جہاد افغانستان میں امریکہ کا کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جنوری ۲۰۰۱ء
اصل عنوان: 
جہادِ افغانستان کے بارے میں ایک غلط فہمی

اکوڑہ خٹک کی متحدہ اسلامی کانفرنس میں پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا صلاح الدین فاروقی میرے ساتھ تھے، واپسی پر رات ٹیکسلا میں انہی کے ہاں قیام کیا۔ حسب سابق انہوں نے عشاء کے بعد ایک مسجد میں قرآن کریم کے درس اور اس کے بعد نوجوانوں کے ساتھ سوال و جواب کی نشست کا اہتمام کر لیا۔ ایک عرصہ تک میرا یہ معمول رہا کہ شمال کی طرف سے کسی بھی سفر میں ایک رات ٹیکسلا میں گزارتا تھا اور یہاں ایک نشست ایسی ہو جاتی تھی جس میں مختلف نوعیت کے سوال و جواب ہوتے اور شرکاء محفل کے ساتھ مجھے بھی یہ فائدہ ہوتا کہ متعدد مسائل پر ذہن ایک بار پھر حاضر ہوجاتا اور نت نئے نکات ذہن میں ابھرتے۔ کچھ عرصہ کے وقفہ کے بعد گزشتہ ایک دو سالوں سے یہ روایت پھر سے زندہ ہوگئی ہے، اسی حوالہ سے اس رات بھی اچھی خاصی نشست ہوگئی۔ میں چاہتا ہوں کہ اس نشست کے اہم سوالات و جوابات کی ایک جھلک قارئین کے سامنے بھی آجائے۔

سوال: کیا افغانستان کی جنگ دراصل امریکہ اور روس کی جنگ تھی جو امریکہ کے کہنے پر شروع ہوئی اور دینی حلقے امریکہ کے لیے استعمال ہوگئے؟ کیا اب بھی ایسا نہیں لگتا کہ امریکہ ہی کوئی چال ہے جس کی وجہ سے دینی حلقے پھر سے متحرک ہو رہے ہیں؟

میں نے اس سوال کے جواب میں یہ عرض کیا کہ اس سلسلہ میں دو باتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے کہ افغانستان میں روس کے خلاف جنگ امریکہ کے کہنے پر لڑی گئی ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج کی آمد پر مولوی محمد نبی محمدی، مولوی جلال الدین حقانی، مولوی محمد یونس خالص، مولوی ارسلان رحمانی اور دیگر جن علماء کرام نے اپنے اپنے علاقوں میں جہاد کا فتویٰ دے کر اس کا عملی آغاز کیا تھا ان کا امریکہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے طور پر شرعی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے جہاد کا فتویٰ دیا اور انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں اس کا آغاز کر دیا۔ اس وقت ان کے پاس پرانا روایتی اسلحہ بھی مناسب مقدار میں نہیں تھا، وہ بوتلوں میں پٹرول اور صابن کے محلول بھر کر ان بوتل بموں سے ٹینکوں کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ اور شروع کے کم و بیش تین سال تک یہ کیفیت رہی ہے کہ وہ بہت معمولی اسلحہ کے ساتھ اور انتہائی فقر و فاقہ کے ماحول میں محض ایمانی قوت کے ساتھ روسی فوجوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ البتہ اس دوران جب انہوں نے افغانستان کے اچھے خاصے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تو امریکہ اور دیگر ممالک ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور پھر جس جس نے بھی روس کے ساتھ کوئی حساب چکانا تھا وہ اس جنگ میں کود پڑا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے ساتھیوں نے اسلحہ بھی دیا، دولت بھی دی اور ہر طرح کی امداد کی۔ چنانچہ یہ کہنا تو درست ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کا بھی مفاد تھا اور اس نے اپنے مفاد کی خاطر افغان مجاہدین کی بھرپور مدد کی ہے، لیکن یہ کہنا قطعی طور پر غلط اور حقائق کے منافی ہے کہ افغان جہاد امریکہ کے کہنے پر شروع کیا گیا تھا اور افغان علماء نے اس معرکہ میں امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔

دوسری بات، یہ کہنا درست ہے کہ روسی استعمار کے خلاف جہاد افغانستان کے نام پر لڑی جانے والی یہ جنگ ابتدائی تین چار سال کے بعد افغان مجاہدین اور امریکہ کی مشترکہ جنگ بن گئی تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے۔ افغان مجاہدین کو یہ فائدہ پہنچا کہ امریکہ کے تعاون کی وجہ سے ان کی جنگ آسان ہوگئی۔ جبکہ امریکہ کو یہ فائدہ پہنچا کہ اپنی باقاعدہ فورسز استعمال کیے بغیر اس نے سوویت یونین کو شکست دے کر نہ صرف اس کے خلاف سرد جنگ جیت لی بلکہ ویت نام کی ہزیمت کا بدلہ بھی لے لیا۔

