سمندری کا سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

خاصے عرصے کے بعد سمندری جانے کا اتفاق ہوا۔ حضرت مولانا محمد علی جانباز رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں مسلسل سرگرم عمل رہتے تھے۔ گھنٹہ گھر چوک کے پاس ایک مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ مجھے اس دور میں ان کی خدمت میں وہاں حاضر ہونے کا موقع ملا ہے، اس کے بعد ان کے فرزند مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ کے ساتھ جمعیۃ طلباء اسلام اور جمعیۃ علماء اسلام میں طویل رفاقت کا دور گزرا۔ تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ساتھ رہا۔ ہمارے درمیان بے تکلف دوستی اور رفاقت کا تعلق تھا، پھر ان کی رفتار تیز ہوگئی اور میری سست روی پاؤں کی زنجیر بن کر رہ گئی۔

گزشتہ روز سمندری حاضری کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اب تیسری پشت بھی دینی جدوجہد کے خاندانی ذوق سے پوری طرح بہرہ ور اور اس کے لیے مسلسل مصروفِ محنت ہے۔ مولانا ریحان محمود ضیاء، مولانا ابوبکر فاروقی اور مولانا محمد علی جانبازؒ کے دیگر پوتوں کی سرگرمیاں باعث مسرت ہوئیں۔ مجھے مولانا محمد ابوبکر فاروقی نے جمعرات کو حدیث نبویؒ کے حوالہ سے عشاء کے بعد ایک مجلس میں گفتگو کے لیے دعوت دی تھی۔ حسبِ معمول صبح اسباق سے فارغ ہو کر گوجرانوالہ سے روانہ ہوا اور ڈجکوٹ روڈ فیصل آباد میں حافظ محمد ریاض قادری کے قائم کردہ ’’قرآن سنٹر‘‘ میں کچھ وقت گزارا۔ یہ سنٹر بیک وقت تعلیمی، اشاعتی، تربیتی اور خانقاہی دائروں میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ نماز عصر کے بعد نمازیوں سے مختصر گفتگو کے بعد حافظ محمد ریاض قادری صاحب کے ہمراہ سمندری کا سفر ہوا۔ راستہ میں ڈجکوٹ کے مقام پر ایک بزرگ دوست مولانا عبد الجبار نے اپنے مدرسہ جامعہ تعلیم القرآن میں کچھ دیر رُکنے کے لیے کہہ رکھا تھا، مغرب کی نماز وہاں ادا کی اور عشاء تک ہم سمندری پہنچ گئے۔

مولانا محمد ابوبکر فاروقی نے نوجوانوں میں حدیث نبویؐ کے مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے کے لیے مہم شروع کر رکھی ہے اور ’’حدیث کوئیز‘‘ کے عنوان سے معلوماتی انعامی مقابلوں کا پروگرام طے کیا ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے سینکڑوں سوالات اور ان کے جوابات پر مشتمل ایک معلوماتی کتاب انہوں نے ’’علوم حدیث کا انسائیکلو پیڈیا‘‘ کے نام سے مرتب کر کے شائع کی ہے جو مختلف علوم حدیث کے بارے میں بیش بہا معلومات کا ذخیرہ اور مصنف کے ذوق و شوق کی علامت ہے۔ مجھے یہ سلسلہ اچھا لگا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اس کارِ خیر کا دائرہ سمندری تک محدود نہ رہے۔ عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد محمدی میں ایک اجتماع میں حدیث نبویؐ کی حجیت اور افادیت و ضرورت کے عنوان پر گفتگو کی اور عرض کیا کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کے مطابق حدیث نبویؐ قرآن کریم کی صرف شرح نہیں ہے بلکہ قرآن کریم تک رسائی کا ذریعہ بھی ہے، اس لیے کہ قرآن کریم کے الفاظ، آیات، سورتیں اور ترتیب سب کچھ ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعہ ملا ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ سورۃ القلم کی پہلی پانچ آیات کو ہم قرآن کریم کی سب سے پہلی وحی مانتے ہیں تو اس کا علم ہمیں غارِ حرا کے واقعہ کے ذریعہ ہوا ہے جو حدیث نبویؐ کے طور پر روایت ہو کر ہم تک پہنچا ہے۔ اگر اس واقعہ اور اس کی روایت پر ایمان ہوگا تو قرآن کریم کی اِن پہلی آیات پر ایمان ہوگا اور اگر خدانخواستہ اس واقعہ اور روایت کو حجت نہ مانا جائے تو قرآن کریم کی سب سے پہلی آیات تک رسائی کے لیے ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے جب کوئی صاحب پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد حدیث پر ایمان لانا بھی ضروری ہے؟ تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے کہ حدیث پر ایمان ہوگا تو قرآن پر ایمان ہوگا اور حدیث کے بغیر قرآن کریم کی کسی سورت اور آیت تک رسائی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔

بہرحال سمندری کا یہ سفر مختلف حوالوں سے خوشی اور اطمینان کا باعث ہوا، اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد علی جانبازؒ اور مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ کے خاندان کو دینی جدوجہد میں اپنے بزرگوں کی روایات کو زندہ رکھنے کی توفیق دیں اور نظر بد سے ان کی حفاظت فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