امام اعظم کی تعلیمات اور عصرِ حاضر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ تا ۱۶ دسمبر ۲۰۱۱ء

۱۱ دسمبر اتوار کو لوئر مال لاہور کے عامر ہوٹل میں ’’اتحاد اہل سنت‘‘ کے زیر انتظام ’’امام اعظم ابوحنیفہؒ سیمینار‘‘ منعقد ہوا جس کا اہتمام حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ آف کندیاں شریف کی یاد میں کیا گیا تھا۔ مولانا محمد الیاس گھمن سیمینار کے داعی و منتظم اور مولانا عبد الشکور حقانی اسٹیج سیکرٹری تھے۔ لاہور کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ خطاب کرنے والوں میں حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا محب اللہ آف لورائی، مولانا محمد الیاس گھمن، الحاج سید سلیمان گیلانی اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے۔ حضرت امام اعظمؒ کو منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا جبکہ حضرت خواجہ خان محمدؒ کے فرزند صاحبزادہ مولانا خواجہ رشید احمد دیگر علماء کرام کے ساتھ اسٹیج پر رونق افروز تھے اور حضرت مولانا عبد الغفور آف ٹیکسلا کی دعا پر سیمینار کا اختتام ہوا۔ راقم الحروف نے اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ نذر قارئین کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ مولانا محمد الیاس گھمن اور ان کے رفقاء شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی یاد میں وقتاً فوقتاً سیمینار منعقد کر کے ہمیں عالم اسلام کی اس عظیم علمی و دینی شخصیت کی یاد دلاتے ہیں اور ان سے راہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اپنے اسلاف کو یاد کرتے رہنا ہماری دینی و فکری ضرورت ہے اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کے بارے میں تو میری طالبعلمانہ رائے یہ ہے کہ آج کی دنیا کے مسائل حل کرنے اور علمی و فکری مشکلات میں راہنمائی کے لیے امام اعظم ابوحنیفہؒ کی تعلیمات اور فکر و جہد کو اجاگر کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ حضرت امام اعظمؒ کے بارے میں گفتگو کے بیسیوں پہلو ہیں جن پر بات کی جا سکتی ہے اور جن کے بارے میں گفتگو کی ضرورت ہے مگر میں ان سے صرف ایک دو پہلوؤں پر اپنے ذوق کے مطابق کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ اور اس کے لیے تاریخ کے ایک اہم سوال پر بات کروں گا کہ امام اعظمؒ نے قاضی القضاۃ کے جس منصب کو قبول نہیں کیا تھا اور اس سے انکار پر اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا تھا، قاضی القضاۃ کے اسی منصب کو ان کے جانشین حضرت امام ابو یوسفؒ نے کیوں قبول کر لیا تھا اور وہ خلیفہ ہارون الرشید کے دورِ حکومت میں قاضی القضاۃ کی حیثیت سے خدمات کیوں سر انجام دیتے رہے؟

تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات قابل توجہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے جس وقت علمی دنیا میں قدم رکھا وہ دور کونسا تھا اور اس وقت حالات کا عمومی تناظر کیا تھا؟ امام ابوحنیفہؒ کا سن ولادت ۸۰ھ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ اڑھائی سال حکومت کرنے کے بعد جب اپنوں کے ہاتھوں ہی زہر کھا کر شہید ہوئے تو اس وقت امام ابوحنیفہؒ کی عمر اکیس بائیس سال کے لگ بھگ تھی اور یہ ان کا علمی و عملی دور میں قدم رکھنے کا ابتدائی زمانہ تھا۔ یہی وہ دور ہوتا ہے جب کسی انسان کی زندگی کے عملی اہداف طے ہوتے ہیں، اس کی زندگی بھر کی تگ و دو کا رخ متعین ہوتا ہے اور اس کے مستقبل کی صورت گری واضح شکل اختیار کرتی ہے۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو ’’عمر ثانی‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ عمر ثانی ہی تھے، ان کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کا تتمہ کہا جاتا ہے اور ان کا دور حکومت فی الواقع خلافت راشدہ کا عکس اور پرتو تھا۔ ان کی اڑھائی سالہ مختصر حکومت کے دوران کی گئی اصلاحات کو آج تک تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے اور ان کے طرز حکومت کو ایک آئیڈیل طرز حکومت تصور کیا جاتا ہے، لیکن ان کی شہادت کے بعد خود ان کے جانشین یزید بن عبد الملک نے خلیفہ بنتے ہی اپنے عُمال کو جو ہدایت جاری کی تھی اس میں اس نے کہا تھا:

