مثلاً:

  • یہ اعجاز کہ رمضان المبارک کے دوران دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں قراء کرام اور حفاظ تراویح اور نوافل میں قرآن کریم سناتے ہیں اور کروڑوں مسلمان بڑے شوق اور اہتمام کے ساتھ سنتے ہیں۔ حفظ قرآن کریم کا یہ اعزاز اور اعجاز دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں ہے۔
  • اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت و قراءت کے مختلف سحر انگیز لہجوں نے بھی آج ایک دنیا کو مسحور کر رکھا ہے کیونکہ اتنے شوق اور اہتمام کے ساتھ خوبصورت سے خوبصورت لہجے کے ساتھ نہ کوئی کتاب پڑھی جاتی ہے اور نہ ہی سنی جاتی ہے۔ اور اس باب میں بھی قرآن کریم آج کی دنیا کے لیے ایک چیلنج اور معجزے کی حیثیت رکھتا ہے۔
  • اس کے علاوہ قرآن کریم اپنے مفہوم اور پیغام و دعوت کے حوالہ سے بھی معجزہ ہے کہ جو کوئی اسے سمجھنے اور راہنمائی حاصل کرنے کے لیے پڑھتا ہے یہ اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور مثبت سوچ کے ساتھ اسے پڑھنے والا کوئی بھی شخص اس کی تاثیر کے دائرے سے باہر نہیں رہ سکتا۔ ایک معروف نومسلم یحیٰی برٹ نے، جس کا تعلق برطانیہ کے ایک نامور انگریز خاندان سے ہے، اس پر ریسرچ کی ہے کہ مغرب میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ہونے والے افراد کے قبول اسلام کا سبب کیا ہے؟ اس کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا میں مسلمان ہونے والے لوگوں کی غالب اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو قرآن کریم پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں اور قرآن کریم کی اسٹڈی نے انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہے۔ خود میری ملاقات بعض نومسلموں سے ہوئی ہے مثلاً یوسف حمزہ، یوسف اسلام، مورس عبد اللہ اور یحیٰی برٹ وغیرہ، ان میں زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اور قرآنک اسٹڈی کے نتیجے میں وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

گویا قرآن کریم کے الفاظ بھی معجزہ ہیں، اس کی قراءت و تجوید بھی معجزہ ہے اور اس کا مفہوم اور پیغام بھی معجزہ ہے۔ مگر میں آج قرآن کریم کے اعجاز کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا جس کی طرف اشارہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تین سو سال پہلے کیا تھا کہ انسانی سوسائٹی اور تمدن کے لیے قرآن کریم کے احکام و قوانین بھی معجزہ ہیں جن کی مثال دنیا کی کوئی قوم پیش نہیں کر سکتی اور آج کی دنیا میں اس کا مختلف صورتوں میں اظہار ہو رہا ہے جن میں سے دو تین کا تذکرہ کرنا چاہوں گا:

  • مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی مرکز ویٹی کن سٹی کے سرکاری ترجمان (L'Osservatore Romano) نے چند ماہ قبل دنیا کے موجودہ معاشی بحران کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جو اٹلی کے ماہرین معیشت کے ایک گروپ کی تحریر کردہ ہے اور اس میں لکھا گیا ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہوگیا ہے اس لیے معاشی بحران کے حل کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصولوں سے رجوع کیا جائے۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس کے بیان کردہ جن معاشی اصولوں کو آج سے ربع صدی قبل تک فرسودہ اور ناقابل عمل قرار دیا جاتا تھا، آج وہی اصول مغربی دنیا میں معاشی بحران کے بہترین حل کے طور پر سامنے آرہے ہیں اور غیر سودی معیشت کا مذاق اڑانے والے آج اس کی پناہ لینے پر مجبور نظر آ رہے ہیں۔
  • اسی طرح برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے گزشتہ سے پیوستہ ماہ کے دوران ماحولیات کے حوالہ سے دنیا کے موجودہ بحران پر ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کہا کہ اسلامی قوانین پر عمل کر کے دنیا کو ماحولیاتی خطرات سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گلوبل وارمنگ کے باعث ہونے والی تبدیلیوں اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے عالمی ماہرین پر زور دیا ہے کہ قرآن کریم میں بتائے گئے معاشرتی اصولوں پر عمل کر کے دنیا کو کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
  • اس کے ساتھ ایک اور شہادت کو بھی سامنے رکھ لیں کہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے پروفیسر ڈاکٹر نوہا فلڈمین نے گزشتہ سال نیویارک ٹائمز میں ’’شریعہ کیوں؟‘‘ کے عنوان سے اپنے ایک سلسلہ وار مضمون میں لکھا تھا کہ مغربی حکمران دنیا کے کسی بھی حصے میں اسلامی شریعہ کے نفاذ کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ شریعت اور اس کے قوانین میں کوئی کمزوری ہے بلکہ یہ لوگ شریعت کا راستہ روک کر اپنے نظام و قانون کی کمزوریوں اور کھوکھلے پن کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ قرآن کریم کے احکام و قوانین کے اعجاز پر آج کی دنیا کی شہادتیں ہیں اور میں اس پر یہ جملہ ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ قرآن کریم خود جادو نہیں ہے لیکن اس کا ’’جادو‘‘ آج بھی دنیا کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ میری دنیا بھر کے مسلمان بھائیوں سے درخواست ہے کہ رمضان المبارک کے دوران قرآن کریم پڑھتے ہوئے اعجاز قرآن کریم کے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دیں اس لیے کہ نہ صرف امت مسلمہ بلکہ گلوبل ہیومن سوسائٹی کا بہتر مستقبل بھی اسی سے وابستہ ہے۔

درجہ بندی: