دینی مدارس اور ہمارے معاشرے کی دینی ضروریات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جولائی ۲۰۱۶ء

شوال المکرم کے وسطی عشرہ کے دوران پورے جنوبی ایشیا میں پھیلے ہوئے ہزاروں بلکہ لاکھوں دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سال مختلف دینی مدارس میں تعلیمی سال کے افتتاح خصوصاً بخاری شریف کے سبق کے آغاز کی تقریبات میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جس کا سلسلہ ابھی جاری ہے، جبکہ ۱۸ شوال کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بھی مختصر گفتگو اور دعا کے ساتھ اسباق کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان مواقع پر کی جانے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل جنوبی ایشیا اور سارک ممالک میں ہر طرف دینی مدارس کے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریبات ہو رہی ہیں۔ اس لیے ان دینی مدارس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جو پورے جنوبی ایشیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کے اثرات اور دائرہ کار میں دن بدن توسیع دیکھنے میں آرہی ہے۔ پرائیویٹ سطح پر امداد باہمی کی بنیاد پر کسی سرکاری تعاون کے بغیر دینی مدارس کا یہ نظام جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے اور عالمی سطح پر اس کا کردار اور دائرہ تعلیم مستقل طور پر بہت سے حوالوں سے موضوع بحث ہے۔ لیکن اس وقت اس کے صرف ایک پہلو پر چند معروضات پیش کروں گا کہ اس نظام کی ضرورت کیا ہے اور اس قسم کے دینی مدارس جنوبی ایشیا کے علاوہ باقی دنیا میں اپنا اس طرح کا نظام کیوں نہیں رکھتے؟

ہمارے ایک عزیز شاگرد حافظ احسان اللہ ظفروال ضلع نارووال سے تعلق رکھتے ہیں، وہ گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت کے ساتھ بیرون ملک ایک سال لگا کر واپس آئے تو میں نے ان سے سفر کی روداد معلوم کرنا چاہی۔ ان کا زیادہ وقت سوڈان میں گزرا تھا اس لیے گفتگو کے دوران ان سے سوڈان کے دینی مدارس کے حالات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہاں ہماری طرح کے دینی مدارس کا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ سوڈان کے ریاستی تعلیمی نظام میں دینی تعلیم باقاعدہ طور پر شامل ہے اور سرکاری سکولوں اور کالجوں میں تعلیم پانے والے طلبہ اور طالبات کو انٹرمیڈیٹ تک قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ و شریعت کا ایک متوازن نصاب اس طرح پڑھا دیا جاتا ہے کہ دینی تعلیم کے لیے الگ نظام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

میرے خیال میں دیگر عرب ممالک میں بھی اسی قسم کی صورتحال ہے کہ عربی زبان مستقل طور پر الگ سے پڑھانے کی وہاں ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ صرف و نحو اور ادب و معانی سے متعلقہ مضامین ان کے معمول کے نصاب کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور دینی تعلیم کے حوالہ سے ان کی ضرورت صرف یہ رہ جاتی ہے کہ قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ و شریعت کا متوازن سا نصاب طلبہ اور طالبات کو پڑھا دیا جائے جو کہ اکثر عرب ممالک میں پڑھایا جا رہا ہے۔

لیکن ہمارے ہاں صورتحال دو حوالوں سے مختلف ہے۔ ایک اس حوالہ سے کہ قرآن و حدیث اور دیگر علوم تک رسائی کے لیے عربی زبان کی اس درجہ کی تعلیم ہماری بنیادی ضرورت ہے جس سے یہ رسائی مہارت کی حد تک حاصل ہو جائے، چنانچہ ہمارے درس نظامی کے نصاب کا ایک بڑا حصہ ان فنون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسی طرح فارسی زبان کی تعلیم بھی ہمارے لیے ایک حد تک ضرورت کا درجہ رکھتی ہے کہ صدیوں تک یہ ہماری دفتری، عدالتی اور تعلیمی زبان رہی ہے اور ہمارے علوم کا ایک بڑا حصہ اس زبان میں محفوظ ہے۔ اور دوسرا اس حوالہ سے کہ ہمارا ریاستی نظام دینی تعلیم کو اپنی ذمہ داری میں شامل کرنے کے لیے ابھی تک تیار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ دینی تعلیم کا بالکل ابتدائی درجہ جس میں صرف ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے اسے بھی سرکاری تعلیمی نصاب کا کبھی حصہ نہیں بنایا گیا۔ کچھ عرصہ قبل وفاقی محتسب اعلیٰ نے وزارت تعلیم کو حکم دیا تھا کہ ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم کو سرکاری سکولوں میں یقینی بنایا جائے تو اس پر یہ کہہ کر باقاعدہ معذرت کر دی گئی کہ ہمارے پاس سکولوں کی تعداد کے مطابق قرآن کریم پڑھانے والے اساتذہ کی فراہمی اور ان کی تنخواہوں کے لیے فنڈز کا بندوبست موجود نہیں ہے اس لیے اس حکم پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ جو تعلیمی نظام ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ معاشرہ میں دینی تعلیم کی ضروریات کو پورا کرے گا، محض خوش فہمی بلکہ خود فریبی ہی کہلا سکتا ہے۔

دوسری طرف دینی تعلیم کے حوالہ سے معاشرتی ضروریات پر ایک نظر ڈال لی جائے:

  1. مساجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام، جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے خطیب، اور بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لیے حفاظ و قاریوں کی ضرورت ہے جو ظاہر ہے کہ ضروری دینی تعلیم سے آراستہ ہونے چاہئیں۔
  2. دینی مدارس میں دینی علوم کے مختلف شعبوں میں تعلیم دینے کے لیے مستند اور تجربہ کار اساتذہ ہماری اہم ضرورت ہیں۔
  3. عام مسلمانوں کو حلال و حرام، جائز و ناجائز، اور فرائض و واجبات کے ضروری مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے مستند مفتی صاحبان کی ضرورت سے کون انکار کر سکتا ہے، وغیر ذٰلک۔

یہ چند ضروریات بالکل عام سطح کی ہیں جن کا ماحول عملاً موجود ہے اور جن کا تقاضہ ملک بھر میں عام طور پر مسلسل جاری رہتا ہے۔ اگر ملک کے دستوری تقاضوں کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے مطابق انتظامی و عدالتی نظام کو بھی قومی اور معاشرتی ضرورت سمجھ لیا جائے تو ان ضروریات کا دائرہ بہت پھیل جاتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف ان معاشرتی دینی ضروریات کو دیکھ لیں اور دوسری طرف ریاستی تعلیمی نظام پر نظر ڈال لیں کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اس صورتحال میں دینی مدارس کے موجودہ نظام کی صحیح قدر و قیمت سامنے آتی ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دینی مدارس ہماری کس درجہ کی معاشرتی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں اور کتنے بڑے خلاء کو پر کیے ہوئے ہیں۔

بلاشبہ یہ دینی مدارس ہمارے لیے نعمت خداوندی ہیں اور مسلم معاشرہ میں عام مسلمان کا قرآن و سنت کے ساتھ تعلق باقی رکھنے کے ساتھ ساتھ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا شعور بیدار کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں نظر بد سے بچائیں اور ہر قسم کی سازشوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اپنا معاشرتی کردار جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