’’واضح ہو کہ عمر بن عبد العزیزؒ ایک فریب خوردہ شخص تھا، تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے اسے خوب دھوکے میں ڈالا۔ اب جونہی میرا یہ فرمان تمہارے پاس پہنچے، یکلخت ان تمام طریقوں کو ترک کر دو جو اَب تک تم عمرؒ کے عہد کی چیزوں کے متعلق جانتے تھے، لوگوں کو پہلی حالت کی طرف واپس لوٹا دو، خواہ سرسبزی کا زمانہ ہو یا خشک سالی کا، لوگ اسے پسند کریں یا ناپسند، جئیں یا مریں۔‘‘ (بحوالہ عقد الفرید)

اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ حالات کو بہتر بنانے، نظام حکومت کی اصلاح اور طرز حکمرانی کو خلافت راشدہ کی طرز پر واپس لے جانے کی جو امیدیں اہلِ خیر کے دلوں میں کسی حد تک اس دور میں موجود تھیں اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے امید کے اس چراغ کو اپنا لہو دے کر جس طرح روشن کرنا چاہا تھا وہ ٹوٹ گئی تھیں اور حالات اب کسی اور طرز کی جدوجہد کا تقاضا کرنے لگے تھے۔ میری طالبعلمانہ رائے یہ ہے کہ اسی صورتحال نے امام اعظم ابوحنیفہؒ کو ایک ایسی محنت کی طرف متوجہ کیا جو مستقبل میں نظام حکومت اور عمومی معاشرت کے حوالہ سے اصلاح کی ٹھوس بنیاد بن سکے اور وہ علمی محنت تھی جس میں امام صاحبؒ نے اسلامی قوانین کی تعبیر و تشریح اور ان کی قانونی ترتیب کے لیے فقہی مجلس قائم کی اور کم و بیش ۴۰ اہل علم کے ساتھ مل کر شریعت اسلامیہ کے ۸۰ ہزار سے زائد مسائل و احکام مرتب کر دیے۔

