ڈسکہ میں مولانا سمیع الحق شہیدؒ سمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ نومبر ۲۰۱۹ء

دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کے مہتمم مولانا محمد ایوب خان ثاقب نے ۵ نومبر ہفتہ کو ظہر کے بعد حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک سیمینار کا اہتمام کیا جس میں مختلف اصحاب علم و فکر کے ساتھ میں نے بھی کچھ گزارشات پیش کیں، ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے:

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ مولانا سمیع الحق شہیدؒ ہماری ملی و دینی جدوجہد کی تاریخ کے ایک مستقل باب کا عنوان ہیں اور ان کی خدمات کا اس مختصر گفتگو میں تفصیلی تذکرہ ممکن نہیں ہے، البتہ چند باتیں عرض کر دیتا ہوں کہ مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر کام کی ضرورت ہے اور ان کے تلامذہ و رفقاء کو اس کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔

مثلاً ایک پہلو یہ ہے کہ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالٰی کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی، سیاسی و تحریکی جدوجہد کے رفیق کار بھی رہے ہیں۔ ان میں سے ایک دو کا مثال کے طور پر ذکر کر دیتا ہوں کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی تیاری میں دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حضرت مولانا عبد الحقؒ کا بڑا حصہ ہے اور وہ دستور ساز اسمبلی کے حاضر باش اور متحرک ارکان میں سے تھے اور انہیں ہوم ورک اسٹڈی، لابنگ اور فائل ورک کے شعبوں میں مولانا سمیع الحقؒ کا تعاون حاصل تھا۔ اسی طرح ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران پارلیمنٹ میں ارکان اسمبلی کو قادیانیت کے مسئلہ پر بریفنگ، دلائل اور ضروری علمی مواد فراہم کرنے والے حضرات میں مولانا سمیع الحقؒ، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا عبد الرحیم اشعرؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

اس کے بعد مولانا شہیدؒ کی جدوجہد کا ایک بڑا باب ’’شریعت بل‘‘ کی جدوجہد ہے جو انہوں نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں مولانا قاضی عبد اللطیف ؒ کے ساتھ مل کر سینٹ آف پاکستان میں پیش کیا اور اس کے لیے پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ عوامی اور علمی محاذوں پر بھی جدوجہد کو منظم کیا۔ یہ تینوں محاذ الگ الگ تھے اور تینوں شعبوں میں مولانا سمیع الحق شہیدؒ کا کردار قائدانہ رہا ہے، جبکہ اس میں مجھے بھی ان کی رفاقت کا شرف حاصل تھا۔ عوامی سطح پر ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ قائم کر کے تمام مکاتب فکر کو ’’شریعت بل‘‘ کی حمایت میں منظم کیا گیا جس کی قیادت حضرت مولانا عبد الحقؒ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ، مولانا معین الدین لکھویؒ، مولانا وصی مظہر ندویؒ، مولانا قاضی عبد اللطیفؒ، قاضی حسین احمدؒ، اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسے سرکردہ بزرگوں نے کی۔ شریعت بل کے مسودہ کو سب علمی، پارلیمانی اور سیاسی حلقوں کے لیے قابل قبول بنانے کی محنت ایک مستقل جدوجہد کی حیثیت رکھتی ہے جو اُن سب نے مل کر کی، جبکہ عوامی محاذ پر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر عوامی مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے علماء کرام اور دینی جماعتوں کے کارکن ہزاروں کی تعداد میں اسلام آباد میں جمع ہوئے۔

مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی تگ و تاز کا ایک بڑا دائرہ ’’جہاد افغانستان‘‘ بھی ہے جس کے لیے ’’دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک‘‘ بلاشبہ علمی و فکری ’’بیس کیمپ‘‘ ثابت ہوا۔ دارالعلوم حقانیہ کو دارالعلوم دیوبند ثانی کہا جاتا ہے جو میرے خیال میں اس حوالہ سے درست ہے کہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم اکوڑہ خٹک میں بیٹھ کر حضرت مولانا عبد الحقؒ اور دارالعلوم حقانیہ نے دارالعلوم دیوبند کے فیضان کو وسطی ایشیا کی ریاستوں تک پہنچایا، جبکہ روسی استعمار کے خلاف جہاد افغانستان کو علمی و فکری پشت پناہی مہیا کی۔ میں اکثر عرض کیا کرتا ہوں کہ جب روسی استعمار نے افغانستان کو اپنے اثر و رسوخ کے دائرہ میں شامل کرنے کے لیے فوجیں اتاریں اور اس کے عسکری تسلط کے خلاف علماء افغانستان نے جہاد کا اعلان کیا تو پاکستان میں انہیں علماء کے حلقہ میں سب سے زیادہ تین بزرگوں کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہوئی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ، حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ پاکستان میں جہاد افغانستان کے پشتیبان بنے اور اسے مکمل سپورٹ فراہم کی۔ اس سارے عمل میں مولانا سمیع الحقؒ کا کلیدی کردار رہا ہے اور انہوں نے نہ صرف علم و قلم کے ذریعے بلکہ تحریک و سیاست اور رائے عامہ کو منظم و ہموار کرنے میں بھی مسلسل محنت کی۔

مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی جدوجہد کے صرف چند پہلوؤں کا میں نے ذکر کیا ہے ورنہ تدریس و تعلیم اور صحافت بھی ان کا مستقل دائرہ کار تھا اور کسی شعبہ میں ان کی خدمات دوسرے شعبہ سے کم نہیں ہیں۔ اصل ضرورت دارالعلوم حقانیہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ، مولانا سمیع الحق شہیدؒ اور ان کے رفقاء کی اس محنت اور کردار کو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ کرنے کی ہے جس پر ان کے متعلقین کو توجہ دینی چاہیے۔ آج کل ایسے کاموں کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ عنوانات اور دائروں کا تعین کر کے فاضل علماء کرام اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبہ کو مقالات کے لیے تیار کیا جائے، ان کی راہنمائی کی جائے اور انہیں ضروری مواد فراہم کیا جائے تاکہ ایم فل یا پی ایچ ڈی کے مختلف مقالوں کی صورت میں اس علمی، فکری، سیاسی اور تحریکی جدوجہد کو منظم طور پر تاریخ میں محفوظ کیا جا سکے۔

مولانا محمد ایوب خان ثاقب کو اس سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے اس میں شرکت کا موقع دینے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ان کے سلسلہ خیر کو ہمیشہ جاری رکھیں، آمین یا رب العالمین۔