نفاذ شریعت کی جدوجہد ۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان کا مکتوب گرامی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ فروری ۲۰۱۲ء
اصل عنوان: 
نفاذ شریعت کی جدوجہد اور مایوسی کے پھیلتے سائے

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم ہمارے محترم بزرگ اور اکابر علماء کرام میں سے ہیں اور اہل علم کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے معاصرین اکثر اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور ان کی یادگار کے طور پر حضرت شیخ مدظلہ کا وجود ہم سب کے لیے باعث برکت اور غنیمت ہے، اللہ تعالٰی انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین۔

گزشتہ دنوں ملک کے اکابر علماء کرام کی خدمت میں راقم الحروف نے ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی ۲۴ ستمبر ۲۰۱۱ء کو لاہور میں منعقد ہونے والی ’’اتحاد امت کانفرنس‘‘ کی رپورٹ ارسال کی اور ان سے گزارش کی کہ وہ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔ اس کانفرنس میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ ۵۵ علماء نے پاکستان کے سیاسی نظام کے لیے ۱۹۵۱ء میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کے طے کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی ایک بار پھر توثیق و تجدید کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کے لیے ۱۵ مزید نکات کا ان میں اضافہ کیا ہے، اور بحمد اللہ تعالٰی تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کی طرف سے اس کی تائید و توثیق کا سلسلہ جاری ہے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے اس کے جواب میں گرامی نامہ ارسال فرمایا ہے جو ۱۲ فروری کا تحریر فرمودہ ہے اور جس میں نفاذ شریعت کے سلسلہ میں ملک کی موجودہ افسوسناک صورتحال کے بارے میں گہرے کرب و اضطراب کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ مکتوب گرامی قارئین کی خدمت میں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں البتہ اس میں حضرت شیخ مدظلہ نے تواضع و انکساری اور ذرہ نوازی و حوصلہ افزائی کے جو الفاظ تحریر فرمائے ہیں وہ حذف کر دیے گئے ہیں اس لیے کہ وہ خود میرے لیے شرمندگی کا باعث ہیں، جبکہ مکتوب گرامی کی دیگر تفصیلات کو نکات کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ حضرت شیخ مدظلہ کا ارشاد ہے کہ:

  • سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا لکھوں، اللہ بزرگ و برتر کی رحمت سے مایوسی کفر ہے، ادھر حالات حوصلہ شکن ہیں، صلاح و فلاح کے راستے نہ صرف مسدود ہیں بلکہ ان پر جبر و مکر کا پہرہ ہے۔
  • وارثان نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام جو اس مشکل کو حل کرنے کے لیے ذمہ دار تھے وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے بلکہ وہ طاغوت کے ہمنوا نظر آرہے ہیں۔ کوئی جدیدیت کی رو میں بہہ کر جدت پسند بنا ہوا ہے اور حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھا ہے، کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ زنادقہ کی معاونت اور پشتیبانی کر رہا ہے، کسی نے مال بٹورنے کے لیے نئے نئے جال بن رکھے ہیں اور دلکش حجابات کے ذریعے قوم کو گمراہ کر رہا ہے۔
  • موجودہ کسی بھی اصلاحی کوشش میں معروف احکام شریعت کی پاسداری نظر نہیں آتی، جتنے سلسلے آج اسلامی نظام کے احیا کے لیے موجود ہیں مجھے ان کے ذریعے کامیابی کی امید نہیں۔
  • عیار و مکار دشمن کی ریشہ دوانیوں اور نفسانیت و شیطنت کے نتیجے میں ایک ہی مسلک کے لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے درپے ہیں اور اتحاد قائم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس المناک صورتحال سے احقر سخت پریشان ہے اور بظاہر اس کا کوئی علاج نظر نہیں آرہا، کئی مرتبہ درخواست کر چکا ہوں لیکن نتیجہ صفر رہا ہے، دوسری خرابیوں کا بھی یہی حال ہے، غلط روش چھوڑنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔
  • معروف تبلیغی طریقہ کار اور موجودہ مدارس کے نظام کے علاوہ ہر جگہ ابتری ہے، تبلیغ اور مدارس کے نظام میں بھی کئی پہلو قابل اصلاح ہیں لیکن دوسروں کے مقابلہ میں پھر بھی غنیمت ہیں۔
  • اگر خانقاہی نظام کو دیکھیں تو تھانہ بھون کی خانقاہ، رائے پور کی خانقاہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریاؒ کی خانقاہ کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ خواجہ خواجگان مولانا خان محمد (کندیاں) کی خانقاہ و مرکز اہل معرفت کا درجہ رکھتی تھی مگر ان کی رحلت کے بعد اس کی مرکزیت ختم ہوگئی۔
  • تحفظ ناموس رسالت کے لیے بڑے پیمانے پر پاکستان اور بیرون پاکستان کام ہوا ہے اور اس کے نتائج بھی حوصلہ افزا سامنے آئے ہیں لیکن اس میں بھی اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے۔
  • دین اسلام اللہ تبارک و تعالٰی کا پسندیدہ واحد دین ہے اور تاقیامت اس کو باقی رہنا ہے۔ اس نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، وہی ہمیشہ ہوشربا، مہلک اور تباہ و برباد کرنے والے حالات میں اس کی حفاظت کرتا رہا ہے، ان شاء اللہ اب بھی اللہ بزرگ و برتر اس کی حفاظت فرمائیں گے۔
  • ملی مجلس شرعی کے اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ اچھے ہیں اگر ان کو روبہ عمل لایا جا سکے تو مفید ہوگا۔ مگر محترم اس سے پہلے بھی ہم سب کے بزرگوں کی کوشش سے عمدہ، اچھے اور مفید فیصلے ہوئے ہیں لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ تو ثواب حاصل کرتے رہیں اور اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔
  • احقر کسی اور خدمت کا اہل تو نہیں ہے، مختلف قسم کے عوارض اور موانع کی بنا پر معذور و مجبور ہے، مگر دعائے خیر کے لیے حاضر ہے اس لیے دعا ہی کو احقر نے اپنا وظیفہ اور معمول بنا رکھا ہے۔