قانون کی ایسی تشریح کہ مختلف صورتیں فرض کر کے ان کے لیے قوانین بیان کیے جائیں اس سے پہلے ’’فقہ فرضی‘‘ کہلاتی تھی اور نہ صرف یہ کہ اس کا عمومی رواج نہیں تھا بلکہ صحابہ کرامؓ میں سے بعض بزرگ اسے پسند بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی واقعہ یا مسئلہ عملاً پیش نہ آجائے اس کے بارے میں شرعی حکم دریافت کرنا تکلف اور غیر ضروری بات ہے، مگر امام ابوحنیفہؒ نے یہ دیکھا کہ شرعی قوانین کا مدوّن اور بنیادی ذخیرہ صحابہ کرامؓ اور تابعین کے اس دور میں ہی مرتب ہو جائے گا تو بہتر ہوگا ورنہ اگر آنے والے ہر زمانے کے لوگوں اور قاضیوں کی صوابدید پر یہ بات چھوڑ دی گئی تو شرعی قوانین کی صحیح اور محفوظ تشریح خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اہل علم کی مجلس قائم کی، علمی مسائل پر باہمی بحث و مباحثہ کا ذوق پیدا کیا، قرآن و سنت اور آثار صحابہؓ کو بنیاد بنا کر قوانین کی تدوین اور احکام شرعیہ کی تعبیر و تشریح کے عظیم کام کا آغاز کیا، اور باہمی علمی مشاورت کے ساتھ ۸۰ ہزار سے زائد قوانین مدوّن کر کے امت کے حوالے کر دیے جو عبادات و معاملات سمیت زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں تھے تاکہ بعد میں آنے والوں کے پاس ایک عظیم الشان علمی و فقہی ذخیرہ موجود ہو اور امت کے عدالتی نظام کو علمی و فقہی بنیاد فراہم ہو جائے۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد خلافت عباسیہ، خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت سمیت کسی بھی بڑی حکومت کو اسلامی اصولوں کے مطابق عدالتی نظام چلانے کے لیے علمی مواد اور فقہی ذخیرے کی ضرورت پڑی تو فقہ حنفی نے آسانی کے ساتھ ہر دور میں اس ضرورت کو پورا کر دیا۔ یہ ’’فقہ فرضی‘‘ جس کی تشکیل کو امام ابوحنیفہؒ اور ان کے رفقاء نے باقاعدہ اور اجتماعی حیثیت دی، آج کے دور میں ’’قانون سازی‘‘ کہلاتی ہے۔

آج جب نفاذ اسلام کی بات ہوتی ہے تو ایک عام سا سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ کیا اسلام میں قانون سازی کی گنجائش ہے اور کیا ایک اسلامی حکومت میں قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے؟ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ یہی قانون سازی تھی جو امام اعظم ابوحنیفہؒ اور ان کے رفقاء نے کی اور اسی قانون سازی پر بارہ سو سال تک امت کے عدالتی سسٹم اور معاشرتی نظام کی عمارت استوار رہی ہے۔ بلکہ میں اس سے اگلی بات کروں گا کہ اسلامی ریاست کے لیے باقاعدہ تحریری دستور بھی سب سے پہلے امیر المومنین ہارون الرشید کے دور حکومت میں ان کی فرمائش پر حضرت امام ابو یوسفؒ نے لکھا جو ’’کتاب الخراج‘‘ کی صورت میں آج بھی ہماری لائبریریوں میں موجود ہے۔ یہ کتاب الخراج اگرچہ زیادہ تر مالی معاملات کے حوالے سے لکھی گئی تھی لیکن اسے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس دور کے حوالے سے یہ دستور حکومت ہی تھا جو امیر المومنین کی فرمائش پر لکھا گیا اور وہ عباسی حکومت میں عملاً نافذ رہا۔ اس لیے میرے خیال میں امام ابوحنیفہؒ نے پہلا بڑا کام یہ کیا کہ قرآن و سنت اور آثار صحابہؓ کی روشنی میں اسلامی قوانین کا ایک بڑا ذخیرہ علماء کی باہمی مشاورت کے ساتھ مرتب کر دیا جو اَب تک امت کے کام آرہا ہے اور قیامت تک کام آتا رہے گا۔

قوانین کی ترتیب و تدوین کے بعد امام اعظمؒ کا دوسرا بڑا کام ’’رجال سازی‘‘ تھا کہ انہوں نے ان قوانین کے نفاذ اور عملداری کے لیے رجال کار تیار کیے۔ اس سلسلہ میں تفصیلات میں جائے بغیر امام ابوحنیفہؒ کے اس خطبے کے کچھ حصے آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا جو انہوں نے کوفہ کی جامع مسجد میں اپنے شاگردوں کے ایک ہزار کے لگ بھگ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا۔ اس اجتماع کی تفصیل اور خطاب کے اقتباسات حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے اپنی کتاب ’’امام اعظم ابوحنیفہؒ کی سیاسی زندگی‘‘ میں نقل کیے ہیں۔ امام اعظمؒ نے اپنے ہزاروں تلامذہ سے فرمایا کہ:

’’میرے دل کی مسرتوں کا سرمایہ صرف تم لوگوں کا وجود ہے، تمہاری ہستیوں میں میرے حزن اور غم کے ازالے کی ضمانت پوشیدہ ہے۔‘‘

’’فقہ کی زین تم لوگوں کے لیے کس کر میں تیار کر چکا ہوں، اس کے منہ پر تمہارے لیے لگام بھی چڑھا چکا ہوں، اب تمہارا جس وقت جی چاہے اس پر سوار ہو سکتے ہو، میں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ لوگ تمہارے نقش قدم کی جستجو کریں گے اور اسی پر چلیں گے، تمہارے ایک ایک لفظ کو لوگ اب تلاش کریں گے، میں نے گردنوں کو تمہارے لیے جھکا دیا ہے اور ہموار کر دیا ہے۔‘‘

پھر ان میں سے چالیس حضرات کو اپنے قریب بلا کر ان سے بطور خاص حضرت الامامؒ نے فرمایا کہ:

’’پس اب وقت آگیا ہے کہ آپ لوگ میری مدد کریں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم (چالیس) میں ہر ایک عہدۂ قضا کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی پوری صلاحیت اپنے اندر پیدا کر چکا ہے، اور دس آدمی تو تم میں ایسے ہیں جو صرف قاضی ہی نہیں بلکہ قاضیوں کی تربیت و تادیب کا کام بھی بخوبی سرانجام دے سکتے ہیں۔‘‘

اسی سے امام اعظمؒ کا وہ حزن و ملال سمجھا جا سکتا ہے جس کے ازالے کے لیے انہوں نے اتنی عظیم الشان عملی محنت کی، قوانین کا ذخیرہ مرتب کیا اور ان پر عملدرآمد اور ان کے نفاذ کی صلاحیت رکھنے والے قاضی تیار کر کے امت کے حوالے کیے، اور پھر تاریخ گواہی دیتی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے اسی حزن و ملال اور اس کے ازالے کے لیے ان کی اس علمی محنت پر ۱۲۰۰ سال تک امت کے عدالتی نظام کی عمارت پورے استحکام سے کھڑی رہی، اور تاریخ کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مسلمانوں کا سیاسی نظام مختلف ادوار میں اچھا برا جیسا بھی رہا ہو، مگر عدالتی نظام ہمیشہ آزاد، باوقار اور مستحکم رہا ہے، اور تاریخ کے میرے جیسے طالب علم کو اس سب کچھ کے پیچھے امام اعظم ابوحنیفہؒ کی شخصیت کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

میرے خیال میں ان گزارشات میں اس سوال کا جواب بھی آپ کو مل گیا ہوگا کہ امام ابوحنیفہؒ نے خود قاضی القضاۃ کا منصب کیوں قبول نہیں کیا اور ان کے شہید ہو جانے کے بعد ان کے جانشین امام ابو یوسفؒ نے وہی منصب کیوں قبول کر لیا جس سے انکار پر ان کے استاذ محترم نے اپنی جان تک قربان کر دی تھی۔ امام صاحبؒ نے خود یہ منصب قبول نہیں کیا اس لیے کہ ان کے نزدیک منصب سے زیادہ اس کام کی اہمیت تھی جو انہوں نے سرانجام دیا کیونکہ وہ یہ سمجھ چکے تھے قوانین کی ترتیب و تدوین اور علمی ماخذ و مواد کی فراہمی کے بغیر (جسے آج کی زبان میں ہوم ورک اور پیپر ورک کہا جاتا ہے) نفاذ اسلام کا کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اسی طرح انہوں نے صرف قوانین و نظام مدوّن کر کے نہیں دیے بلکہ اس کے لیے تربیت یافتہ اور باصلاحیت رجال کار بھی تیار کیے کیونکہ اہل، با صلاحیت اور مخلص رجال کار کے بغیر کوئی بھی نظام یا قوانین اپنے نفاذ اور عملداری کے ثمرات حاصل نہیں کر سکتے۔

