عالمی یہودی کانگرس سے صدر مشرف کا خطاب

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء

صدر جنرل پرویز مشرف نیویارک کے ہنگامہ خیز دورے سے واپس پہنچ کر اسلام آباد میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں مگر نیویارک میں ان کے دورے کے حوالے سے مختلف امور پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کی نجی محفلوں کے علاوہ نیویارک سے شائع ہونے والے مقامی اردو اخبارات میں صدر پرویز مشرف کی باتوں پر دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اخبارات اگرچہ زیادہ تر اشتہارات پر مشتمل ہوتے ہیں اور مساجد اور اسٹوروں میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں لیکن پاکستانی کمیونٹی کے ایک بڑے حصے میں پڑھے جاتے ہیں اور خبروں، کالموں اور اشتہارات کی صورت میں پاکستانی کمیونٹی کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کے قومی اخبارات کے کالم نگاروں کی بعض نگارشات بھی ان اخبارات کا حصہ بنتی ہیں۔

جنرل پرویز مشرف اصلاً تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنے کے لیے آئے تھے اور ہم نے اس کالم میں اس خطاب کے حوالے سے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ اقوام متحدہ میں مجوزہ اصلاحات کے بارے میں عالم اسلام کے گزشتہ صدی کے مجموعی حالات کے تناظر میں اپنے خطاب میں گفتگو کریں اور مسلم امہ کے ساتھ اقوام متحدہ کے نصف صدی کے طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے عالم اسلام کی شکایات اور مشکلات کی طرف توجہ دلائیں۔ جنرل پرویز مشرف نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بہت سی باتیں کہی بھی ہیں مگر عالمی یہودی کانگریس کے اجتماع سے ان کے خطاب اور خواتین کانفرنس میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعہ نے عالمی سطح پر زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے اور بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ان کے مذاکرات سمیت ان کی باقی مصروفیات اور سرگرمیاں ان دو واقعات کے پیچھے دب کر رہ گئی ہیں۔

عالمی یہودی کانگریس کے اجتماع سے صدر پاکستان کا خطاب بلاشبہ تاریخی واقعہ ہے جو مسلمانوں اور یہودیوں کے تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ صدر پرویز مشرف کے اس خطاب کے بارے میں اسرائیل کے ساتھ مسلمانوں کے تنازع کے اصل فریق فلسطینیوں، اور ان میں سے بھی اسرائیل کے خلاف صف آرا مزاحمتی گروپوں کا رد عمل کیا ہے، کہ یہ ایک مستقل موضوعِ گفتگو ہے، اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کوئی بھی پیشرفت اس ردعمل کو نظر انداز کر کے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی، تاہم تاریخی تناظر میں صدر پرویز مشرف نے یہودی قیادت کے سامنے ماضی کا جو آئینہ پیش کیا ہے اس کی داد نہ دینا نا انصافی کی بات ہوگی۔

صدر پرویز کا یہ کہنا تاریخی طور پر درست ہے کہ ایک صدی قبل تک مسلمانوں اور یہودیوں کے تعلقات متوازن اور خوشگوار رہے ہیں اور مسلمان خلافتوں کے سائے میں یہودی پورے امن اور اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے ہیں، بلکہ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں جب بیت المقدس کا کنٹرول مسیحیوں سے حاصل کیا تو مسیحیوں نے یہودیوں کے بیت المقدس شہر میں داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ کم و بیش پانچ سو سال تک محیط اس پابندی کا خاتمہ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے حکم سے ہوا اور یہودیوں کو اس شہر میں آنے کی اجازت ملی۔ جبکہ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان صدیوں سے چلے آنے والے ان خوشگوار تعلقات کو دشمنی اور عداوت میں تبدیل کرنے کا آغاز مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ یہودیوں کی طرف سے ہوا جب انہوں نے فلسطین پر قبضہ کرنے اور بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھیننے کے لیے یورپ کی ان مسیحی قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا، جو خلافت عثمانیہ کے خلاف صلیبی جنگوں میں صدیوں تک حریف رہی ہیں، اور جنہوں نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور مسلم ممالک پر استعماری تسلط کے لیے دن رات ایک کر رکھا تھا۔ یہودی اس کشمکش میں مسلمانوں کے خلاف صلیبیوں کے حلیف بن گئے اور ان کے زیر سایہ عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف گزشتہ ایک صدی کے دوران میں یہودیوں نے جو کچھ کیا، وہ بھی تاریخ کا ایک اہم بلکہ افسوسناک باب ہے۔

