چنیوٹ مسجد تنازع ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا قابل تحسین اقدام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ ستمبر ۲۰۰۴ء

۷ ستمبر کو ملک کا ’’یوم فضائیہ‘‘ تھا کہ اس روز پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں نے ۱۹۶۵ء کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کا غرور توڑا تھا اور خود سے کئی گنا بڑی ایئرفورس کے مقابلہ میں فضا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ جبکہ یہی دن ’’یوم ختم نبوت‘‘ بھی ہے کہ اس دن ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک متفقہ دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم بڑھایا تھا۔ اس سال یوم ختم نبوت کی اہمیت میں ایک اور پیش رفت نے اضافہ کر دیا ہے کہ قادیانیوں نے چناب نگر میں اپنی آبادی کے اندر واقع پولیس چوکی کو وہاں سے منتقل کرنے کی جو سازش کی تھی وہ ناکامی سے دوچار ہوئی اور ۷ ستمبر کو پولیس نے اس جگہ پر قادیانی قبضہ ختم کرا کے وہاں حسب سابق پولیس چوکی بحال کر دی۔

چناب نگر میں قادیانی آبادی کے وسط میں واقع پولیس چوکی کی منتقلی سے وہاں گزشتہ چالیس سال سے آباد مسجد کے مستقبل اور تقدس کا سوال بھی کھڑا ہوگیا تھا اور یہ مسئلہ پیدا ہوگیا تھا کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایک اور بات بھی اصولی طور پر طے ہوگئی تھی کہ چناب نگر کو، جو اس وقت ’’ربوہ‘‘ کہلاتا تھا، خالص قادیانی آبادی کا شہر نہیں رہنے دیا جائے گا اور یہاں مسلمانوں کو مختلف حوالوں سے آباد کر کے اور ان کی آمد و رفت کے راستے محفوظ کر کے ملک کے دوسرے شہروں کی طرح اسے بھی ایک عام اور مشترکہ شہر کی حیثیت دی جائے گی۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے مسلم کالونی کا قیام عمل میں لایا گیا اور شہر کے اندر مختلف سرکاری اداروں میں مسلمان ملازمین کی تقرری اور عام مسلمانوں کی آمد ورفت کا سلسلہ بڑھانے کا اہتمام کیا گیا۔ مگر اب پولیس چوکی کو شہر سے باہر منتقل کرنے کی بات سامنے آئی تو لوگوں کے کان کھڑے ہوئے کہ اگر اس طرح مختلف سرکاری شعبوں اور محکموں کو شہر کی آبادی سے باہر نکالنے کی روایت چل پڑی تو چناب نگر کی وسطی آبادی ’’سیل بند قادیانی شہر‘‘ کی حیثیت اختیار کر جائے گا اور ’’ریاست در ریاست‘‘ کے جس ماحول سے بچنے کے لیے ۱۹۷۴ء میں چناب نگر (ربوہ) کو کھلا شہر قرار دینے کے لیے چند اقدامات کیے گئے تھے وہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گے۔ چنانچہ مسجد کی بحالی کے ساتھ ساتھ چناب نگر کو کھلا رکھنے کی سوچ بھی اس تحریک کے پیچھے کارفرما تھی۔ جو تحریک چناب نگر، چنیوٹ اور فیصل آباد کے علماء کرام اور دینی جماعتوں نے منظم کی اور جس میں حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے جانشین مولانا محمد الیاس چنیوٹی اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے جانشین مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے متحرک کردار ادا کیا اور علاقہ کی تمام دینی جماعتوں اور مکاتب فکر نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

میں ۷ ستمبر کو انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے چناب نگر جا رہا تھا کہ دوران سفر موبائل فون پر مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات جناب عبد اللطیف خالد چیمہ نے یہ خوشخبری سنائی اور بتایا کہ صوبائی وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے پولیس چوکی کی سابقہ جگہ پر واپسی کا آرڈر جاری کر دیا ہے اور آپ کے چناب نگر پہنچنے تک اس پر عملدرآمد ہو چکا ہوگا۔ مجھے چودھری پرویز الٰہی سے یہی توقع تھی اور میرا اندازہ تھا کہ اگر ان تک کیس صحیح حالت میں پہنچ گیا تو وہ اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کر پائیں گے اس لیے کہ ان کا تعلق چودھری ظہور الٰہی مرحوم کے خاندان سے ہے اور عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ چودھری ظہور الٰہیؒ مرحوم کا والہانہ تعلق کسی سے مخفی نہیں ہے کہ وہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے قائدین میں سے تھے اور وہ ان دنوں عام جلسوں میں جس گھن گرج کے ساتھ قادیانیوں کو للکارا کرتے تھے اس سے واقف کوئی شخص یہ توقع نہیں کر سکتا کہ ان کے خاندان کے کسی فرد اور ان کے زیرسایہ سیاسی تربیت پانے والے کسی شخص سے قادیانیوں کو کوئی ناجائز ریلیف مل سکتی ہے۔ بہرحال چودھری پرویز الٰہی نے بہتر کیا اور وہ اس پر بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے نہ صرف چناب نگر اور چنیوٹ کے دینی حلقوں اور مسلمان عوام کے جذبات کا احترام کیا بلکہ اپنی خاندانی روایات کی بھی پاسداری کی۔ چناب نگر پہنچا تو کانفرنس کے دوران مولانا محمد الیاس چنیوٹی اور صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی سے تفصیلات کا علم ہوا اور پتہ چلا کہ فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

کانفرنس سے خطاب کے دوران بعض مقررین کی زبانوں پر یہ شکوہ آیا کہ اس جدوجہد میں فلاں نے تعاون کیا ہے اور فلاں نے نہیں کیا۔ میں نے اپنے خطاب میں اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ جدوجہد میں کامیابی کا ہدف حاصل کر لینے کے بعد اس نوعیت کے شکوے زبانوں پر نہیں آنے چاہئیں کہ جس دوست اور جس حلقہ نے جس حد تک یا جس انداز میں بھی تعاون کیا ہے اور ہماری آواز میں آواز ملائی ہے وہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔

البتہ اس موقع پر ایک اور مسئلہ تحریک ختم نبوت کے قائدین اور کارکنوں کی توجہ کے لیے سامنے آیا ہے۔ وہ یہ کہ ۵ ستمبر کے اخبارات میں اے ایس پی پنڈی بھٹیاں عمران محمود کی پریس کانفرنس کے حوالہ سے خبر شائع ہوئی ہے کہ ضلع حافظ آباد کے قصبہ رسول پور تارڑ میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹوں کا ایک گروپ ٹریس ہوا ہے جس کا ایک فرد مبشر احمد پکڑا گیا ہے جو قادیانی ہے جبکہ دوسرے افراد فرار ہوگئے ہیں۔ خبر کے مطابق پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر رسول پور تارڑ میں چھاپہ مارا اور قادیانی مبشر احمد کو اس کے دو مسلمان ساتھیوں ذوالفقار اور ذکاء اللہ سمیت گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے بڑی تعداد میں گرنیڈ اور دو کلاشنکوفیں برآمد کر لین۔ مبشر احمد کا خاندان کھیتی باڑی کرتا ہے، اس کی بہن کی شادی بھارت میں مقیم قادیانی حبیب اللہ سے ہوئی جو را کا ایجنٹ ہے، اس سے مبشر احمد نے رابطہ قائم کر رکھا تھا اور گرنیڈ بم اس نے بوری میں پیک کر کے گھر میں چھپا رکھے تھے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے کلاشنکوفیں اپنے دوستوں ذوالفقار اور ذکاء اللہ کے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ اے ایس پی مذکور کے مطابق مبشر احمد اپنے بہنوئی حبیب اللہ کو بھارت میں معلومات فراہم کرتا تھا جبکہ مبشر کا والد بشارت احمد اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ فرار ہوگیا ہے اور مبشر احمد نے دوران تفتیش را کا ایجنٹ ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

ہمارا تو شروع سے یہ موقف ہے قادیانیوں کی وفاداریاں وطن عزیز پاکستان کے ساتھ نہیں ہیں اور وہ بیرونی ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس واقعہ نے ہمارے اس موقف کی ایک اور شہادت فراہم کر دی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی دباؤ پر اس کیس کو ’’داخل دفتر‘‘ ہونے سے بچائے اور قادیانیوں کے اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے وطن عزیز کی سالمیت کا تحفظ کرے۔