پاپائے روم سے ایک ضروری گزارش

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۵ء

روزنامہ نوائے وقت ملتان ۲۲ اگست ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے جرمنی کے شہر کولون میں مسلمان راہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور نفرت انگیز نظریات کے خلاف جنگ میں مدد کرنا مسلمان راہنماؤں کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی چاہے وہ کسی شکل میں ہو ایک گمراہ کن اور ظالمانہ فیصلہ ہے کیونکہ یہ کسی بھی انسان کے زندگی کے مقدس حق کو پامال کرتا ہے اور سول سوسائٹی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔

پاپائے روم مسیحی دنیا کے محترم مذہبی راہنما ہیں اور ان کی بات کو مسیحیت کی مذہبی قیادت کی آواز سمجھا جاتا ہے اس لیے ان کے مذکورہ بالا ارشاد پر ہمیں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ جہاں تک دہشت گردی اور نفرت انگیزی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ سوسائٹی میں امن کے لیے دہشت گردی اور نفرت انگیزی کی حوصلہ شکنی اور ان کا سدباب ضروری ہے۔ لیکن دہشت گردی اور نفرت انگیزی کی تعریف کیا ہے؟ اسے ان کے خلاف جنگ کرنے والوں نے ابھی تک مبہم رکھا ہوا ہے حتیٰ کہ اقوام متحدہ میں بار بار مطالبے کے باوجود بڑے ممالک دہشت گردی کی کوئی اصولی تعریف طے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، صرف اس لیے تاکہ وہ اس ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر اس طبقہ اور گروہ کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کر سکیں جسے وہ اپنا مخالف قرار دیتے ہیں اور وہ یہ مکروہ عمل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے پاپائے روم یقیناً باخبر ہیں۔ دوسری طرف پوپ بینی ڈکٹ اس بات سے بھی بے خبر نہیں کہ مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ریاستی جبر کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور اہل اسلام کو اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بہت سی مذہبی اقدار و روایات سے یا تو دستبردار ہوجائیں اور یا پھر انہیں چار دیواری کے اندر محدود کرکے سوسائٹی کے عمومی ماحول سے ان کا تعلق منقطع کر دیں۔ اس واضح منظر کے باوجود اگر پاپائے روم دہشت گردی کے خلاف موجودہ عالمی جنگ میں مسلمان راہنماؤں کو اس جنگ کی حمایت اور تعاون کی ترغیب دے رہیں ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ اس جنگ کو مذہبی طور پر جائز سمجھتے ہیں اور ایک مسیحی مذہبی پیشوا کے طور پر اس کی حمایت کر رہے ہیں۔

ہم پاپائے روم سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اس طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور اگر وہ اس کشمکش میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا کے طور پر ان کی اصل ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ:

  • دہشت گردی کی واضح تعریف طے کرنے پر بڑے ممالک کو آمادہ کریں اور دہشت گردی کی واضح تعریف متعین کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف موجودہ عالمی جنگ کو مذہبی جواز کی سند فراہم نہ کریں۔
  • مختلف ممالک جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے ممالک شامل ہیں، مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت اور روایات و اقدار سے محروم کرنے کے لیے ریاستی جبر کا جو سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اس کی حوصلہ شکنی کریں اور اس کے بارے میں واضح موقف کا اعلان کریں۔
  • مسلم دنیا میں مذہب کے عملی کردار سے منحرف حکمرانوں کی بجائے اسلامی تعلیمات اور عوامی جذبات کی صحیح ترجمانی کرنے والے ارباب علم و دانش سے روابط استوار کریں اور انسانی سوسائٹی میں سیکولر سسٹم کا ساتھ دینے کی بجائے آسمانی تعلیمات کی عملداری کے رجحانات کی حمایت کریں۔

اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ وہ مسیحیت کی مذہبی تعلیمات کی نہیں بلکہ مسیحی دنیا کے سیکولر حکمرانوں اور لادینی سسٹم کی ترجمانی کر رہے ہیں اور ’’پاپائے روم‘‘ کے منصب کو اس کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

