ملالہ یوسف زئی اور میڈیا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کے بعد ورلڈ اور قومی میڈیا نے جو ہاہاکار مچائے رکھی اس نے چند دنوں تک تو اچھے بھلے ارباب دانش کو پریشان کیے رکھا ہے لیکن اب جوں جوں میڈیا اور لابیوں کا اڑایا ہوا غبار بیٹھتا جا رہا ہے لوگوں کو اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے اور بہت سے سوالات جو زیرلب تھے اب سامنے آتے جا رہے ہیں۔

جہاں تک ملالہ پر ہونے والے قاتلانہ حملہ کا تعلق ہے ہر ذی شعور شخص نے اس کی مذمت کی ہے اور اسے ناپسند کیا ہے لیکن یہ بات عام لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس حملہ میں ملالہ کے ساتھ دو اور لڑکیاں شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئی تھیں مگر انہیں نہ پروٹوکول ملا ہے، نہ ان کے علاج کے لیے ملالہ کی طرح انتظامات کیے گئے ہیں، نہ میڈیا نے ان کا تذکرہ مناسب سمجھا ہے اور نہ ہی ملکی حکمرانوں نے انہیں اہمیت دینے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ ہمیں تو پہلے دن ہی حکمرانوں، عالمی اداروں اور میڈیا کے اس امتیازی رویہ سے بات سمجھ میں آگئی تھی کہ اصل معاملہ کچھ اور ہے اور اس قاتلانہ حملہ کی آڑ میں کچھ مخصوص مقاصد کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

  • ہمارے خیال میں دو بڑے مقاصد میں سے ایک میں تو ان حلقوں نے کامیابی حاصل کر لی ہے کہ توہین رسالت ؐ پر مبنی شرمناک امریکی فلم کے ردعمل میں رائے عامہ، میڈیا اور لابنگ کے ذریعہ یہ مہم دھیرے دھیرے منظم ہوتی جا رہی تھی کہ توہین رسالت ؐکو بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دلوانے کے لیے جد و جہد کی جائے۔ اس سے لوگوں کی توجہ بہرحال ہٹ گئی ہے اور یہ معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
  • لیکن اس تیر سے جو دوسرا شکار عالمی سیکولر لابیوں کے نشانے کی زد میں تھا وہ خطا ہو گیا ہے۔ اور وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی راہ ہموار کرنا تھا جس کا مطالبہ مختلف حلقوں کی طرف سے پورے شدومد کے ساتھ کیا گیا لیکن صدر آصف علی زرداری نے یہ کہہ کر اس کے امکانات کی نفی کر دی ہے کہ اس قسم کے آپریشن کے لیے قومی سطح پر مفاہمت اور اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کے خیال میں الیکشن قریب آرہے ہیں اور قومی پارٹیاں دائیں بازو کے ووٹ کو اس وقت ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہیں۔

اس مرحلہ پر ہم دینی جماعتوں بالخصوص تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ؐ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے یہ گزارش کریں گے کہ توہین رسالت ؐکو بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دلوانے کی مہم کو کمزور نہیں پڑنا چاہیے اور تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ؐ کے دونوں محاذوں کو باہمی مشاورت اور اشتراک کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت ؐ کے مسئلہ پر عالمی سطح پر جدوجہد کا کوئی عملی پروگرام ضرور طے کرنا چاہیے۔

درجہ بندی: