دینی مقاصد کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ اپریل ۲۰۱۶ء

گوجرانوالہ کی فضا اس حوالہ سے بحمد اللہ تعالٰی بہت بہتر ہے کہ کسی قومی، دینی یا شہری مسئلہ پر جب بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، دینی جماعتوں کے راہنما اور تاجر تنظیموں کے نمائندہ حضرات جمع ہو جاتے ہیں اور نہ صرف مشترکہ موقف طے کرتے ہیں بلکہ اس کا اجتماعی اظہار بھی کر دیتے ہیں۔ مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ اس سلسلہ میں ہمیشہ سے مرکز چلی آرہی ہے جہاں بحمد اللہ تعالٰی گزشتہ نصف صدی سے میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں اور ایسے اجلاسوں کا داعی ہونے کا یہ اعزاز عام طور پر مجھے ہی حاصل ہوتا ہے۔ یہ روایت ہمیں ورثہ میں ملی ہے، مجھ سے پہلے حضرت مولانا مفتی عبد الواحد، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مفتی جعفر حسن مجتہد، مفتی بشیر حسین قادری، مولانا عبد الرحمان جامی رحمہم اللہ تعالٰی اور مختلف مکاتب فکر کے دیگر اکابر اسی جامع مسجد میں وقتاً فوقتاً جمع ہو کر شہر کی اجتماعی راہنمائی کا اہتمام کرتے رہے ہیں، اس لیے میں اللہ تعالٰی کے حضور شکرگزار ہوں کہ یہ روایت قائم رکھنے کی توفیق مجھے ملتی رہتی ہے۔ بلکہ اگر کبھی ایسا اکٹھ کرنے میں تاخیر ہو جائے تو دوسرے مکاتب فکر کے علماء کرام شکوہ کرنے لگتے ہیں کہ کافی دنوں سے آپ نے کسی اجتماعی کام کے لیے یاد نہیں کیا، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔

گزشتہ دنوں منصورہ لاہور میں تمام مکاتب فکر کے دینی راہنماؤں نے ملک میں تحریک نظام مصطفٰیؐ کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا تو ہم نے بھی اس قومی آواز میں اپنی آواز شامل کرنے کے لیے مل بیٹھنے کا پروگرام بنا لیا۔ ۱۲ اپریل کو مرکزی جامع مسجد میں راقم الحروف کی دعوت پر ایک بھرپور نمائندہ اجلاس ہوا جس کے سرکردہ شرکاء میں مولانا خالد حسن مجددی، مولانا پروفیسر سعید احمد کلیروی، علامہ نصیر احمد اویسی، حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا حجاج اللہ صمدانی، مولانا شبیر احمد صدیقی، مولانا محمد عارف اثری، مولانا مشتاق احمد چیمہ، چودھری بابر رضوان باجوہ، مولانا محمد عارف شامی، مولانا حافظ محمد اکبر نقشبندی، مولانا اظہر حسین فاروقی، جناب فرقان عزیز بٹ، مولانا قاری محمد سلیم زاہد، حافظ محمد عثمان منصوری، ملک محمد جاوید چشتی، مولانا عطاء الرحمان ثاقب اور مولانا حافظ محمد عثمان شامل ہیں۔

اجلاس میں تمام مکاتب فکر کی طرف سے تحریک نظام مصطفٰیؐ چلانے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا اور اس سلسلہ میں بھرپور کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ گوجرانوالہ میں ۲۲ اپریل جمعۃ المبارک کو بعد نماز مغرب جامع مسجد بلال جی ٹی روڈ میں ’’نظام مصطفٰیؐ کانفرنس‘‘ منعقد کی جائے گی جس سے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ قائدین خطاب کریں گے۔ اس کانفرنس کے انتظامات کے لیے علامہ نصیر احمد اویسی کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں مولانا مشتاق احمد چیمہ، بابر رضوان باجوہ، حافظ گلزار احمد آزاد، فرقان عزیز بٹ، سید عمار پارے شاہ اور قاری عبد الحفیظ شامل ہیں۔ مولانا خالد حسن مجددی کی زیر صدارت اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی اس متفقہ قرارداد کا پرجوش خیرمقدم کیا گیا کہ دستور پاکستان کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور قانون کی حکمرانی قائم رکھی جائے گی۔ شرکائے اجلاس نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس فضا میں جبکہ دستور پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے پارلیمنٹ کا یہ اعلان خوش کن اور حوصلہ افزا ہے۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے کہا گیا کہ دستور کے بارے میں شکوک و شبہات بین الاقوامی سیکولر حلقوں کی طرف سے پاکستان کی نظریاتی شناخت اور قومی سالمیت کو مجروح کرنے کے لیے پھیلائے جا رہے ہیں جن کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا چاہیے۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے سرکاری حلقوں کے ان بیانات کو مسترد کر دیا گیا کہ غازی ممتاز قادری شہیدؒ کی اچانک پھانسی دستوری اور قانونی تقاضوں کے تحت ہوئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ توہین رسالتؐ کے سزا یافتہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے سے مسلسل گریز قانون و دستور کے تقاضوں کے حوالے سے سرکاری حلقوں کے بیانات کی مکمل نفی کے مترادف ہے۔ حکومت نے صرف غازی ممتاز قادریؒ کو اور وہ بھی اچانک پھانسی دے کر بین الاقوامی سیکولر حلقوں کے دباؤ اور ایجنڈے کو پورا کیا ہے جو ملکی و ملی تقاضوں کے یکسر منافی ہے اور ملک کی رائے عامہ نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی سے نام نہاد حقوق نسواں قانون کی منظوری بھی عالمی سیکولر قوتوں کے ایجنڈے کے تحت کرائی گئی ہے جس کا مقصد خاندانی نظام کو مغرب کی طرح سبوتاژ کرنا ہے، اور یہ قانون اس تسلسل کا حصہ ہے جو پاکستان کے خاندانی نظام کو مغرب کے فلسفہ و ثقافت کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق اس قانون پر نظرثانی کی جائے اور اسلامی معاشرتی خاندانی قوانین و احکام کو مغرب کی ثقافتی یلغار کی بھینٹ چڑھانے کی روش ترک کی جائے۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے کرپشن کو قومی زندگی کے لیے کینسر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کینسر کی جڑیں ہر سطح پر پھیلتی جا رہی ہیں اور حکمران طبقات قوم کو اس سے نجات دلانے کی بجائے خود اس کا حصہ بن گئے ہیں۔ قرارداد میں قومی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہر سطح پر کرپشن کے خلاف دستور و قانون کے مطابق ایکشن لیں اور قوم کو اس لعنت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے دینی اداروں اور مدارس کے خلاف توہین آمیز اقدامات اور دینی کارکنوں اور علماء کو گھروں سے اچانک اٹھا کر غائب کر دینے کی پالیسی پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسی کارروائیاں کرنے والے اداروں کو دستور و قانون کا پابند بنایا جائے اور خوف و ہراس پھیلانے کی روش ختم کی جائے۔ قرارداد میں جے جمعیۃ علماء اسلام (س) کے مرکزی راہنما مولانا عاصم مخدوم کو گھر سے اٹھا کر غائب کر دینے کی کارروائی کی مذمت کی گئی اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔

گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا یہ مشترکہ موقف ملک بھر کے احباب کی خدمت میں اس امید پر پیش کیا جا رہا ہے کہ دیگر شہروں کے علماء کرام اور دینی راہنما بھی اس قسم کے اجتماعات کے انعقاد اور مشترکہ موقف کے اظہار کے لیے سنجیدہ اور مؤثر پیشرفت کا اہتمام کریں گے۔

درجہ بندی: