قصاص کے قانون پر عملداری کے حوالہ سے افسوسناک صورتحال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۴ء

روزنامہ پاکستان لاہور میں یکم ستمبر ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے تھانہ واہ کینٹ کے ایک مقدمہ قتل میں مجرم ثابت ہونے والے قیدی شعیب سرور کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں اور سزائے موت کو روکنے کے حوالہ سے حکومتی اختیار کو ختم کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس مقدمہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے ۲۲ جولائی ۱۹۹۸ء کو شعیب سرور کو اویس نواز کا قاتل قرار دے کر پھانسی کی سزا کا حکم سنایا تھا، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کے خلاف ملزم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں اور صدر پاکستان نے بھی رحم کی اپیل خارج کر دی تھی لیکن اس کے باوجود مجرم کو سزا نہیں دی گئی۔ جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے حکم دیا ہے کہ مجرم کو دی جانے والی موت کی سزا پر عملدرآمد کر کے انہیں اس کی رپورٹ دی جائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ صرف ایک کیس کی بات نہیں بلکہ ملک بھر کی مختلف جیلوں میں اس وقت ایک ہزار سے زائد قیدی اسی کیفیت سے دوچار ہیں کہ انہیں باقاعدہ قتل کا مجرم قرار دیا جا چکا ہے، ان کی اپیلیں سپریم کورٹ سے خارج ہو چکی ہیں اور صدر نے بھی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں لیکن وہ سالہا سال سے جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں بند ہیں اور ان عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں ہو رہا۔

ایک جائزہ کے مطابق حکومت نے گزشتہ چھ سات برس سے موت کی سزاؤں پر عمل روک رکھا ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اکثریتی قرارداد کے ذریعے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی جرم میں موت کی سزا نہ دیں اور موت کی سزا کے تمام قوانین ختم کر دیے جائیں۔ اس بنیاد پر بہت سے بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی موت کی سزا ختم کی جائے اور اس حوالہ سے متعلقہ قوانین کو تبدیل کر دیا جائے۔ جبکہ ہماری حکومتیں اسے بین الاقوامی دباؤ قرار دیتے ہوئے اس کے سامنے بے بسی کا اظہار کر رہی ہیں اور موت کی سزا کے قوانین کو ختم کرنے کا حوصلہ نہ پاتے ہوئے انہوں نے اس سلسلہ میں عدالتی فیصلوں پر عمل کو روکے رکھنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے، جس کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے مذکورہ فیصلے میں بجا طور پر نوٹس لیا ہے۔ ان کے اس فیصلے پر عمل ہوتا ہے یا نہیں لیکن انہوں نے دستور و قانون کی عملداری کے حوالہ سے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے جو خاص طور پر ملک کے دینی حلقوں کی توجہ کا طالب ہے ،اس لیے کہ متعدد جرائم پر موت کی سزا قرآن و سنت میں مقرر کی گئی ہے اور قرآن کریم نے قصاص کے قانون کو سوسائٹی میں امن کے قیام کی ضمانت قرار دے کر اسے نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ توہین رسالت کے سنگین جرم پر موت کی سزا بھی ملک کے قانون کا حصہ ہے، جبکہ دستور پاکستان میں قرآن و سنت کو ملک کے قانون کی بنیاد تسلیم کیا گیا ہے اور شرعی احکام کے نفاذ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں بین الاقوامی دباؤ کو بہانہ بنا کر قرآن و سنت کے احکام پر عمل سے گریز خود دستور پاکستان سے انحراف ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔

موت کی سزا کو ختم کرنے کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد کو بہت سے ممالک حتٰی کہ امریکہ کی بعض ریاستوں میں تسلیم نہیں کیا گیا اور متعدد ممالک میں موت کی سزا پر مسلسل عمل ہو رہا ہے لیکن ہمارے مقتدر طبقات ’’شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے گزشتہ چھ برس سے قصاص کے شرعی قانون پر عملدرآمد سے گریزاں ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک و قوم کی موجودہ مشکلات و مصائب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقات نہ شرعی قوانین کے نفاذ میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی دستور و قانون کی صحیح معنوں میں عملداری کی طرف ان کی توجہ ہے۔خاص طور پر قصاص اور سود جیسے اہم معاملات میں عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کرنے کی نحوست بڑھتی جا رہی ہے اور قومی سطح پر ہمارے ہر آنے والا دن گزشتہ دن سے زیادہ پریشان کن ہوتا ہے۔اس لیے پاکستان کی رولنگ کلاس اور اس میں شامل تمام طبقات اور گروہوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ خدا کے لیے ملک و قوم پر رحم کریں اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین پر عملدرآمد میں رکاوٹ بننے کی بجائے ان کے نفاذ اور عملداری کا اہتمام کریں تاکہ وطن عزیز پر نحوستوں کا سایہ ختم ہو اور ہم صحیح معنوں میں آزادی، خود مختاری اور خوشحالی کی منزل کی طرف گامزن ہو سکیں۔