لیکن اس سوال کا جواب دینا ابھی باقی ہے کہ ان دونوں میں سے کس نے دوسرے کو استعمال کیا؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں جنگ کے بعد کے حقائق پر ایک نظر ڈالنا ہوگی۔ اور میں اس سلسلہ میں بھی ایک سادہ سا معیار اور کسوٹی پیش کرتا ہوں کہ اگر تو جنگ کے خاتمہ اور روس کی شکست کے بعد افغان مجاہدین کی قیادت امریکہ کے ایجنڈے پر چل رہی ہے اور افغانستان میں امریکہ کی پالیسیوں پر عمل ہو رہا ہے تو ہمیں یہ تسلیم کر لینے میں کوئی باک نہیں ہونا چاہیے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے مفاد کے لیے مولوی کو استعمال کر لیا ہے اور افغان مولوی نے جہاد کے نام پر امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔ لیکن اگر افغان مولوی نے جنگ کے بعد والے افغانستان میں امریکہ کی پالیسی اور پروگرام کو مسترد کر کے اپنے ایجنڈے پر عمل شروع کر رکھا ہے اور وہ امریکہ کی طرف سے تمام تر مخالفت، دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود اپنے ایجنڈے پر قائم ہے تو ہمیں پورے شرح صدر کے ساتھ تاریخ کے اس فیصلے کو قبول کرنا ہوگا کہ افغان مولویوں نے اپنی جنگ کے لیے امریکہ کو استعمال کیا ہے۔ اور امریکہ بہادر اپنے تمام تر جاہ و جلال اور شکوہ و دبدبہ کے باوجود افغانستان کی سنگلاخ زمین پر سادہ، غریب اور بے سروسامان مولوی کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوگیا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہی پیچ و تاب امریکہ کو اس حوالے سے کسی کروٹ چین نہیں لینے دے رہا۔

سوال: اگر افغان جنگ کمیونزم کے خلاف تھی تو یہ جنگ روس کے کمیونزم کے خلاف کیوں لڑی گئی ہے اور چین کا کمیونزم اس جنگ کے اثرات سے کیوں محفوظ ہے؟

میں نے عرض کیا کہ روس کے کمیونزم اور چین کے کمیونزم میں ایک بنیادی فرق تھا۔ وہ یہ کہ روس کے کمیونزم نے اپنے پاؤں پھیلا کر پوری دنیا پر اپنے فلسفہ کے تسلط کے لیے مہم شروع کر رکھی تھی۔ اور وسطی ایشیا اور افغانستان کو عبور کرنے کے بعد اس کا اگلا نشانہ پاکستان تھا جس کے لیے یہاں بھی خاصا ورک ہو چکا تھا۔ جبکہ چین کا کمیونزم جیسا کیسا بھی ہے اپنے ملک کی سرحدوں کے اندر ہے اور ملک سے باہر توسیع پسندانہ عزائم اور پروگرام نہیں رکھتا۔ اس لیے ہمیں اس سے اپنے لیے کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ لہٰذا افغان مولوی یا جنوبی ایشیا کے دینی حلقوں نے روس کے خلاف جو جنگ لڑی ہے وہ دراصل کمیونزم کے خلاف نہیں بلکہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم اور پروگرام کے خلاف تھی، اور اپنے عقائد و روایات اور ملی تشخص کے تحفظ کے لیے تھی۔

اب اس خطہ کے دینی حلقوں کو یہی خطرہ امریکہ کی طرف سے درپیش ہے کہ وہ نیو ورلڈ آرڈر کے نام پر اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی آڑ میں مسلمانوں کو اسلام کے معاشرتی کردار اور اسلامی عقائد و احکام کے عملی نفاذ کے حق سے محروم کر دینا چاہتا ہے۔ اس لیے وہی دینی حلقے اب امریکہ کے خلاف صف بندی میں مصروف ہیں۔ چین کی طرف سے اس قسم کی کوئی مہم نہیں اس لیے اس کے خلاف ہماری کوئی جنگ بھی نہیں ہے اور ہم ایک عظیم اور دوست پڑوسی کی حیثیت سے اس کا احترام کرتے ہیں۔

سوال: چین کے صوبے سنکیانگ کے مسلمانوں پر ہونے والے ریاستی جبر اور سینکڑوں مسلمان نوجوانوں کی شہادت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

میں نے عرض کیا کہ یہ مسئلہ موجود ہے اور ہمیں اس کی سنگینی کا احساس ہے۔ مگر ہم اس مسئلہ کے حوالہ سے امریکی عزائم سے بھی باخبر ہیں اور کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتے کہ امریکہ اس مسئلہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین کے خلاف کوئی محاذ گرم کر سکے۔ البتہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے بارے میں چینی حکومت سے ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں سنجیدگی سے توجہ دے۔ اور پاکستان کی دینی قیادت جہاں چینی حکمرانوں سے طالبان اور امریکہ کے سوال پر بات کرنے کی خواہشمند ہے وہاں سنکیانگ کے مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں بھی بات ہوگی۔ تاکہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے اور امریکہ اسے چین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔

اس موقع پر میں نے یہ بھی عرض کیا کہ جنوبی ایشیاء کے دینی حلقے اب امریکہ کے خلاف صف آراء ہو چکے ہیں اور امریکہ نے خود سلامتی کونسل کی قرارداد کی صورت میں اعلان جنگ کر دیا ہے۔ اس لیے اب آزمائش اور ابتلاء کا ایک اور دور شروع ہونے والا ہے جس میں اور کئی باتوں کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ اس خطہ میں استعمار کے اصل دشمن کون ہیں اور استعمار دشمنی کے نام پر دولت اکٹھی کر کے چوری کھانے اور کھوکھلے نعرے لگانے والے کون ہیں۔