بلوچستان میں شرعی عدالتوں کی بحالی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۹ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۳ جنوری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتیں بحال کر دی گئی ہیں، اور بلوچستان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر جناب لشکری رئیسانی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام دیوانی کیسوں کے متعلق جلد اقدامات اٹھانے کے خواہاں ہیں اس لیے عوام کی خواہش پر بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتوں کو بحال کیا گیا ہے۔ خبر میں اس سے زیادہ کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان شرعی عدالتوں کی ہیئت اور طریق کار کیا ہے اس کے بارے میں سرِ دست کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بلوچستان کے عوام دیوانی مقدمات کے جلد تصفیہ کی خاطر شرعی عدالتوں کی بحالی پر زور دے رہے تھے جس پر حکومت نے یہ قدم اٹھا یا ہے۔

دوسری طرف روزنامہ پاکستان لاہور ۱۴ جنوری ۲۰۰۹ء میں شائع شدہ خبر میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں مقدمات کی حد سے زیادہ کثرت کے باعث شام کی عدالتیں قائم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں وفاقی وزیر قانون، فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد صوبائی حکومتوں سے شام کی عدالتوں کے بارے میں تجاویز طلب کی گئی ہیں، جن پر پنجاب کی حکومت نے بعض تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر سماعت ہونے کی وجہ سے شام کی عدالتوں کا قیام ضروری ہو گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں آٹھ لاکھ فوجداری اور بارہ لاکھ دیوانی مقدمات زیر سماعت ہیں اور عدلیہ کے ججوں کی تعداد کم ہونے کے باعث ان مقدمات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، مگر پاکستان بار کونسل نے ایک اعلامیہ کے ذریعے شام کا عدالتوں کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔

جہاں تک مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور عدالتوں پر کام کے روز افزوں بوجھ کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک بھر کی عدالتوں میں عجیب افراتفری کی صورتحال ہے، غریب عوام چھوٹے چھوٹے تنازعات میں بے پناہ اخراجات اور سالہا سال کے انتظار کے باعث ان عدالتوں سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔بالخصوص ان علاقوں میں جہاں قیام پاکستان سے قبل انگریزی دور میں شرعی قضا کا نظام نافذ تھا اور عوام کو جلد اور سستے انصاف کی سہولت حاصل تھی، وہاں کے لوگوں کا اضطراب ملک کے دوسرے حصوں کے عوام سے کئی گنا زیادہ ہے اور وہ اپنے نصف صدی قبل کے دور کو یاد کر کے زیادہ بے چین ہو جاتے ہیں جب انہیں اپنے تنازعات کا حل شرعی عدالتوں کے ذریعہ جلد اور بلا اخراجات مل جایا کرتا تھا۔ جبکہ اب انہیں ایک ایک مقدمہ کے لیے سالہا سال تک عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور اس پر ہونے والے ہوشربا اخراجات مستزاد ہیں۔

ان حالات میں اگر صوبہ بلوچستان کے عوام نے صوبائی حکومت کو شرعی عدالتوں کی بحالی پر آمادہ کر لیا ہے اور صوبہ سر حد کے بعض خطوں کے عوام اس کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں تو یہ خوش آئند بات ہے۔ لیکن ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ صرف سر حد اور بلوچستان کے عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک بھر کے عوام کی ضرورت ہے کہ انہیں موجودہ عدالتوں کے پیچیدہ نظام کے چکروں سے نجات دلائی جائے اور شریعت اسلامیہ کے سادہ قوانین اور فطری طریق کار کے ذریعہ سستا اور جلد انصاف مہیا کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ یہ صرف ہمارا خیال نہیں بلکہ گزشتہ نصف صدی کے تجربات اس پر شاہد ہیں کہ عوام کو سستا اور جلد انصاف مہیا کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ عدالتوں میں شرعی قوانین اور شرعی طریق کار کی عملداری قائم کی جائے اور لوگوں کو طویل انتظار اور بھاری اخراجات کی دلدل سے نکالا جائے۔

اس لیے اگر وفاقی حکومت ملک بھر کی عدالتوں میں فیصلوں کے انتظار میں پڑے لاکھوں مقدمات کا جلد تصفیہ چاہتی ہے تو اس کا حل شام کی عدالتوں کا قیام نہیں بلکہ شرعی عدالتوں کی طرف عملی پیشرفت ہے کیونکہ شرعی عدالتوں کے ذریعے نہ صرف یہ کہ عام لوگوں کو جلد اور سستا انصاف میسر آئے گا بلکہ ان کے عقیدہ، کلچر اور ذہنی رجحانات سے ہم آہنگی کی وجہ سے یہ فیصلے ان کے لیے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کا باعث بھی ہوں گے۔