کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ جنوری ۲۰۱۹ء

(سوشل میڈیا پر نشر کی گئی گفتگو کی تحریری شکل)

بعد الحمد والصلٰوۃ ۔ مجھے اس سوال پر گفتگو کرنی ہے کہ آج کل اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جو بات ہو رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان کا اصولی موقف کیا ہے؟ کیا موقف ہونا چاہیے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر کچھ گفتگو کرنا ہوگی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال صحیح طور پر سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔

آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا اور فلسطین کا سارا علاقہ خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا۔ بیت المقدس اور یہ پورا خطہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں فتح ہوا تھا اور حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراحؓ اس علاقہ کے فاتح ہیں۔ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے خود تشریف لا کر بیت المقدس کا چارج مسیحی قیادت سے لیا تھا۔ طیطس رومی نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے رفع آسمانی کے تقریباً پون صدی بعد بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کو نکال دیا تھا، ان کا معبد ختم کر کے ان کے داخلہ پر پابندی لگا دی تھی، وہ پابندیاں حضرت عمرؓ نے اس حد تک ختم کر دیں کہ یہودیوں کو اپنی عبادت گاہ میں آکر عبادت کرنے کی اجازت حاصل ہوگئی اور یہ اجازت خلافت عثمانیہ کے خاتمہ تک انہیں حاصل رہی ہے۔ اب سے ایک صدی قبل تک فلسطین میں یہودیوں کی آبادی بہت کم تھی، ایک سے دو فیصد بتائی جاتی ہے، یا شاید کچھ زیادہ ہوگی، یہودیوں کو یہ اجازت حاصل رہی ہے کہ وہ آئیں اور دیوار گریہ کے ساتھ جو کہ ان کی عبادت گاہ ہے وہاں عبادت کریں، البتہ فلسطین میں خلافت عثمانیہ کے دور میں، جو کہ چار صدیوں کے عرصہ تک محیط ہے، یہودیوں کو وہاں زمین خریدنے اور کاروبار وغیرہ کرنے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ یہ خدشہ تھا کہ یہودی دو ہزار سال قبل کی پوزیشن پر جا کر فلسطین اور بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ان تحفظات کی بنیاد پر کہ فلسطینی جو گزشتہ ڈیڑھ ہزار سال سے وہاں آباد ہیں ان کی آبادی متاثر ہوگی اور بیت المقدس پر مسلمانوں کا کنٹرول کمزور ہوگا اس لیے یہودیوں کو وہاں آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی، البتہ عبادت کے لیے آنے جانے کی سہولت انہیں حاصل رہی۔

اب سے تقریباً سوا صدی پہلے یہودیوں نے عالمی سطح پر ایک تنظیم بنائی اور اس کے تحت یہ پروگرام بنایا کہ ہم نے فلسطین میں دوبارہ آباد ہو کر اور دنیا بھر سے یہودیوں کو وہاں اکٹھا کر کے اپنا سابقہ دور واپس لانا ہے اور اسرائیل کے نام سے ریاست قائم کرنی ہے۔ ’’اسرائیل‘‘ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ایک بڑی ریاست تھی جسے بحال کرنے کے لیے یہودیوں نے تگ و دو شروع کر دی۔ یہ خلافت عثمانیہ کا دور تھا جس کے تاجدار اس وقت خلیفہ عبد الحمید ثانیؒ تھے، ان سے یہودیوں کے رابطے شروع ہوئے کہ ہمیں فلسطین میں جگہ خرید کر آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔ خلیفہ عبد الحمید ثانیؒ نے یہودیوں کے اس مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ ان کا پروگرام کیا ہے اس لیے میں یہ رسک نہیں لے سکتا تھا۔ خلیفہ سے عالمی یہودی لیڈر ہرتزل کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں لیکن خلیفہ کا انکار برقرار رہا۔ اس کے بعد خلافت عثمانیہ خود مسائل کا شکار ہوگئی اور خلیفہ عبد الحمید ثانیؒ کو معزول کر کے نظربند کر دیا گیا، یہ ایک الگ داستان ہے۔ لیکن یہودیوں کا یہ مشن تھا کہ ہمیں فلسطین میں جگہ خرید کر آباد ہونے کا موقع دیا جائے اور دنیا بھر سے یہودی یہاں جمع ہوں تاکہ ہم اسرائیل کی ریاست بحال کریں، جسے خلافت عثمانیہ نے قبول نہیں کیا۔ یہ جنگ عظیم اول کا زمانہ تھا، یہودیوں نے اس مقصد کے لیے برطانیہ سے رابطہ قائم کیا، اور عیسائی جو کہ یہودیوں کے روایتی حریف تھے کہ عیسائی یہودی دشمنی تو دنیا کی معروف دشمنی ہے، لیکن بہرحال ان کا برطانیہ کے ساتھ معاہدہ ہوا اور برطانوی وزیرخارجہ بالفور نے ۱۹۱۶ء میں ’’بالفور ڈیکلیریشن‘‘ کے نام سے یہ اعلان کیا کہ سلطنت عظمٰی برطانیہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتی ہے، اور ان کا یہ حق تسلیم کرتی ہے کہ وہ دوبارہ یہاں آکر آباد ہوں اور اپنی ریاست اور وطن بنائیں، اور یہ کہ سلطنت عظمٰی برطانیہ یہ وعدہ کرتی ہے کہ جب بھی اسے موقع ملا وہ فلسطین میں یہودیوں کو آباد ہونے کا موقع فراہم کرے گی۔

