طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور تربیتی کورسز / وراثت کے کیس کا ۹۰ سال کے بعد فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۴ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۱۴ء کی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب نے ملک میں طلاق کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا ہے جن میں لوگوں کو خاندانی طور پر بہتر زندگی گزارنے اور طلاق سے بچنے کی تربیت دی جائے گی۔ خبر کے مطابق اس قسم کے کورسز کا اہتمام ملائیشیا میں بھی کیا گیا ہے۔

اسلام نے خاندانی زندگی کے جو اصول و ضوابط اور احکام و قوانین بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں طلاق ’’ابغض المباحات‘‘ ہے، یعنی مجبوری کے آخری درجہ کا وہ آپشن جسے انتہائی ناپسندیدگی کے ساتھ ہی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مغربی سوسائٹی کی دیکھا دیکھی مسلم ممالک میں بھی طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ مسئلہ صرف سعودی عرب یا ملائیشیا کا نہیں بلکہ پاکستان سمیت ہر مسلمان ملک اس پریشانی سے دو چار ہے۔ مغرب میں نکاح کی حیثیت محض ایک سوشل کنٹریکٹ (سماجی معاہدہ) کی ہے جس کے تحت دو افراد اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے آپس میں معاملہ کر لیتے ہیں، اس کی کوئی مذہبی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اسے کوئی ضروری امر تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ مغربی معاشرے میں شادی کے بندھن سے آزاد رہ کر مرد اور عورت کے جنسی تعلقات اور اکٹھے رہنے کا رواج اس قدر عام ہو چکا ہے کہ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق بن بیاہے جوڑوں اور بغیر باپ کے اولاد کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں سرکاری اور غیر سرکاری ادارے، لابیاں، میڈیا، این جی اوز اور ابلاغ و بریفنگ کے دیگر ذرائع جس طرح مغربی سوسائٹی کو ایک آئیڈیل معاشرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں، اور مغربی معاشرتی اقدار و روایات کو اپنانے کے شوق کی جس طرح پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ خاندان اور رشتوں کا تقدس ذہنوں سے محو ہوجائے اور وہ بتدریج ہوتا جا رہا ہے، جس کی ایک علامت طلاق کی شرح میں روز افزوں اضافہ ہے۔ ہمارے خیال میں اس کا علاج تربیتی کورسز نہیں ہیں بلکہ مغربی معاشرت کی خرابیوں کو اجاگر کرنا، خاندان کے اسلامی احکام و قوانین کی تعلیم عام کرنا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی پاکیزہ خاندانی زندگیوں کے ماحول سے نئی نسل کو متعارف کرانا اس مشکل کا اصل حل ہے۔ اس لیے وقتی تربیتی کورسز میں وقت خرچ کرنے کی بجائے مسلمان حکومتوں کو اپنی تعلیمی اور ثقافتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی اور قرآن و سنت کی تعلیمات و روایات کو فروغ دینا ہو گا، اس کے بغیر اس معاشرتی روگ کا علاج ممکن نہیں ہے۔

وراثت کے کیس کا ۹۰ سال کے بعد فیصلہ

روزنامہ اسلام لاہور نے ۲۱ مئی ۲۰۱۴ء کی اشاعت میں خبر شائع کی ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں بہاولپور کے ۹۰ سالہ پرانے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شریعت کے مطابق وراثت تقسیم کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔تفصیل کے مطابق ۱۹۲۰ء میں کریم بخش نامی ایک صاحب ۸۰۰ کنال زمین چھوڑ کر فوت ہو گئے اور ان کے اکلوتے بیٹے نے اپنی چار پھوپھیوں کو مردہ ظاہر کر کے ساری زمین اپنے نام کرا لی۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کی پھوپھی زاد بھائی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور یہ کیس مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے سپریم کورٹ تک پہنچا جس کا فیصلہ گزشتہ روز سنایا گیا ہے اور وراثت کی شرعی تقسیم کے علاوہ دھوکہ دینے والے فریق کو ۱۹۷۴ء سے اب تک کیس کا سارا خرچہ ادا کرنے کا بطور جرمانہ حکم بھی دیا گیا ہے۔

ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے یہ استدعا کرنا چاہیں گے کہ ایک کیس کے نوے سال تک چلتے رہنے کے اسباب کا بھی جائزہ لیا جائے اور اس حوالہ سے بھی کوئی مناسب فیصلہ صادر کیا جائے کہ ملک کے عام شہریوں کو جلد اور فوری انصاف آخر کس طرح فراہم کیا جا سکتا ہے؟