نفاذ شریعت کی جدوجہد کے ایک شعوری کارکن کے طور پر میرے خیال میں شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کا یہ مکتوب گرامی ہم سب کے لیے ’’آئینہ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی روشنی میں ہم سب کو اپنے اپنے کردار اور طرز عمل کا ایک بار ضرور جائزہ لینا چاہیے۔ اس گرامی نامہ کے آخری حصے کے حوالہ سے مجھے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا ایک ارشاد یاد آگیا ہے اسے بھی اس کے ساتھ شامل کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

اب سے ربع صدی قبل جب سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کے پیش کردہ شریعت بل کے بارے میں ملک بھر میں تحریک جاری تھی، حضرت مولانا عبد الحقؒ کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کا ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ اس سلسلہ میں سرگرم عمل تھا اور میں اس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے شب و روز مصروف متحرک تھا، ایک دن حضرت والد محترمؒ نے مجھے بطور خاص بلا کر فرمایا کہ میں تمہاری شب و روز کی نقل و حرکت اور مصروفیت مسلسل دیکھ رہا ہوں اور خوش ہوں کہ ایک اچھے مقصد کے لیے تم محنت سے کام کر رہے ہو، مگر یہ بات تمہیں خاص طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ جو کچھ کر رہے ہو اسے خلوص نیت کے ساتھ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کرنا اور یہ توقع نہ رکھنا کہ تمہاری کوشش سے یہ کام عملاً ہو بھی جائے گا، اس لیے کہ نفاذ شریعت اس ملک میں یا دنیا میں اسی وقت ہوگا جب اللہ تعالٰی کو منظور ہوگا، ہم صرف اس بات کے مکلف ہیں کہ خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داری کا کام کرتے رہیں، نتائج نہ ہمارے ہاتھ میں ہیں اور نہ ہم ان کے مکلف ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کوئی شخص کسی موقف اور ہدف کو سامنے رکھ کر کام کرتا ہے تو اس کام کے پورا نہ ہونے پر اس کی مایوسی اور ردعمل بھی اسی درجہ ہوتا ہے جس سطح کی اس کی محنت ہوتی ہے اور میں تمہیں اس مایوسی اور ردعمل سے بچانے کے لیے یہ بات تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ بحمد اللہ تعالٰی اس کے بعد جو کام بھی کرتا ہوں اسی نیت سے کرتا ہوں کہ نتائج کی نہ مجھے توقع ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی پروا کرتا ہوں۔