اس دوران جنگ عظیم اول کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ ختم ہوگئی، یہ علاقے مختلف ملکوں کے پاس چلے گئے، کچھ فرانس کے پاس، کچھ برطانیہ کے پاس، اس تقسیم میں جو جنگ عظیم اول کے بعد فاتح اتحادی ممالک کے درمیان ہوئی، اس میں فلسطین کا علاقہ برطانیہ نے سنبھال لیا اور اپنا وائسرائے یا گورنر جنرل وہاں مقرر کر کے یہ اعلان کر دیا کہ یہودی دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں وہ یہاں آکر آباد ہو سکتے ہیں۔ یہ ۱۹۱۷ء کے زمانے کی بات ہے کہ یہودیوں نے یہاں آکر آباد ہونا شروع کیا جس کے خلاف فلسطینیوں نے مزاحمت کی اور مختلف مراحل میں تصادم وغیرہ ہوئے، لیکن بہرحال برطانیہ کے انتداب کے دور میں جب انہوں نے فلسطین کو اپنی نوآبادی کے طور پر سنبھال رکھا تھا، اعلان بالفور کے مطابق یہودیوں کو مواقع اور وسائل مہیا کیے اور یہودی یہاں آکر آباد ہونا شروع ہوئے۔ اور پھر جب یہودی اس حد تک یہاں آباد ہوگئے کہ ایک علاقہ ان کے لیے ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا تھا تو ۱۹۴۵ء میں وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کا کیس لے کر گئے جسے منظور کر لیا گیا، اور پھر برطانیہ اس علاقہ سے چلا گیا اور اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق فلسطین کو تقسیم کر کے ایک حصے کو اسرائیلی ریاست قرار دیے دیا گیا اور دوسرا حصہ فلسطینیوں کے حصے میں رہا جو کہ ابھی تک نیم ریاست اور نیم نوآبادی اور اس نوعیت کا علاقہ چلا آرہا ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم قبول کر کے اسرائیلی ریاست کے قیام کی جو منظوری دی، مسلمان ممالک نے مجموعی طور پر اسے قبول نہیں کیا، نہ عرب ممالک نے اور نہ دیگر مسلمان ممالک نے، مسلمانوں نے اسے فلسطینیوں پر ظلم اور بیت المقدس کے خلاف سازش قرار دیا۔ یہ پاکستان بننے سے کچھ عرصہ پہلے کا زمانہ تھا اور بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا یہ واضح بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور یہ مسلمانوں کے دل میں خنجر گھونپنے والی بات ہے جسے ہم تسلیم نہیں کریں گے، البتہ بڑی طاقتیں امریکہ، یورپ اور روس وغیرہ اسرائیل کو سپورٹ کرتے رہے۔

اگلا مرحلہ یہ ہوا کہ ۱۹۶۷ء میں ایک اور جنگ ہوئی جس میں اسرائیل کو مغربی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور اس نے مصر، اردن اور شام کو شکست دے کر (۱) مصر کے صحرائے سینا (۲) شام کی گولان پہاڑیوں (۳) اور بیت المقدس کے علاقہ پر قبضہ کر لیا جو کہ اس وقت اردن کے پاس تھا۔ یوں اسرائیل نے اپنی سرحدوں میں توسیع کر لی، یہ میری ہوش کا زمانہ تھا اور یہ مناظر میری آنکھوں کے سامنے ہیں، میں بھی اس وقت مظاہروں اور احتجاجی کیمپین میں شریک ہوتا تھا۔ خیر یہ معاملات چلتے رہے، چند سال بعد مصر کی ایک بار پھر اسرائیل سے جنگ ہوئی اور مصر نے صحرائے سینا واپس حاصل کیا، جبکہ گولان پہاڑیاں، یروشلم اور بیت المقدس ابھی تک اسرائیل کے قبضہ میں ہیں۔ اقوام متحدہ نے ۱۹۶۷ء کے بعد کی اسرائیل کی حدود کو تسلیم نہیں کیا اور اس کی ابھی تک مسلسل یہ قراردادیں چلی آرہی ہیں کہ اسرائیل کو ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلے جانا چاہیے، عملاً عالمی سطح پر خواہ کچھ بھی ہو رہا ہو لیکن یونائیٹڈ نیشنز کا سرکاری موقف یہ ہے کہ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء میں جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ انہیں خالی کر دے۔