اس پر دور حاضر کا ایک واقعہ بھی عرض کر دوں تو بات جلدی سمجھ میں آجائے گی۔ اب سے ربع صدی قبل جب ہم سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیفؒ اور مولانا سمیع الحقؒ کے پیش کردہ شریعت بل کے لیے ملک بھر میں جدوجہد کر رہے تھے، عوامی جلسے اور ریلیاں ملک کے ہر علاقے میں منعقد ہو رہی تھیں، ہر طرف ہلا گلا تھا اور میں بھی اس تحریک میں پیش پیش تھا۔ اس زمانے میں گوجرانوالہ ڈویژن کے کمشنر جناب غلام مرتضٰی پراچہ تھے جو پرانے اور تجربہ کار بیوروکریٹ اور سمجھدار افسر تھے۔ ایک محفل میں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ مولوی صاحبان! آپ حضرات یہ کیا ہلّا گلّا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ نفاذ شریعت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ۔انہوں نے پوچھا کہ کیسے نافذ کریں گے؟ میں نے کہا کہ رائے عامہ کے دباؤ کے ساتھ اسمبلی سے ’’شریعت بل‘‘ منظور کرائیں گے جو نافذ ہو جائے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ عمل کس کے ذریعے کراؤ گے، اس لیے کہ اس وقت تو میرے جیسے افسروں کے ہاتھ میں ملک میں کا کنٹرول ہے، عمل تو ہم نے کروانا ہے، اگر آپ مولوی صاحبان کا خیال ہے کہ میرے جیسے افسران کے ذریعے آپ ملک میں اسلام کا قانون و نظام نافذ کر لیں گے تو یہ بات بھول جائیں، یہ نہیں ہوگا۔ مثلاً گوجرانوالہ ڈویژن کے تمام اضلاع میرے ماتحت ہیں یہاں جو کچھ ہونا ہے میرے ذریعے ہونا ہے، اس لیے مولوی صاحب! اگر میری جگہ پر بٹھانے کے لیے آپ کے پاس متبادل آدمی ہے تو اسلام کی بات کریں ورنہ خوامخواہ لوگوں کا وقت ضائع نہ کریں۔

اس وقت تو پراچہ صاحب کی بات میں نے جوش و جذبات میں سنی اَن سنی کر دی لیکن بعد میں جوں جوں غور کرتا گیا یہ حقیقت کھلتی چلی گئی اور حضرت امام اعظمؒ کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات شرح صدر کے ساتھ سمجھ میں آگئی، اس لیے کہ امام صاحبؒ نے مناصب کی خانہ پری کرنے کی بجائے قوانین کی تدوین کے ہوم ورک اور ان کے لیے رجال کار کی تیاری و فراہمی کی محنت کو ترجیح دی تھی جس کے ثمرات سے امت کا نظام عدل بارہ سو سال تک مجموعی طور پر مستفید ہوتا رہا، جبکہ اہل علم آج بھی اس سے برابر مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے میری طالبعلمانہ رائے میں حضرت امام اعظمؒ کی یہی فراست و تدبر نفاذ اسلام کے لیے آج کے دور میں ہماری سب سے زیادہ راہنمائی کر سکتا ہے۔

دوسرا سوال جس کا میں آج کے سیمینار میں جائزہ لینا چاہتا ہوں، یہ ہے کہ آج اگر بالفرض امام اعظمؒ ہمارے درمیان موجود ہوتے تو ان معروضی حالات میں وہ کیا کرتے؟ یا دوسرے لفظوں میں ہم آج کے زمینی حقائق اور معروضی حالات میں حضرت امام اعظمؒ سے کیا راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں؟ میں اس سلسلہ میں بہت سی تفصیلات کو نظرانداز کرتے ہوئے چند گزارشات عرض کرنا چاہتا ہوں۔