جہاں تک نفرت انگیزی اور اس کے خلاف جنگ کا تعلق ہے یہ بھی ایک مبہم اصطلاح ہے جسے کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور ہمیں اسلامی تاریخ کے دور اول میں اس سے بھی سابقہ پیش آچکا ہے جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں قریش اور دیگر عرب قبائل کی بت پرستی کی مخالفت کی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا کہ جن لوگوں کے بت بنا کر تم انہیں پوج رہے ہو یہ باطل ہیں اور ان کے ہاتھ میں کوئی خدائی اختیار نہیں ہے۔بت پرستی اور بتوں کی اس نفی کو قریش کے سرداروں نے اپنے خداؤں کے خلاف نفرت پھیلانے کی مہم قرار دیا اور یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے خداؤں کو برا بھلا نہ کہا جائے حالانکہ جناب نبی اکرمؐ ان بتوں کو کوئی گالی نہیں دیتے تھے بلکہ صرف ان کی اس حیثیت کی نفی کرتے تھے کہ انہیں خدائی صفات کا حامل قرار دے کر ان کی پوجا کی جائے، مگر اسے نفرت خیزی اور برا بھلا کہنے سے تعبیر کیا گیا۔

آج بھی کم و بیش اسی طرح کی صورتحال درپیش ہے کہ جب اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام حق مذہب ہے اور باقی مذاہب باطل ہیں، اسلام کے عقائد حق ہیں اور باقی مذاہب کے عقائد حق نہیں ہیں، اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہودیت اور مسیحیت اپنے دور میں حق مذہب تھے مگر اب وہ منسوخ اور تحریف شدہ مذاہب ہیں، تو اس اظہار حق کو نفرت انگیزی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور متعدد عالمی اداروں اور حلقوں کی طرف سے یہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کو بھی اسلام کی طرح حق مذہب کے طور پر تسلیم کریں اور ان کی نفی کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مفاہمت اور باہمی تعاون و اشتراک کا ماحول پیدا کریں۔ یہ بات نظری طور پر خوشنما ہونے کے باوجود قطعی طور پر قابل عمل نہیں ہے بلکہ حق اور باطل کو خلط ملط کر دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں دوسرے مذاہب کے ساتھ مفاہمت اور مکالمہ سے انکار نہیں ہے اور مشترکہ امور میں باہمی تعاون کی ضرورت کو بھی ہم کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں لیکن اس سلسلہ میں دو امور کی وضاحت ناگزیر ہے۔

  1. اس مفاہمت، مکالمہ اور تعاون کی غرض آسمانی تعلیمات کی نفی اور سیکولر فلسفہ کا فروغ نہ ہو بلکہ انسانی سوسائٹی میں آسمانی تعلیمات کی عملداری کی واپسی اس مکالمہ کا ایجنڈا ہو۔
  2. اس مفاہمت و مکالمہ کی بنیاد مشترکہ امور پر ہو، اس کا مقصد عقائد کے بنیادی اختلافات کو گول مول کرکے اختلاط کا ماحول پیدا کرنا نہ ہو، کیونکہ ہمارے لیے یہ کسی صورت میں ممکن نہیں ہوگا کہ ہم توحید اور شرک دونوں کو اپنی اپنی جگہ صحیح قرار دینے کی سوچ کو قبول کریں، یا حلال اور حرام کے امتیازات کو ختم کرکے ’’سب اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں‘‘ کا نعرہ لگانا شروع کر دیں۔

اس پس منظر میں ’’نفرت انگیزی‘‘ کے خلاف جنگ کا مطلب بظاہر مسلمانوں کو ان کے اس حق سے محروم کر دینا ہے کہ وہ اسلام کو محفوظ اور حق مذہب قرار دیتے ہوئے دوسرے مذاہب کے حق اور محفوظ ہونے کی نفی کریں۔ جبکہ یہ بات نتیجہ کے اعتبار سے دوسرے مذاہب کو حق مذہب کے طور پر قبول کرانے سے کہیں زیادہ اسلام کے حق ہونے کی عملی نفی کے مترادف ہے جسے کسی صورت میں قبول اور برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

درجہ بندی: