سوات کے مظلوم عوام کا مقدمہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۹ء

۱۱ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں منعقد ہونے والی ’’قومی ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں راقم الحروف کو بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع دیا گیا لیکن میں نے کانفرنس سے خطاب کی دعوت دینے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ کانفرنس کے موضوع پر بہت سے مقررین آپ سے خطاب کریں گے اس لیے میں اپنے معمول کے خلاف کانفرنس کے موضوع سے ہٹ کر ملک بھر سے آنے والے علماء اور دینی کارکنوں کے اس قومی اجتماع میں سوات کے مظلوم عوام کا مقدمہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

سوات کا المیہ یہ ہے کہ وہاں کے مظلوم عوام کے ساتھ گزشتہ ساٹھ برس سے مسلسل ظلم ہو رہا ہے اور وہ ریاستی زیادتیوں کا شکار ہیں:

  1. ایک مظلومیت میں تو پورے ملک کے عوام شریک ہیں کہ پاکستان کے قیام کے بعد انہیں ملک بھر میں شرعی نظام عدل کی فراہمی تحریک پاکستان کے قائدین کی ذمہ داری تھی، لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا اور پاکستان کے عوام کو وعدہ کے مطابق شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کی فراہمی میں ٹال مٹول کر کے ان سے مسلسل عہد شکنی کی جا رہی ہے۔
  2. مگر سوات کے ساتھ یہ ہوا کہ وہاں پاکستان کے ساتھ ریاست کے الحاق سے پہلے شرعی عدالتوں کا نظام موجود تھا اور برطانوی نو آبادیاتی ہونے کے باوجود سوات میں قاضی حضرات شرعی قوانین کے مطابق لوگوں کے مقدمات و تنازعات کا فیصلہ کرتے تھے جبکہ پاکستان کے ساتھ سوات کی ریاست کے الحاق کے ساتھ ہی وہاں شرعی قوانین اور قاضی عدالتوں کا نظام ختم کر دیا گیا، جو کہ ان کے ساتھ دوہرا ظلم تھا۔ اور یہ ظلم صرف سوات کے عوام کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ بلوچستان میں ریاست قلات سندھ میں ریاست خیرپور اور پنجاب میں ریاست بہاولپور کے عوام کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ وہاں پہلے شرعی عدالتوں کا نظام موجود تھا مگر پاکستان کے ساتھ الحاق ہوتے ہی ان ریاستوں کے عوام کو شرعی عدالتوں سے محروم کر دیا گیا۔
  3. سوات کے عوام کے ساتھ تیسرا ظلم یہ ہوا کہ گزشتہ عشرہ کے دوران جناب آفتاب احمد خان شیر پاؤ کے دور حکومت میں جب سوات کے عوام نے ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر آکر اور مسلسل کئی روز تک دھرنا دے کر مطالبہ کیا کہ انہیں ان کا سابقہ عدالتی نظام واپس کیا جائے تو انہیں ان کے مطالبہ پر جو نظام شریعت ریگولیشن دیا گیا وہ دھوکہ اور فراڈ تھا اور اس میں چند الفاظ اور اصطلاحات کے ہیر پھیر کے ساتھ انگریزی عدالتی نظام کو ہی ان پر مسلط رکھا گیا تھا۔

    سوات کے عوام کا کہنا تھا کہ سابقہ عدالتی یعنی شرعی عدالتوں کی صورت میں انہیں یہ سہولت حاصل تھی کہ (۱) آسانی کے ساتھ مقامی سطح پر ان کے تنازعات کے فیصلے ہو جایا کرتے تھے (۲) خرچ اخراجات نہیں ہوتے تھے (۳) لمبی تاریخیں نہیں پڑتی تھیں، جلدی اور سستا انصاف مل جاتا تھا (۴) اور عقیدہ و کلچر سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے دونوں فریقوں کا اطمینان بھی ہو جایا کرتا تھا جس سے دشمنیاں اور تنازعات نہیں جنم لیتے تھے۔ مگر اس کی جگہ رائج کیے جانے والے عدالتی نظام میں خرچہ زیادہ ہوتا ہے، وقت بہت لگتا ہے، کئی کئی سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور دشمنیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، اس لیے انہیں اس کی بجائے وہی پرانا عدالتی نظام واپس کیا جائے جس میں فوری اور سستا انصاف مل جایا کرتا تھا۔ ان کا مطالبہ مان لیا گیا مگر سوات میں جو نظام شریعت ریگولیشن نافذ کیا گیا وہ فریب کاری کی بدترین مثال تھی۔

