پاکستانی محنت کش اور متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء
اصل عنوان: 
متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ

رائٹر کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حصول روزگار کے لیے آنے والے محنت کشوں کے لیے جو نیا قانون بنایا ہے اس کی رو سے ان تمام افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا جن کے پاسپورٹوں پر لکھے ہوئے پیشے اور ملازمت کے ویزوں میں درج شدہ پیشوں میں مطابقت نہیں ہوگی۔

کچھ عرصہ سے حصول روزگار کے لیے ملک سے باہر جانے کے رجحان نے جو وسعت اور ہمہ گیری پیدا کی ہے اس کے پیش نظر مذکورہ بالا ضابطہ کا اثر سب سے زیادہ شاید پاکستانیوں پر پڑے، کیونکہ ناعاقبت اندیش ایجنٹوں اور غیر ذمہ دار ٹریول ایجنسیوں نے ہر جائز و ناجائز طریقہ سے لوگوں کو دوسرے ممالک میں پہنچانے کے دھندے کو باقاعدہ کاروبار کی شکل دے رکھی ہے۔ اور ہزاروں پاکستانی اس مذموم کاروبار کے نتیجے میں بیرون ملک نہ صرف خود پریشان ہوتے ہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے بدنامی اور رسوائی کا باعث بھی بنتے ہیں۔

ہم اس سے قبل بھی ان کالموں میں اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ بیرون ملک جانے کے اس رجحان اور کاروبار کو کسی نظم و ضبط اور نظام کے دائرہ میں لانا ضروری ہے اور حکومت کو اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس سلسلہ میں ٹھوس لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ تاکہ باہر جانے والی افرادی قوت ملک و قوم کے لیے اقتصادی لحاظ سے فائدے کا ذریعہ بننے کے ساتھ ساتھ قومی وقار اور ملکی عزت کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔

اس رائے کے اعادہ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے نئے ضابطے کے سلسلہ میں حکومت پاکستان سے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے پاکستانیوں کو مزید نقصان او رجگ ہنسائی سے بچانے کے لیے فورًا کوئی مؤثر اور ٹھوس قدم اٹھایا جائے۔