خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میں رسول اکرمؐ کے موئے مبارک کی زیارت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ مارچ ۲۰۱۹ء

۱۷ مارچ اتوار کو خانقاہ سراجیہ شریف کندیاں کی سالانہ تقریب ختم بخاری شریف میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ میرے عزیز بھتیجے حافظ نصر الدین خان عمر کے علاوہ مولانا قاری ہدایت اللہ جالندھری، مولانا قاری سمیع الحق، مولانا خالد محمود سرفرازی، مولانا فیصل احمد، مولانا جنید احمد اور قاری محمد عثمان رمضان ہمراہ تھے۔ جبکہ وہاں جاتے ہوئے واں بھچراں میں بھی حاضری ہوئی اور رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علی قدس اللہ سرہ العزیز کی قبر پر فاتحہ خوانی کے علاوہ ان کے خاندان کے محترم بزرگوں میاں محمد عرفان، میاں محمد نعمان اور میاں محمد عمران سے ملاقات و گفتگو ہوئی اور انہوں نے حسب سابق بے حد شفقت و اکرام کا معاملہ فرمایا۔

خانقاہ سراجیہ شریف میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد اور ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف بزرگوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا اور خواجہ صاحب نے سب سے بڑی شفقت یہ فرمائی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت سے شاد کام کیا جو خانقاہ شریف میں پورے احترام و انتظام کے ساتھ محفوظ ہیں اور ہر سال ۲۶ رمضان المبارک کے دن خانقاہ میں آنے والے حضرات کو ان کی زیارت کرائی جاتی ہے۔ یہ ہمارے لیے بڑی سعادت و برکت کا مرحلہ تھا کہ آقائے نامدارؐ کے مبارک بالوں کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت خواجہ صاحب نے اس موقع پر اس سند کی زیارت بھی کرائی جو ان مبارک بالوں کے مرحلہ وار منتقل ہونے اور یہاں تک پہنچنے کے بارے میں سابق آئی جی جیل خانہ جات پنجاب جناب سید شفقت اللہ نے تحریر کی اور انہی کے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے جو درج ذیل ہے۔

’’حضور نبی کریم رحمۃ اللعالمین سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی نعمت عظمٰی اس فقیر سید شفقت اللہ شاہ کو اپنے نانا مرحوم و مغفور جناب حکیم عبد الوہاب صاحب علیہ رحمۃ المعروف حکیم نابینا صاحب علیہ رحمۃ کی وساطت سے حاصل ہوئی۔ یہ موئے مبارک جناب ڈاکٹر مختار احمد صاحب انصاری علیہ رحمۃ کو ان کی جنگ بلقان (ترکی) کی خدمات کے سلسلہ میں جناب غازی انور پاشا علیہ رحمۃ سپہ سالار حکومت ترکیہ نے عطا فرمایا۔ غازی انور پاشا علیہ رحمۃ کو یہ موئے مبارک سلطان عبد الحمید خان صاحب علیہ رحمۃ کے دور حکومت میں مسجد نبویؐ کی توسیع کے وقت مدینہ پاک کے تبرکات میں سے عطا ہوا تھا۔ ڈاکٹر انصاری صاحب علیہ رحمۃ، حکیم اجمل خان علی رحمۃ ، جناب محمد علی جوہر علیہ رحمۃ تحریک خلافت کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ یہ موئے مبارک بعد ازاں جناب ڈاکٹر انصاری صاحب نے حکیم نابینا صاحب کو عطا فرما دیا تھا اور جناب حکیم نابینا صاحب نے اپنی صاحبزادیوں کی قسمت میں جس طرح افزائش موئے مبارک سے حصہ نکلتا رہا عطا فرماتے رہے۔ چنانچہ امی حضور علیہا رحمۃ کو بھی اس موئے مبارک کے افزائش کا حصہ عطا ہوا۔

پاکستان بننے کے بعد فقیر محکمہ کسٹم میں لاہور تعینات ہوا تو جناب محمد ظہور الدین صاحب سے جو کسٹم میں ملازم تھے رابطہ ہوا۔ سرکاری واقفیت اللہ واسطے کی محبت میں بدل گئی۔ موصوف کو جب موئے مبارک کا پتہ چلا تو انہوں نے درخواست کی اس نعمت عظمٰی کا حصہ امی حضور علیہا رحمۃ سے ان کو بھی عطا فرمایا جائے تو فقیر نے انکار کر دیا۔ اس وجہ سے کہ یہ عظیم نعمت فقیر کے خاندان سے باہر کسی کو نہیں دی گئی تھی اور نہ دی جاتی ہے۔ لہذا وقت گزرتا گیا محمد ظہور الدین صاحب کی شدت طلب رنگ لائی اور دریائے رحمت جوش میں آگیا اور اسی دوران امی حضور کو حیدر آباد (دکن) میں بشارت ہوئی اور نبی کریم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آپ کے موئے مبارک کی افزائش سے میسر حصہ ظہور الدین صاحب کو دے دیا جائے۔ ادھر ظہور الدین صاحب کو بھی بذریعہ بشارت آگاہ کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ فقیر جب ستمبر ۱۹۵۶ء میں حیدرآباد دکن رخصت پر گیا تو امی حضور علیہا رحمۃ نے فرمایا کہ ظہور الدین صاحب کی قسمت میں یہ نعمت عظمٰی عطا ہوگئی ہے لہٰذا یہ امانت ان کو لاہور جا کر دے دیں اور ان کی طرف سے مبارک بھی پیش کریں۔ حیدرآباد سے واپسی پر اس عظیم ترین نعمت کو ظہور الدین صاحب کے سپرد کر دیا گیا۔

حضور نبی کریم رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جسم مبارک کے حصہ مبارک کا یہ زندہ جاوید معجزہ ہے کہ اس میں افزائش ہوتی ہے، چنانچہ ظہور الدین صاحب کے یہاں بھی کئی دفعہ زیارت پر اس کی افزائش دیکھی گئی۔

یہ چند سطور بطور یادداشت اور سند کے تحریر میں لائے جا رہے ہیں۔‘‘