    اس کے بعد جب سوات کے عوام اس فریب اور دھوکے کے خلاف دوبارہ میدان میں آئے اور سوات بد اَمنی کی آماجگاہ بن گیا تو ان کے ساتھ اب یہ معاہدہ کیا گیا ہے کہ انہیں شرعی نظام عدل دیا جائے گا۔ اس لیے مولانا صوفی محمد اور صوبہ سر حد کی حکومت کے درمیان با قاعدہ معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت سوات میں عدالتوں نے کام شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور سوات کے عوام کی معمول کی زندگی بحال ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

  4. لیکن سوات کے عوام کے ساتھ چوتھا ظلم یہ ہونے جا رہا ہے کہ اس معاہدہ کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ عالمی استعمار کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس معاہدہ کو ختم کیا جائے اس لیے کہ امریکہ کو سوات اور پاکستان کے مغربی شمالی علاقوں میں امن کی صورتحال کسی صورت میں منظور نہیں ہے اور وہ دنیا کے کسی خطے میں شرعی قوانین کا نفاذ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے صدر محترم سوات کے معاہدہ امن پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں اور کوشش ہو رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس معاہدہ کو سبوتاژ کر دیا جائے۔

یہ سوات کے عوام کے ساتھ چوتھا ظلم ہو گا اس لیے میں اس عظیم اجتماع کی وساطت سے حکمرانوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ:

  • اگر یہ معاہدہ خدانخواستہ ختم کر دیا گیا تو بد اَمنی کی ایک نئی خوفناک لہر اٹھ سکتی ہے جو شاید سوات تک محدود نہ رہے، اس لیے ملک کے امن و استحکام کا تقاضہ ہے کہ اس معاہدہ کا احترام کیا جائے اور اس کی توثیق کی جائے۔
  • حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ سوات کے عوام صرف اور صرف شرعی عدالتوں کا نظام چاہتے ہیں اور اس کے سوا کسی اور نظام پر وہ راضی نہیں ہوں گے۔ اس لیے جمہوریت، انصاف اور عدل کا بھی تقاضہ ہے کہ اس معاہدہ کو باقی رکھا جائے اور اس پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کیا جائے۔
  • شرعی قوانین اور سستا و فوری انصاف صرف سوات کے عوام کا نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کا حق ہے، اور صرف حق نہیں بلکہ ان کی ضرورت بھی ہے۔ یہ لاہور کی بھی ضرورت ہے، کراچی کی بھی ضرورت ہے، ملتان کی بھی ضرورت ہے، فیصل آباد کی بھی ضرورت ہے، کوئٹہ کی بھی ضرورت ہے، پشاور کی بھی ضرورت ہے اور گوجرانوالہ کی بھی ضرورت ہے۔ جبکہ یہ پاکستان کے نام سے ایک الگ ریاست کے قیام کا بنیادی مقصد بھی ہے، اس لیے پورے ملک میں شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کا نظام نافذ کیا جائے اور عوام کے ساتھ ساٹھ سال قبل کیے جانے والے عہد کی تکمیل کی جائے۔
  • شریعت کا راستہ زیادہ دیر تک جبر کے ذریعے نہیں روکا جا سکے گا کیونکہ یہ پورے ملک کا مطالبہ اور پورے ملک کی ضرورت ہے، اگر اس میں مزید تاخیر کی گئی تو حکمرانوں کو ایک ایسی ملک گیر تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا جسے کنٹرول کرنا حکمرانوں کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