اس کے بعد صورتحال آگے بڑھی، سرد جنگ میں ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک تھے اور دوسری طرف سوویت یونین اور اس کے اتحادی ممالک تھے۔ کچھ عرب ممالک کو امریکہ اور کچھ کو سوویت یونین سپورٹ کر رہا تھا، جبکہ اسرائیل کو تقریباً سبھی سپورٹ کر رہے تھے، اس ساری کشمکش میں ایک مرحلہ ایسا آیا کہ عربوں سے یہ کہا گیا کہ اگر آپ اسرائیل کی ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن تسلیم کر لیں تو ہم اسرائیل کو واپس جانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گولان کی پہاڑیاں شام کو واپس ہوں گی اور یروشلم اور بیت المقدس کا علاقہ آزاد ہوگا۔ چنانچہ اس فارمولا کی بنیاد پر کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ ہوا جس میں عربوں سے وعدہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں مصر، شام اور چند دیگر عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ البتہ سعودی عرب، پاکستان، ایران اور دیگر مسلم ممالک اپنے سابقہ موقف پر قائم رہے کہ ہم سرے سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ اس وقت مسئلہ فلسطین کے حوالے سے تین موقف عالمی فورم پر سامنے ہیں:

  1. ایک موقف یہ ہے کہ اسرائیل وجود میں آگیا ہے اور یہ ایک معروضی حقیقت ہے اس لیے اسے تسلیم کر کے اس کے ساتھ معاملات کرنے چاہئیں، ہمارے بعض دانشور بھی یہ بات بار بار کر رہے ہیں۔
  2. دوسرا موقف ان عرب ممالک کا ہے جنہوں نے اسرائیل کو اس شرط پر تسلیم کیا تھا کہ وہ ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلا جائے گا اور جن علاقوں پر اس نے قبضہ کیا تھا انہیں چھوڑ دے گا۔ یہ نہ صرف چند عرب ممالک کا موقف ہے بلکہ اقوام متحدہ کا سرکاری موقف بھی یہی ہے۔
  3. تیسرا موقف حماس، سعودی عرب، پاکستان اور ایران وغیرہ کا ابھی تک یہی چلا آرہا ہے کہ ہم اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ان تین موقفوں کی بنیاد پر مسئلہ فلسطین اور اسرائیلی ریاست کے حوالے سے کشمکش جاری ہے اور اس پس منظر اور تناظر میں پاکستان سے یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے، پاکستان کے اندر سے بھی یہ آوازیں آرہی ہیں اور باہر سے بھی یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے، کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرے۔ اس حوالہ سے ایک بڑی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں ممکن ہے مزید اضافہ ہو کیونکہ بہت لابنگ اور پراپیگنڈا ہو رہا ہے۔ لیکن میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ ہمارے جو دانشور اس مہم کا حصہ ہیں وہ اسرائیل کو کس تناظر میں تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں؟ کیا یہ کیمپ ڈیوڈ کے تناظر میں اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت عرب ممالک نے اسرائیل کو ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے کی شرط کے ساتھ تسلیم کیا تھا؟ یا اسرائیل کو اس کے بیت المقدس اور دیگر علاقوں پر قبضہ سمیت تسلیم کرنا چاہتے ہیں؟ لیکن اس صورتحال کو سامنے رکھ کر یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے اور پاکستان کی اپنی ضرورت کیا ہے؟

