متحدہ مجلس عمل کا ملین مارچ اور مولانا سمیع الحق شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ نومبر ۲۰۱۸ء

کراچی کے کامیاب ملین مارچ کے بعد متحدہ مجلس عمل نے ۱۵ نومبر جمعرات کو لاہور میں ملین مارچ کا اعلان کیا ہے اور اس کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

۱۲ نومبر پیر کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا مشترکہ اجلاس اہل حدیث راہنما مولانا حافظ محمد امین محمدی کی صدارت میں منعقد ہوا جس سے خطاب کرنے والوں میں سید احمد حسین زید، حافظ امجد محمود معاویہ، قاری جواد قاسمی اور علامہ کاظم علی ترابی بھی شامل تھے۔ اجلاس کی عمومی رائے یہ تھی کہ اس قسم کے پر امن عوامی مظاہرے دینی جدوجہد کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں اور تمام مکاتب فکر کو ان میں بھرپور حصہ لینا چاہیے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی طرز کی کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت دوبارہ تشکیل دی جائے اور اسے ملک بھر میں ہر سطح پر متحرک کیا جائے۔ اجلاس کی یہ متفقہ رائے تھی کہ تحفظ ناموس رسالت، تحفظ ختم نبوت اور ملک کی اسلامی شناخت کے تحفظ کی جدوجہد کے لیے قومی سطح کے مشترکہ فورم کو ملک کی عمومی سیاسی کشمکش سے الگ رکھتے ہوئے تمام مسالک، طبقات اور جماعتوں کو اعتماد میں لے کر تحریک کو منظم کرنا چاہیے۔

۱۳ نومبر منگل کو جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ میں حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار کا اہتمام تھا جس میں مولانا شہیدؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ عمومی دینی جدوجہد کی صورتحال بھی گفتگو کا موضوع بنی اور کم و بیش اسی رائے کا اظہار کیا گیا جس کا گوجرانوالہ کے حوالہ سے سطور بالا میں ذکر ہوا ہے۔ اس تعزیتی سیمینار میں جمعیۃ علماء اسلام (س) سیالکوٹ کے امیر حافظ احمد مصدق قاسمی، جماعت اسلامی کے راہنما جناب عبد القدیر راہی اور اہل حدیث راہنما مفتی کفایت اللہ شاکر کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ اہل حق کے جری نمائندہ اور اکابر کی روایات کے امین تھے جن کی المناک شہادت سے ہر باشعور مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئی نسل کے لیے مولانا سمیع الحقؒ کی جدوجہد اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان علماء کرام اور دینی کارکن ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ اس محفل میں چند پہلوؤں کی طرف مختصرًا اشارہ کروں گا۔

  • مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی زندگی کا ایک دائرہ یہ ہے کہ وہ ایک کامیاب مدرس اور محدث تھے، ان کی ساری زندگی تدریس و تعلیم میں گزری اور ہزاروں علماء و طلبہ نے ان سے استفادہ کیا۔
  • ان کی جدوجہد کا ایک دائرہ صحافت اور تصنیف و تالیف کا تھا جس کا انہوں نے ماہنامہ الحق سے آغاز کیا اور دینی لٹریچر میں مختلف حوالوں سے قیمتی اضافہ کرتے چلے گئے۔ فکری الحاد اور نظریاتی گمراہیوں کا مسلسل تعاقب کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دینی جدوجہد کی یادداشتوں، دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کو محفوظ و مرتب کرنے کا جو کام کیا ہے صرف وہ کام ہی کئی اداروں کے کام سے زیادہ وقعت کا حامل ہے۔
  • ۱۹۷۳ء کے دستور کی تشکیل و تدوین میں جن شخصیات نے دستور ساز اسمبلی میں سب سے زیادہ کام کیا ان میں حضرت مولانا عبد الحقؒ کا نام نمایاں ہے جبکہ ان کی اس علمی و دستوری جدوجہد کے پس منظر میں مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی شبانہ روز محنت کی نمایاں جھلک دکھائی دیتی ہے۔
  • ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو ایوان کے اندر مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، پروفیسر غفور احمدؒ اور مولانا عبد المصطفٰی ازہریؒ جیسے بزرگوں کی محنت نمایاں تھی مگر ان کی پشت پر مولانا سمیع الحقؒ، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا عبد الرحیم اشعرؒ جیسے اہل علم تحقیقی خدمات اور پیپرورک میں مسلسل مصروف رہے اور ان کا اس محنت میں بڑا حصہ ہے۔
  • جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں مولانا سمیع الحقؒ اور مولانا قاضی عبد اللطیفؒ نے سینٹ آف پاکستان میں قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کے لیے ’’شریعت بل‘‘ پیش کیا تو ملک بھر میں اس کے لیے ہر سطح پر جدوجہد منظم ہوئی اور قاضی حسین احمدؒ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ، مولانا معین الدین لکھویؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ساتھ ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم پر پورے ملک میں پرجوش تحریک کا ماحول پیدا کر دیا۔
  • افغانستان میں سوویت یونین کی لشکر کشی کے بعد افغان قوم کے جہاد آزادی کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور حضرت مولانا عبد الحقؒ نے مجاہدین اور نظریاتی کارکنوں کی جو کھیپ فراہم کی وہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اور میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اسلامی تعلیمات کے فروغ، اسلامی روایات و تہذیب کے تحفظ اور فکری و اعتقادی فتنوں کے مقابلہ میں جو کردار دارالعلوم دیوبند نے پورے جنوبی ایشیا میں ادا کیا اسی کردار کو وسطی ایشیا کے دروازے پر بیٹھ کر دارالعلوم حقانیہ نے وسطی ایشیا میں پھیلا دیا اور میرے نزدیک دارالعلوم حقانیہ کو دیوبند ثانی قرار دینے کا مطلب یہی ہے۔ جبکہ اس جہاد میں بھی مولانا سمیع الحقؒ کے کردار اور محنت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور اب اسی جہاد افغانستان کو اس کے نظریاتی اہداف اور فطری ثمرات سے محروم کر دینے کے لیے امریکہ کی قیادت میں جو عالمی گٹھ جوڑ مسلسل متحرک ہے اس کے خلاف بھی مولانا سمیع الحق شہیدؒ ایک مضبوط آواز اور رکاوٹ کی حیثیت رکھتے تھے۔ امریکی اتحاد جو مقابلہ میدان جنگ میں نہیں جیت سکا اسے وہ مذاکرات کی میز پر اپنے حواریوں کے ذریعے جیتنا چاہتا ہے، اس چال کو مولانا سمیع الحقؒ اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کا مقابلہ بھی کر رہے تھے۔ ان حالات میں مولانا کی شہادت دینی حلقوں اور جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بطور خاص بہت بڑا صدمہ ہے۔

اللہ تعالٰی مولانا سمیع الحق شہیدؒ کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ان کے ورثاء و متوسلین کو ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