مجلس علماء اسلام پاکستان کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ابن امیر شریعتؒ مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی دعوت پر ان کی شبانہ روز مساعی کے نتیجہ میں 18 نومبر کو اسلام آباد میں اہل السنۃ والجماعۃ دیوبندی مکتب فکر کی کم و بیش سب جماعتوں، حلقوں اور بڑے مراکز کے سربراہوں اور نمائندوں نے جمع ہو کر جو مشترکہ فورم قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، اس نے 9 دسمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں منعقدہ اجلاس میں ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ اتحاد کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس پر ملک بھر میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے اور دینی کارکنوں کی یہ امید ایک بار پھر زندہ ہوگئی ہے کہ دینی، قومی اور مسلکی فرائض اور ذمہ داریوں کو سر انجام دینے کے لیے اکابر کے مشترکہ سائے تلے حوصلہ و اعتماد کا ایک نیا اور امید افزا ماحول انہیں میسر آجائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس امید کو قائم رکھیں اور ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کو علماء اور کارکنوں کی اس امید پر پورا اترنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اس مشترکہ فورم کی سپریم کونسل کا اجلاس 9 دسمبر کو ملتان میں حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی صدارت میں منعقد ہوا جس کے شرکاء میں مولانا عبد المجید لدھیانوی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا محمد طیب طاہری، مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، حافظ حسین احمد، مولانا محمد یوسف رحیم یار خان، پیر سید کفیل شاہ بخاری، مولانا سید معاویہ امین مخدوم پوری، مولانا امداد اللہ نور، مولانا مفتی محمد کراچی، مولانا بشیر احمد شاد، مولانا اعجاز احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا خلیل الرحمن حقانی، مولانا عبد الحئی دھیر کوٹ، مولانا محمد عمر قریشی، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا عبد الغفار تونسوی، مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری محمد رفیق وجھوی، مولانا بدر عالم چنیوٹی اور راقم الحروف ابوعمار زاہد الراشدی کے علاوہ دیگر علماء کرام بھی شامل تھے۔

اجلاس کے فیصلے متعدد اخبارات میں مختلف صورتوں میں شائع ہو چکے ہیں، مگر انہیں یکجا ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

اجلاس میں صدر اجلاس حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر نے اپنی مصروفیات اور علالت کے باعث اس منصب کو قبول کرنے سے معذرت کی جسے پورے ہاؤس نے بیک آواز نا منظور کر دیا اور شرکاءِ اجلاس کے شدید اصرار پر حضرت ڈاکٹر صاحب محترم نے ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کے امیر کے طور پر ذمہ داریاں قبول کرنے پر آمادگی کا اظہار فرما دیا، فالحمد للہ علیٰ ذالک۔

اجلاس میں طے پایا کہ مجلس علماء اسلام پاکستان تین مجالس پر درج ذیل تفصیل کے ساتھ مشتمل ہوگی:

  • جنرل کونسل میں تمام دیوبندی جماعتوں کے سربراہ شامل ہوں گے اور اس کا پہلا باضابطہ اجلاس 14 جنوری کو کراچی میں ہوگا جبکہ جنرل کونسل کی حتمی فہرست رابطہ کمیٹی طے کرے گی۔
  • سپریم کونسل میں امیر مرکزیہ کے علاوہ اکیس ارکان شامل ہوں گے جن کے اسماء گرامی یہ ہیں: (۱) مولانا سلیم اللہ خان (۲) مولانا عبید اللہ اشرفی (۳) مولانا عبد المجید لدھیانوی (۴) مولانا فضل الرحمن (۵) مولانا سمیع الحق (۶) مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی (۷) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی (۸) مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ (۹) مولانا محمد طیب طاہری (۱۰) مولانا فداء الرحمن درخواستی (۱۱) مولانا مفتی عبد الرحیم (۱۲) مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری (۱۳) مولانا مفتی زر ولی خان (۱۴) علامہ محمد احمد لدھیانوی (۱۵) مولانا مفتی حمید اللہ جان (۱۶) مولانا سعید یوسف خان (۱۷) مولانا مفتی غلام الرحمن (۱۸) مولانا عبد الحفیظ مکی (۱۹) مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر (۲۰) مولانا عبد الصمد ھالیجوی (۲۱) مولانا مفتی محمد نعیم۔
  • مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی سربراہی میں گیارہ رکنی رابطہ کمیٹی ہوگی جس کے ارکان ان کے علاوہ یہ ہوں گے: (۱) مولانا حافظ حسین احمد (۲) مولانا عبد الرؤف فاروقی (۳) مولانا قاری محمد حنیف جالندھری (۴) مولانا الطاف الرحمن (جامعۃ الرشید) (۵) پیر سید کفیل شاہ بخاری (۶) مولانا اللہ وسایا (۷) ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں (۸) مولانا اشرف علی (۹) مولانا محمد عمر قریشی (۱۰) ابوعمار زاہد الراشدی۔
    رابطہ کمیٹی کے سربراہ کو مختلف ضروریات کے لیے ذیلی کمیٹیاں قائم کرنے کا اختیار ہوگا اور رابطہ کمیٹی باہمی اتفاق رائے سے اپنے ارکان میں رد و بدل اور اضافہ کر سکے گی۔
  • ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کی جنرل کونسل کا پہلا اجلاس 14 جنوری کو کراچی میں ہوگا جس کے انتظامات کی ذمہ داری مولانا مفتی محمد اور مولانا امداد اللہ نور کے سپرد کردی گئی۔ جبکہ 15 جنوری کو کراچی میں جلسہ عام منعقد ہوگا جس کے انتظامات کی نگرانی (۱) مولانا حافظ حسین احمد (۲) علامہ محمد احمد لدھیانوی اور (۳) حافظ احمد علی پر مشتمل کمیٹی کرے گی۔