  1. سب سے پہلے تو قائد اعظم مرحوم کی بات دہراؤں گا۔ ہم اگر اس وطن کو قائد اعظم کا پاکستان کہتے ہیں، قائد اعظم مرحوم کو پاکستان کا بانی تسلیم کرتے ہیں اور پاکستان کی پالیسیوں کا سرچشمہ قائد اعظم کے اعلانات کو مانتے ہیں، تو پھر جس طرح ہمیں ان کی یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ (۱) کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے (۲) اسی طرح ہمیں قائد اعظم کی یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو کہ مسلمانوں کے دل میں خنجر گھونپنے والی بات ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے۔
  2. اس کے علاوہ معروضی صورتحال بھی دیکھ لیں، مجھے اس پر تعجب ہوتا ہے کہ مسلم امہ سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرے، لیکن اسرائیل پر کسی طرف سے کوئی دباؤ ڈالنے والا نہیں ہے کہ ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جاؤ۔ میں اگرچہ خود یہ موقف نہیں رکھتا لیکن بالفرض اگر یہ موقف تسلیم کر لیا جائے تب بھی یہ دباؤ تو دو طرفہ ہونا چاہیے۔ اگر مسلم ممالک پر دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں تو اسرائیل سے یہ کیوں نہیں کہا جا رہا کہ وہ ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے؟ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پر واپس لے جائے بغیر مسلم ممالک پر یہ دباؤ ڈالنا کہ وہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کریں، یہ یکطرفہ بات ہے، نا انصافی کی بات ہے، ظلم کی بات ہے، دھاندلی کی بات ہے۔
  3. بلکہ میں اس سے ایک قدم آگے کی بات کروں گا کہ اسرائیل کی ایک حیثیت ۱۹۶۷ء سے پہلے والی ہے جسے اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے۔ اسرائیل کی ایک حیثیت ۱۹۶۷ء کے بعد مختلف علاقوں کے قبضہ کے ساتھ ہے۔ لیکن اس سے اگلا دائرہ گریٹر اسرائیل کا بھی ہے کہ وہ اس سے اگلے مرحلہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا نقشہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جس میں مصر ہے، شام ہے، آدھا سعودی عرب ہے، عراق ہے اور سوڈان وغیرہ ہے۔ یعنی صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل نہ صرف یہ کہ ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس کا اس سے آگے گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا بھی ہے۔ اسے کوئی کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن مسلم ممالک سے کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل جیسا کیسا ہے اسے تسلیم کر لیں۔ یہ غیر منطقی بات ہے، غیر اصولی بات ہے، نا انصافی کی بات ہے، یکطرفہ بات ہے، زیادتی کی بات ہے، اور مطالبہ کرنے والوں کو خود اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ اگر اسرائیل ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلا جائے تو اقوام متحدہ کے دائرہ میں کسی حد تک یہ بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن وہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم ہی نہیں کرتا، وہ بین الاقوامی موقف نہیں مان رہا، وہ گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا بھی رکھتا ہے جس میں مختلف عرب ممالک پر قبضے کا پروگرام شامل ہے، لیکن ہم سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل جیسا کیسا ہے اسے قبول کر لیا جائے۔

اس مسئلہ کے ایک اور پہلو پر بھی کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ یہ بات دیکھیے کہ کشمیر پر ہمارا موقف کیا ہے؟ ہم کشمیر پر انڈیا کے قبضے کو ناجائز کہتے ہیں اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ مانتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اس سلسلہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور استصواب رائے کشمیری عوام کا حق ہے، یعنی وہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کس ملک کے ساتھ ان کا الحاق ہو۔ اگر ہم کشمیر کے معاملہ میں اس بات پر قائم ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی رائے عامہ کے مطابق کشمیری عوام کو اعتماد میں لیے بغیر ہم کشمیر کے متعلق کوئی فیصلہ قبول نہیں کر سکتے، تو پھر فلسطین کے معاملہ میں ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی رائے عامہ کو نظرانداز کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ اور وہاں فلسطینیوں کو اعتماد میں لیے بغیر اسرائیل کے قبضہ کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنے کی بات کیسے کر رہے ہیں؟ اگر ہم اسرائیل کو موجودہ حیثیت میں تسلیم کرتے ہیں تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمیں کشمیر سے دستبرداری بھی اختیار کرنا ہوگی، یہ نہیں ہو سکتا کہ کشمیر پر ہمارا موقف مختلف ہو اور فلسطین پر ہمارا موقف کچھ اور ہو۔

میں نے تین باتیں عرض کی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا قائد اعظم مرحوم کے اعلان کے خلاف بات ہوگی۔ دوسری یہ کہ اسرائیل کو کم از کم ۱۹۶۷ء سے پہلے والی پوزیشن پر بھیجے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنا ظلم کی بات ہوگی۔ اور تیسری بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ کشمیر اور فلسطین دونوں بڑے مسئلے ہیں، دونوں کی پوزیشن تقریباً ایک جیسی ہے کیونکہ کشمیر کے معاملہ میں انڈیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جبکہ فلسطین کے معاملہ میں اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہم اگر ایک مسئلہ پر لچک اختیار کریں گے تو دوسرے مسئلہ پر ہمارے لیے کھڑے رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان سے یہ بات کہنے والے، کہ وہ اسرائیل کو موجودہ حیثیت میں تسلیم کر لے، ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں اور یہ بالواسطہ کشمیر پر انڈیا کے قبضے کو تسلیم کروانے کی بات ہوگی۔ اس لیے ہمیں اس سازش کو سمجھنا چاہیے کہ اس سے مسئلہ فلسطین تو متاثر ہوگا ہی، اس کے ساتھ مسئلہ کشمیر بھی متاثر ہوگا، اس لیے ہمیں بڑی سوچ سمجھ اور دیانتداری کے ساتھ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے فلسطینیوں اور کشمیریوں کے جائز حقوق اور امت مسلمہ کے مفاد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور محض لابنگ اور پراپیگنڈا سے متاثر ہو کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کرنی چاہیے۔

درجہ بندی: