دستور کی اسلامی دفعات اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کی وضاحت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ مارچ ۲۰۰۰ء

دستور پاکستان کے معطل ہونے کے بعد دستور کی اسلامی دفعات بالخصوص قرارداد مقاصد اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ سے متعلقہ شقوں کے حوالہ سے دینی حلقے مسلسل تشویش و اضطراب کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں گزشتہ دنوں دو وضاحتیں سامنے آئی ہیں، ایک وزارت قانون کے ترجمان کی طرف سے اس طرح ہے کہ

’’قادیانیوں کے بارے میں آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کلاز تھری بدستور نافذ العمل ہے جس کے تحت قادیانی گروپ اور خود کو احمدی کہنے والے لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات وزارت قانون کے ایک ترجمان نے گزشتہ روز بتائی۔ ترجمان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین سے متعلقہ اسلامی دفعات بشمول آرٹیکل ۲۶۰ کے کلاز تھری کی دفعات ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے آرڈر اور عبوری آئینی حکم نمبر ۱، ۱۹۹۹ء سے ہرگز متصادم نہیں بلکہ یہ تمام دفعات اس وقت بھی نافذ العمل ہیں۔ وزارت قانون کے ترجمان نے بعض حلقوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے اس تاثر کو قطعی غلط قرار دیا کہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو ہنگامی حالات کے نفاذ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کو معطل قرار دینے کے بعد قادیانیوں سے متعلقہ آئینی دفعات نافذ العمل نہیں رہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں پھیلائے گئے شکوک و شبہات بلاجواز ہیں۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۹۹ء کے عبوری آئین کے حکم نمبر ۱ کے آرٹیکل ۲ میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعات معطل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر ممکن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔‘‘

جبکہ دوسری وضاحت ہمارے محترم دوست اور بزرگ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن کی حیثیت سے کی ہے۔ ۲۷ فروری کو لاہور میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا ہے کہ

’’نیشنل سکیورٹی کونسل اسلامی عقائد اور قرارداد مقاصد کو سامنے رکھ کر ہی کوئی کام کرے گی اس کے علاوہ کسی چیز پر عمل نہیں ہوگا۔ دستور میں اسلامی شقیں معطل نہیں ہیں، قادیانی غیر مسلم ہیں اور غیر مسلم ہی رہیں گے۔ پاکستان میں شریعت ہی سپریم لاء ہے، کسی بھی اعلیٰ عدالت نے آج تک شریعت کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ پی سی او کے تحت آئین کی محض مخصوص دفعات کو معطل کیا گیا ہے، سارا آئین معطل نہیں ہے۔ عدالتیں بدستور کام کر رہی ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم نہیں کیا جا رہا، یہ ساری غلط فہمیاں ہیں، اس کے ممبران کی کم از کم تعداد ۵ موجود ہے، آئندہ چند دنوں میں نئے ارکان کی تقرری بھی کر دی جائے گی۔ ان کی سمری چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے پاس ہے، موجودہ حکومت پر قادیانی ازم پھیلانے کا الزام درست نہیں یہ افواہیں ہیں۔ جن تین اہم شخصیات کے بارے میں قادیانی ہونے کا کہا گیا ہے اس کے بارے میں تحقیقات کی گئیں تو وہ درست ثابت نہ ہوا۔‘‘

حکومتی حلقے کی دو ذمہ دار شخصیتوں کی طرف سے اس وضاحت پر جہاں اطمینان کے اس پہلو کا اظہار ضروری ہے کہ حکومت نے اس سلسلہ میں دینی حلقوں کے اضطراب کو محسوس کیا ہے اور اس کا نوٹس لیا ہے وہاں اس قدر تفصیلی وضاحت کے باوجود یہ عرض کرنا بھی نامناسب نہیں ہوگا کہ آئینی بحران اور خلاء کے حوالہ سے مسئلہ ابھی جوں کا توں ہے اور دستور پاکستان کی مذکورہ اسلامی دفعات اصولی طور پر بدستور ابہام کا شکار ہیں۔ مثلاً یہ بات ڈاکٹر غازی صاحب نے بھی فرمائی ہے اور وزارت قانون کے ترجمان کے بیان میں بھی اس طرف اشارہ موجود ہے کہ دستور پاکستان کی بعض دفعات کو معطل کیا گیا ہے اور ان کے سوا باقی دستور موجود ہے اور ملک کا نظام اس کے مطابق چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ لیکن جہاں تک ہمیں یاد ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے بارے میں جو اعلان کیا تھا وہ یہی تھا کہ دستور پاکستان معطل کر دیا گیا ہے۔ یعنی جنرل صاحب کے کسی دستوری فرمان میں دستور کی معطل ہونے والی دفعات اور بحال رہنے والی دفعات کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی اعلان میں معطل ہونے سے مستثنیٰ قرار پانے والی دستوری دفعات کا کوئی ذکر ہے۔