صدر پرویز مشرف اور ان کے ہمنواؤں سے ہماری یہ گزارش ہے کہ وہ ایک صدی قبل تک کے مسلم یہودی تعلقات کا تذکرہ ضرور کریں اور عالمی سطح پر مکالمہ میں اس کا حوالہ ضرور دیں لیکن گزشتہ ایک صدی کے دوران میں عالم اسلام، عرب دنیا، فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں صہیونی قیادت کے طرز عمل اور کردار کو بھی سامنے رکھیں، کیونکہ اس کے بغیر وہ توازن دائرۂ امکان میں نہیں آ سکے گا جسے قائم رکھنے کے لیے وہ یہ ساری تگ و دو کر رہے ہیں۔ اور اس کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ جہاں وہ عالمی یہودی قیادت کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں، وہاں ان فلسطینیوں کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کریں جو گزشتہ ایک صدی کے دوران میں اس تنازع میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور پورے حوصلہ اور جرأت کے ساتھ اب تک مزاحمت کی راہ پر گامزن ہیں۔ پھر اس معاملہ میں اسرائیل کے خلاف اصل فریق وہی ہیں اور انہیں اعتماد میں لیے بغیر اس خطہ میں امن کے قیام کا خواب کبھی تعبیر کی منزل حاصل نہیں کر سکے گا۔

ہمیں صدر پرویز مشرف کے اس خیال سے اتفاق نہیں ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ کوئی براہ راست تنازع نہیں ہے، اس لیے کہ بیت المقدس کا تنازع صرف فلسطینیوں اور عربوں کا نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے اور پاکستان عالم اسلام کا نہ صرف حصہ ہے بلکہ اس کی راہنمائی اور قیادت کا علمبردار ہے۔ صدر پرویز مشرف کے بہت سے مداحوں کا کہنا ہے کہ وہ عالم اسلام کو روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی طرف لے جانے میں پوری امت مسلمہ کی راہنمائی کر رہے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ راہنمائی صرف ایک پہلو تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ عالم اسلام کے مسائل اور مشکلات کے حل کی کوشش بھی اس کے دائرہ میں شامل ہونی چاہیے۔ بیت المقدس عالم اسلام کا مسئلہ ہے اور عالم اسلام کی راہنمائی کے دعوے دار پاکستان کا مسئلہ ہے، اس لیے اس مسئلہ کی موجودگی میں یہ کہنا پاکستان کے کسی بھی ذمہ دار شخص کی زبان پر زیب نہیں دیتا کہ پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ کوئی براہ راست تنازع نہیں ہے۔

ہم فلسطینی مسئلہ کے حل کے لیے صدر پرویز مشرف کی کوششوں کے مخالف نہیں ہیں، مگر صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ گزشتہ ایک صدی کے حقائق سے آنکھیں بند کر کے، بیت المقدس کے مسئلہ پر امت مسلمہ کے جذبات و احساسات کو پس پشت ڈال کر اور اس کشمکش میں سب سے زیادہ پسنے اور قربانیاں دینے والے فلسطینیوں کو نظر انداز کر کے نہیں ہونا چاہیے۔ تنازع کے فریق اور اسباب بدستور موجود رہے تو اس ماحول میں ہونے والی کوئی بھی صلح اور مفاہمت ہمارے ہاں قتل و قتال کے حوالے سے ہونے والی اس صلح سے مختلف نہیں ہوگی جس میں مقتول کے وارث اپنی بے بسی اور برادری کے دباؤ کے باعث وقتی طور پر صلح تو کر لیتے ہیں لیکن یہ صلح صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک مقتول کے ورثاء میں سے کوئی از خود انتقام لینے کی پوزیشن میں نہ آ جائے، اور جب ان میں سے کوئی خود کو اس پوزیشن میں محسوس کرنے لگتا ہے تو ساری پنچایتیں اور مصالحتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور مظلوم کا انتقام ایک زندہ حقیقت کے طور پر ان پنچایتوں اور برادریوں کا منہ چڑانے لگتا ہے۔

درجہ بندی: