لڑکیوں کا مبینہ قتل اور این جی اوز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۲ء

گزشتہ دنوں کوہستان ہزارہ میں رقص و سرور کی کسی محفل میں پانچ لڑکیوں کے قتل کی ایک خبر عام ہوئی اور اس پر بنائی گئی ویڈیو کو مختلف حلقوں میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا۔ روزنامہ اسلام لاہور ۲۱ جون کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے لڑکیوں کے قتل کی خبر کو جھوٹی خبر قرار دے کر اس کیس کو نمٹا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جسٹس منیرہ عباسی نے اپنی رپورٹ میں عدالت عظمٰی کو بتایا کہ لڑکیاں زندہ ہیں اور قتل کی خبر جھوٹی ہے، جس پر سپریم کورٹ نے یہ کیس نمٹا دیا۔ قارئین کرام کو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ قبل ایک لڑکی کو سرِ عام کوڑے مارنے کی ایک ویڈیو کا بھی چرچا ہوا تھا اور اسے دینی کارکنوں کو بدنام کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر پھیلا یا گیا تھا مگر وہ ویڈیو بھی جعلی ثابت ہوئی اور یہ بات سامنے آئی کہ بعض این جی اوز اسلام اور مجاہدین کی کردارکشی کے لیے اس قسم کی ویڈیو جعلی طور پر تیار کرتی ہیں اور انہیں پھیلا کر مذموم مقاصد پورے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

چنانچہ کوہستان کے علماء نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور روزنامہ ’’آج‘‘ ایبٹ آباد ۱۲ جون ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق ضلع کوہستان کے ۸۵ کے قریب علماء کا ایک اجلاس سابق ایم این اے مولانا عبد الحلیم کی زیر صدارت بدر کوٹ میں ہوا جس میں این جی اوز کی سر گرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ این جی اوز علاقہ میں فحاشی اور عریانی پھیلا رہی ہیں جس پر ایکشن لیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ۲۷ جون کو دوبارہ بدرکوٹ میں علماء کا اجلاس منعقد ہو گا اور اس کے بعد ۲۹ جون کو جامع مسجد کمیلا میں بھرپور اجتماع منعقد کر کے این جی اوز کو علاقہ بدر کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز موجود ہیں جن کا ظاہری ایجنڈا سماجی خدمات اور رفاہی سرگرمیاں ہیں لیکن ان کی آڑ میں یہ غیر سرکاری تنظیمیں ملکی تہذیب و ثقافت کو پامال کرنے اور اسلامی عقائد و روایات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے میں مصروف ہیں جس کے لیے انہیں بیرونی ممالک سے مبینہ طور پر اربوں روپے کی امداد مل رہی ہے۔ بالخصوص چند سال قبل زلزلہ سے اور گزشتہ سال سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقے ان سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز ہیں جن کے بارے میں کم و بیش ہر علاقہ کے دینی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ضلع کوہستان کے علماء نے اس صورتحال کا نوٹس لے کر مستحسن اقدام کیا ہے لیکن ہمارے خیال میں سماجی اور رفاہی خدمات کے عنوان سے کام کرنے والی این جی اوز کو کام سے روک دینا اور علاقہ بدر کر دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ سماجی اور رفاہی خدمات کے اس خلا کو پر کرنے کے علماء کرام اور دینی جماعتوں و مراکز کا سامنے آنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ ہتھیار ان این جی اوز کے ہاتھوں میں نہ رہنے دیا جائے جس کی آڑ میں وہ فحاشی، عریانی اور بے دینی پھیلانے کا مکروہ کاروبار کر رہی ہیں۔