لبنان کی صورتحال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۶ء

لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر پورے علاقہ کے لیے جنگی صورتحال پیدا کر دی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے نئی عالمگیر جنگ کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے لیکن عالم اسلام ابھی تک خواب خرگوش میں ہے اور مسلم دارالحکومتوں پر ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر چڑھ دوڑنے کے لیے اسی طرح کا بہانہ تراشا ہے جس طرح کا بہانہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے امریکہ نے تراشا تھا لیکن یہ بات واضح نظر آرہی ہے کہ بہانہ کوئی بھی ہو لبنان پر حملے کا پروگرام طے تھا البتہ اس بار امریکہ نے خود کوئی کاروائی کرنے کی بجائے اپنے ’’لے پالک‘‘ اسرائیل کو آگے کر دیا ہے جبکہ باقی سب وہی کچھ ہو رہا ہے جو اس سے قبل افغانستان اور عراق میں ہو چکا ہے اور نتیجہ بھی وہی سامنے آرہا ہے جو وہاں برآمد ہوا تھا کہ اس بہانے نیٹو کی فوج کو لبنان میں اتارنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ روزنامہ جنگ کراچی ۲۴ جولائی ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے اس انداز سے یہ اطلاع دنیا تک پہنچائی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان میں نیٹو کی فوجیں تعینات کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ گویا یہ بھی امریکہ اور اسرائیل کا لبنان اور عالم اسلام پر احسان ہوگا کہ وہاں خود قبضہ کرنے کی بجائے نیٹو کی فوج بھیج کر اس کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔

لبنان، شام اور ایران سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ شکایت ہے کہ وہ ان فلسطینی حریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں شریک نہیں ہو رہے بلکہ ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو اسرائیل کی ننگی جارحیت اور کھلی دہشت گردی کے مقابلے میں ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں، فلسطینیوں کے لیے باوقار آزادی اور خود مختاری سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہو رہے، اور اپنی جانوں کا مسلسل نذرانہ دے کر دنیا کو اپنے وجود اور زندگی کا احساس دلا رہے ہیں۔ اسی بنا پر لبنان کے عوام کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسرے ممالک کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال دنیا بھر کے ہر مسلمان کے لیے پریشان کن ہے، اضطراب انگیز اور اذیت ناک حد تک تکلیف دہ ہے لیکن مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ابھی تک اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اجتماعی طور پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کر سکیں اور مل بیٹھ کر فلسطین اور لبنان کے عوام کو کم از کم الفاظ کی صورت میں ہی تسلی دے سکیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، وہ مظلوم ہیں اور ہم اگر ان کے لیے عملاً کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم دعائیں ضرور دے رہے ہیں۔

اس صورتحال میں ہم اپنے لبنانی بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہیں، ان پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زبانی جمع خرچ اور گول مول باتیں کرنے کی بجائے اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلا کر فلسطینی عوام اور ان کے ساتھ لبنان کے عوام کو اس وحشیانہ دہشت گردی سے بچانے کے لیے جرأتمندانہ موقف اختیار کریں کیونکہ مسلم ممالک کے حکمران ہونے کے ناتے سے ان کی ملی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری یہی بنتی ہے۔

درجہ بندی: