اسلامک تھنک ٹینک اور ورلڈ اسلامک فورم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ مارچ ۲۰۱۵ء

گزشتہ روز ایک قومی اخبار میں اسلامک تھنک ٹینک کی سرگرمیوں کے حوالہ سے دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک خبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس کا ذکر ہے جس سے خطاب کرنے والوں میں جناب سرتاج عزیز، جناب مشاہد حسین سید اور جناب نیر حسین بخاری شامل ہیں، جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامک تھنک ٹینک کے ذمہ دار حضرات نے اپنے فورم کا نام تبدل کر کے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں تک اس فورم کے مقاصد اور سرگرمیوں کا تعلق ہے، وہ آج کی فکری ضروریات میں سے ہیں اور دنیائے اسلام میں اس قسم کے اداروں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے جو فکری بیداری کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر بحث و مکالمہ اور ان کے حل کے لیے مشترکہ علمی، تحقیقی و فکری کاوشوں کا اہتمام کر سکیں، اس لیے کہ آج ہمارے ہاں سب سے زیادہ کمی حالات سے صحیح آگاہی اور حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مسائل کے تجزیہ اور ان کے حل کے ذوق کی ہے۔ چنانچہ دنیائے اسلام میں کہیں بھی اس طرز کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو وہ ہمارے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہے اور ہم نہ صرف اس کا خیر مقدم کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ تعاون کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ البتہ اسلامک تھنک ٹینک کو ورلڈ اسلامک فورم کا نام دینے کا فیصلہ ہمارے خیال میں محل نظر ہے اس لیے کہ اس نام سے ایک فورم کم و بیش ربع صدی سے سرگرم عمل ہے۔

1990ء کی بات ہے جب لندن میں چند اہل فکر علماء کرام نے مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں ورلڈ اسلامک فورم کی بنیاد رکھی تھی اور راقم الحروف کے علاوہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور مولانا محمد عمران خان جہانگیریؒ کو اس کے بانی ارکان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ کئی برسوں تک راقم الحروف اس کا چیئرمین اور مولانا محمد عیسیٰ منصوری سیکرٹری جنرل رہے، جبکہ کچھ عرصہ سے مولانا منصوری اس کے چیئرمین اور مفتی برکت اللہ سیکرٹری جنرل ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ اور عالم اسلام کے مختلف مسائل پر لندن، برمنگھم، ڈھاکہ، سلہٹ، دہلی، لکھنو، اسلام آباد، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ اور دیگر اہم شہروں میں بیسیوں علمی و فکری سیمینار ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام منعقد ہو چکے ہیں۔ اور ان سے خطاب کرنے والوں میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ، مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، جناب محمد صلاح الدین مرحوم، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، ڈاکٹر سید سلمان ندوی، ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم، مولانا سید سلمان الحسنی، ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی اور مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری کے علاوہ آکسفورڈ کے معروف نو مسلم دانش ور ڈاکٹر یحییٰ برٹ بھی شامل ہیں۔ فورم کا صدر دفتر لندن میں ہے اور اس کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری پورا سال مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ ابھی دو ماہ قبل انہوں نے بھارت اور پاکستان کا تفصیلی دورہ کیا ہے اور پاکستان میں لاہور، ملتان، اسلام آباد، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں درجن بھر اجتماعات سے خطاب کیا ہے۔

ورلڈ اسلامک فورم کے قیام اور سرگرمیوں کا بنیادی ہدف امت مسلمہ میں فکری بیداری پیدا کرنا اور علمی و فکری حلقوں کے درمیان رابطہ و اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ فورم نے کچھ عرصہ قبل دعوہ اکیڈمی اسلام آباد اور مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم کے تعاون سے ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کا اہتمام کیا تھا جو کئی سال تک جاری رہا اور یورپی ممالک کے ہزاروں افراد نے بذریعہ ڈاک اس سے استفادہ کیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل کے حقیقت پسندانہ تجزیہ، تعلیم کے فروغ، معروضی حالات سے صحیح آگاہی، معاصر فکری حلقوں کی سرگرمیوں اور اہداف سے شناسائی، اسلام اور امت مسلمہ کو درپیش عصری مسائل اور چیلنجز کا تدبر و حوصلہ کے ساتھ سامنا، اور ارباب فکر و دانش کے باہمی رابطہ و مشاورت کے ذریعہ ہی عالم اسلام کو مشکلات و مسائل کے مجوزہ بھنور سے نکالا جا سکتا ہے اور اس میں ہر حلقہ و طبقہ کے ارباب و فکر و دانش اور خاص طور پر علماء کرام، اساتذہ اور میڈیا ماہرین کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ توجہ اور محنت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس لیے اسلامک تھنک ٹینک جس سطح پر اور جس انداز میں کام کر رہا ہے اور اپنے دائرہ میں وسعت اور تنوع پیدا کرنے کی جو منصوبہ بندی کر رہا ہے، وہ خوش آئند ہے جس کے ساتھ ہر صاحب فکر کو تعاون کرنا چاہیے۔ مذکورہ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فورم کی آئندہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری سینیٹ آف پاکستان کے رکن جناب مشاہد حسین اور ترک دانش ور جناب سلیمان سنپے کو سونپی گئی ہے۔ ہم ان دونوں دوستوں کو اس کار خیر میں تعاون کا یقین دلاتے ہوئے دعا گو ہیں کہ وہ اپنے اچھے مقاصد میں مسلسل ترقیات و ثمرات سے بہرہ ور ہوں۔ مگر ساتھ ہی یہ درخواست بھی ہے کہ کسی بڑے محل کی تعمیر کے لیے چند فقیروں کی جھونپڑی کو بلڈوز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس حوالہ سے اگر اسلامک تھنک ٹینک اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کر سکے تو یہ بہرحال فکر و دانش کا درست استعمال تصور کیا جائے گا۔