چنانچہ جب یہ کہا گیا ہے کہ ’’دستور معطل ہے‘‘ تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پورے کا پورا دستور معطل ہے ورنہ اس تعطل کے دائرہ میں نہ آنے والی دفعات کا علیحدہ طور پر ذکر ضروری تھا۔ بلکہ وزارت قانون کے ترجمان کی مذکورہ وضاحت کے اس جملہ کو دوبارہ دیکھ لیں کہ

’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعات معطل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر ممکن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔‘‘

اس جملہ میں ہمیں دو باتیں کھٹک رہی ہیں،

  1. ایک بات دستور معطل ہونے یا دستور کی دفعات معطل ہونے میں اٹکی ہوئی ہے۔ اگر دستور معطل ہوا ہے تو اس کی اسلامی دفعات کیسے باقی ہیں اور اگر دستور کی دفعات معطل ہوئی ہیں تو معطل ہونے والی اور بحال رہنے والی دستوری دفعات کی تفصیل کہاں ہے؟
  2. دوسری بات ’’ہر ممکن طور پر’’ کا جملہ ہے جو دستور کے مطابق ملک کا نظام چلانے کی گارنٹی کو کمزور کر رہا ہے۔ اور الجھن یہ ہے کہ اس ’’ہر ممکن طور پر‘‘ کے تعین کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہے اور اس کی چابی کس کے پاس ہے؟

اس ضمن میں یہ بات بھی غور طلب ہےکہ دستور کی معطلی، اس کی بعض دفعات کی معطلی، یا دستور کی اسلامی دفعات کی بحالی کا تعلق چیف ایگزیکٹو کے دستوری فرمان سے ہے کیونکہ جو کچھ بھی خلاء یا بحران نظر آرہا ہے وہ اسی سے پیدا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزارت قانون کے ترجمان کی وضاحت یا نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک رکن کے ارشاد سے دستور کا خلاء پر ہو جاتا ہے؟ اور ان کے فرمودات کو عبوری آئین کے فرمان کا قائم مقام یا اس کا متبادل ہونے کی صلاحیت و حیثیت حاصل ہے؟ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہے اور اس پر اطمینان کا اظہار کرنے اور اس پر حکومت کا شکریہ ادا کرنے میں ہمیں کوئی باک نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور دستور کے ابہام یا خلاء کو دستوری فرمان نے ہی دور کرنا ہے تو ہم اپنی اس سابقہ درخواست پر بدستور قائم ہیں کہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف عبوری دستور کے ایک مستقل فرمان کے ذریعہ قرارداد مقاصد سمیت دستور کی تمام اسلامی دفعات اور قادیانیوں سے متعلقہ شقوں کی بحالی کا اعلان کریں کیونکہ اس کے بغیر اس حوالہ سے دینی حلقوں کے اضطراب اور تشویش میں کمی نہیں ہوگی۔

اس کے ساتھ ہی محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی سے ایک اور بات کی وضاحت کی درخواست بھی کر رہا ہوں کہ انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں تو یہ خوش آئند وضاحت کر دی ہے کہ اس کا وجود قائم ہے اور بہت جلد اس کی تکمیل ہونے والی ہے، اگر وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے بارے میں بھی تازہ صورتحال کی وضاحت فرما دیں تو ان کی بے حد نوازش ہوگی۔ کیونکہ ہمارے خیال میں پی سی او کے تحت اعلیٰ عدالتوں کے نئے حلف کے بعد سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے بارے میں بھی شکوک و شبہات ابھر رہے ہیں۔ اب تک سامنے آنے والی صورتحال یہ ہے کہ شریعت ایپلیٹ بینچ کے جسٹس خلیل الرحمان خان اور جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے حلف نہیں اٹھایا تھا اور اس کے بعد کسی نئے ’’شریعت ایپلیٹ بینچ‘‘ کی تشکیل ہماری نظر سے نہیں گزری۔ اس لیے ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ دستور پاکستان کی صراحت کے مطابق اس وقت سپریم کورٹ کے ’’شریعت ایپلیٹ بینچ‘‘ کا ڈھانچہ کیا ہے؟ مجھے ڈر ہے کہ ہمارے اس دوست کی بات کہیں سچ نہ ہو جائے جس نے سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینچ کی طرف سے سودی قوانین کے خاتمہ کے تاریخی فیصلہ کے بعد کہا تھا کہ ’’مولوی صاحب! کیا یہ بینچ اب اپنا وجود قائم رکھ سکے گا؟‘‘