ڈاکٹر عبدالقدیر کی کردارکشی کی افسوسناک مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر عبدالقدیر ہمارے ملک کے محترم سائنس دان ہیں جو اس حوالہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی اس عظیم محنت کے نتیجے میں آج ہمارے حکمران پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر عالمی دباؤ پر ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور خاص طور پر صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں قوم کے اس محسن کا جس اہانت آمیز انداز میں ذکر کیا ہے وہ ملی حمیت و غیرت کے تقاضوں کے منافی ہے۔

آج مغربی طاقتیں اور ان کے ہمنوا ممالک ایٹمی اسلحہ پر چند ملکوں کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے جن خود ساختہ بین الاقوامی قوانین کا سہارا لے رہے ہیں اور جن کے حوالہ سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے ہمارے نزدیک وہ قوانین بجائے خود محل نظر اور یکطرفہ ہیں، کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کو صرف چند ملکوں تک محدود کر دینا اور باقی ممالک بالخصوص عالم اسلام کو ان کے حصول سے زبردستی روکنا انصاف اور عدل کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ ایٹمی ہتھیار اگر جائز ہیں تو سب کو ان کے حصول کا حق حاصل ہے اور اگر ناجائز ہیں تو سب کے لیے ناجائز ہیں اور دوسرے ممالک کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے والوں کو پہلے اپنے ہتھیار ختم کرنا ہوں گے۔ لیکن ستم ظریفی کی بات ہے کہ ہمارے حکمران اس سراسر ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی بجائے خود اپنے محترم سائنس دان اور قومی ہیرو کی کردارکشی میں مصروف ہیں۔

اس پس منظر میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اختر شبیر کے یہ ریمارکس قوم کے زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھنے کے مترادف ہیں کہ:

’’ہیرو کبھی نہیں مرتے اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے پاکستان کی جو خدمت کی ہے اس پر ہم ان کے احسان مند ہیں‘‘۔

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۶ء کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کی جانب سے ایک رٹ کی سماعت کے دوران جسٹس موصوف نے کہا کہ:

’’ہیرو کبھی مرا نہیں کرتے یہ بھی زندہ رہیں گے اور انہیں عدالتوں کی ضرورت نہیں ہوتی‘‘۔

ہم جسٹس موصوف کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی` خدا کرے کہ ہمارے حکمران بھی اس حقیقت کا ادراک کر سکیں اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کی کردارکشی سے دست کش ہوجائیں، آمین یا رب العالمین۔