اجلاس میں مندرجہ ذیل آٹھ نکات کی دوبارہ توثیق کی گئی اور طے پایا کہ ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کی تمام تر جدوجہد ان مقاصد کے حصول کے لیے اور ان کے دائرہ کے اندر ہوگی۔

  • پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ اور اسلامی نظام کا نفاذ۔
  • قومی خود مختاری اور اس کی سا لمیت و وحدت کا تحفظ۔ امریکہ اور دیگر طاغوتی قوتوں کے سیاسی، معاشی غلبہ و تسلط سے نجات۔
  • 1973ء کے دستور بالخصوص اسلامی نکات کی عملداری۔
  • تحفظ ختم نبوۃ، تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قوانین اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملداری کی جدوجہد۔
  • مقام اہل بیت عظام و صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا تحفظ۔
  • قومی تعلیمی نظام و نصاب میں غیر ملکی کلچر اور نظریات کے فروغ کی مذمت اور روک تھام۔
  • فحاشی و عریانی اور مغربی کلچر کے فروغ کی مذمت اور روک تھام۔
  • ملک کو فرقہ وارانہ نفرت انگیزی، اور شیعہ سنی اختلافات کو فسادات کی صورت اختیار کرنے سے روکنا۔

اجلاس میں مندرجہ ذیل دس نکاتی میثاق کی منظوری دی گئی، تمام شرکاء نے اس پر دستخط کیے اور طے پایا کہ ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ میں شامل جماعتوں، حلقوں اور ارکان کے لیے یہ ’’متفقہ ضابطہ اخلاق‘‘ ہوگا:

’’اہل السنۃ والجماعۃ علماء دیوبند کے متحدہ فورم ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ میں شامل جماعتوں اور حلقوں کے راہ نما اور نمائندہ حضرات عہد کرتے ہیں کہ:

  1. ہم آٹھ نکاتی پروگرام کو آگے بڑھانے اور اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے اہل حق کو متحد اور مربوط بنانے کے لیے پر خلوص محنت کریں گے۔
  2. ایک دوسرے کے احترام اور باہمی تعاون کی فضا کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔
  3. باہمی متنازعہ امور اور مسائل کو عوامی سطح پر زیر بحث لانے سے گریز کریں گے۔
  4. اپنے کارکنوں اور رفقاء کی ان امور کے حوالہ سے تربیت اور ذہن سازی کا اہتمام کریں گے۔
  5. خدا نخواستہ کسی سانحہ کی صورت میں کسی رابطہ یا دعوت کا انتظار کیے بغیر متاثرہ جماعت اور حضرات کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔
  6. مشترکہ مقاصد کے لیے مشترکہ مجالس اور اجتماعات کا ماحول عام کریں گے اور اس کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
  7. سپریم کونسل اور رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد میں حتی الوسع کسی کوتاہی کو روا نہیں رکھیں گے۔
  8. مشترکہ آٹھ نکاتی پروگرام کی ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ تشہیر کی کوشش کریں گے۔
  9. ملک کی عوامی رائے کو اس پروگرام اور ایجنڈے کے لیے ہموار کرنے میں ہر میسر ذریعہ استعمال کریں گے۔
  10. باہمی شکایات اور تنازعات کو آپس میں مل بیٹھ کر طے کریں گے اور اسے باہمی دائرے سے باہر لے جانے سے گریز کریں گے۔