پہلی بات یہ ہے کہ اگر امام ابوحنیفہؒ آج کے حالات میں موجود ہوتے تو میرے ناقص مطالعہ و معلومات کے مطابق وہ دینی تحریکات کے سب سے بڑے سرپرست ہوتے۔ اس لیے کہ امام صاحبؒ نے اصلاح نظام اور شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے صرف علمی کام ہی نہیں کیا بلکہ اپنے دور کی دینی تحریکات کی سرپرستی اور انہیں سپورٹ بھی کرتے رہے۔ حضرت امام زید بن علیؒ، امام ابراہیم نفس زکیہؒ کی تحریکات اس دور میں حکومت و نظام کی تبدیلی اور طرز حکومت کی اصلاح کی تحریکات تھیں جنہیں حضرت امام اعظمؒ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ امام ابوحنیفہؒ براہ راست ان تحریکات میں شریک نہیں ہوئے اور حریف بن کر حکومتوں کے سامنے نہیں آئے لیکن (۱) مذکورہ دینی تحریکات کو انہوں نے مالی، اخلاقی اور سیاسی ہر لحاظ سے سپورٹ کیا اور ان کے ساتھ ساتھ ان کی علمی و فکری راہنمائی بھی فرمائی۔ (۲) حکومتوں کے غلط اقدامات پر کھلم کھلا تنقید کرتے رہے جس کی پاداش میں انہیں مختلف اوقات میں کوڑوں اور قید کی سزا بھی بھگتنا پڑی۔ (۳) انہوں نے حکمرانوں کے ساتھ اجتماعی مصالح کے لیے باوقار سطح پر تعلقات برقرار رکھے ہیں لیکن کوئی منصب قبول کر کے حکومتی نظام کا حصہ بننے سے مسلسل گریز کیا۔امام اعظم ابوحنیفہؒ کی یہ زندگی اور جدوجہد آج بھی دینی و علمی قیادت سے اسی قسم کے باوقار، مدبرانہ، بے نیازانہ، جرأت مندانہ اور پرحوصلہ کردار کی توقع رکھتی ہے۔

دوسرے نمبر پر میں عرض کرنا چاہوں گا کہ امام اعظمؒ نے علمی و فقہی مسائل میں اجتماعی علمی مشاورت کی بنیاد رکھ کر ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ فقہی مسائل و احکام کی قرآن و سنت سے قریب تر تعبیر و تشریح کا صحیح راستہ اجتماعی مشاورت اور کھلا علمی مباحثہ و مکالمہ ہے۔ امام صاحبؒ کی فقہی مجلس مشاورت کے طریق کار کو دیکھ لیجئے کہ استاذ محترم کے سامنے بیٹھ کر ان کے شاگرد اُن کی رائے سے اختلاف کر رہے ہیں اور ایک مسئلہ پر کئی کئی روز بحث ہو رہی ہے۔ امام صاحبؒ کسی شاگرد پر اپنی استاذیت کا دباؤ نہیں ڈال رہے اور کھلے دل سے اختلاف اور مباحثے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ حتٰی کہ مجلس کے فیصلے لکھواتے وقت اگر کسی شاگرد کو اپنے استاذ یا مجلس کے فیصلے سے اتفاق نہیں ہے تو اسے اپنی الگ رائے، جسے ہم اختلافی نوٹ کا عنوان دیا کرتے ہیں، لکھوانے کا حق بھی حاصل ہے۔ چنانچہ فقہ حنفی کے ذخیرے میں ہمیں امام زفرؒ، امام حسنؒ اور دیگر ائمہ کے الگ اقوال ان کے حوالے سے آج بھی مذکور ملتے ہیں جو اُن کی جداگانہ رائے کے طور پر درج کیے گئے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ قابل توجہ ہے جو مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے امام جرجانیؒ کے حوالے سے ان الفاظ میں درج کیا ہے کہ:

’’الجرجانی کہتے ہیں کہ میں امام کی مجلس میں حاضر تھا کہ ایک نوجوان نے جو اسی حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا امام صاحبؒ سے سوال کیا جس کا امام صاحبؒ نے جواب دیا۔ لیکن نوجوان کو میں نے دیکھا کہ جواب کو سنتے ہی بے تحاشا وہ امام کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ ’’اخطئت‘‘ آپ نے غلطی کی ہے۔ جرجانیؒ کہتے ہیں کہ نوجوان کے اس طرز گفتگو کو دیکھ کر میں حیران ہوگیا اور حلقہ والوں سے خطاب کر کے میں نے کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ استاذ کے احترام کا تم لوگ بالکل لحاظ نہیں کرتے۔ مگر جرجانیؒ ابھی اپنی نصیحت کو پوری کرنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ سن رہے تھے کہ امام صاحبؒ فرما رہے ہیں کہ ’’دعھم فانی قد عودتھم ذلک من نفسی‘‘ تم ان لوگوں کو چھوڑ دو میں نے خود ہی اس طرز کلام کا انہیں عادی بنایا ہے۔‘‘

اس لیے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر امام صاحب آج کے دور میں ہوتے تو علمی و فقہی مسائل میں اجتماعی مشاورت کا اہتمام کرتے، فقہی احکام پر کھلے مباحثے کی تلقین کرتے، اس کی حوصلہ افزائی کرتے اور محدود فقہی حلقوں کو اجتماعی مشاورت کا راستہ دکھاتے۔ اسی بنیاد پر میں ایک بات عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں کہ حنفی فقہ شخصی فقہ نہیں بلکہ مشاورتی اور اجتماعی فقہ ہے جسے ایک اچھی خاصی علمی مجلس نے باہمی مشاورت اور کھلے علمی مباحثے کے ذریعے حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کی سربراہی میں مدون و مرتب کیا ہے۔

اس سلسلہ میں تیسری گزارش میں یہ کرنا چاہوں گا کہ آج ہمارا بڑا قومی مسئلہ کرپشن، نا اہلی اور بد دیانتی کا بتایا جاتا ہے۔ کرپشن ہمارے مزاج کا حصہ بنتی جا رہی ہے اور دیانت و امانت کو بے وقوفی اور نارسائی سمجھا جانے لگا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ کی ذاتی زندگی اور ان کی امانت و دیانت اس بارے میں ہماری راہنمائی کرتی ہے اور ہمارے لیے اسوہ اور آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دیانت و امانت کا ایسا اعلٰی معیار دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جسے دیکھ اور اپنا کر کرپشن اور بد دیانتی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے۔ اس کے بیسیوں واقعات میں سے صرف ایک کا تذکرہ بطور نمونہ کروں گا کہ امام ابوحنیفہؒ ایک بیمار دوست کی بیمار پرسی کے لیے اس کے گھر گئے جو اُن کے وہاں بیٹھے بیٹھے فوت ہوگیا۔ اس کے فوت ہونے کے بعد امام صاحبؒ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے سامنے جلتے ہوئے دیے کو پھونک مار کر بجھا دیا اور ایک دوست کو پیسے دیے کہ بازار سے نیا دیا لا کر یہاں جلا دو۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ اس کی زندگی میں یہ دیا اس کی ملکیت تھا اور ہم اس کے مہمان تھے مگر اس کے مرنے کے بعد یہ دیا اس کے ورثاء کی مشترکہ ملکیت میں چلا گیا ہے اور مشترکہ چیز کو شرکاء کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے کو میں پسند نہیں کرتا۔

آج کرپشن کے خاتمے اور اس کی حوصلہ شکنی کے لیے اسی قسم کے کردار کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں آج کے حالات میں امام اعظمؒ سے صحیح راہنمائی حاصل کرنے کی توفیق دے، آمین یا رب العالمین۔