تہران یونیورسٹی میں فقہ حنفی کا شعبہ قائم کرنے کی تجویز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جون ۲۰۱۹ء
اصل عنوان: 
تہران یونیورسٹی میں فقہ حنفی کے شعبہ کا قیام

تہران یونیورسٹی میں منعقد ہونے والا عالمی موتمر گزشتہ روز بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوگیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے شام چھ بجے تک جاری رہا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، جامعات کے اساتذہ اور اہل دانش نے شرکت کی۔ جبکہ بھارت سے مولانا سید سلمان الحسینی ندوی اور پاکستان سے جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا عزیز الرحمان سواتی اور جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبد الحق ہاشمی کے علاوہ ایران سے بہت سے سرکردہ حضرات اس اجتماع میں شریک ہوئے۔ صدر ایران کے مشیر حجۃ الاسلام علی یونسی مہمان خصوصی تھے اور کلیۃ الالہیات جامعہ تہران کے استاذ ڈاکٹر مصطفٰی ذوالفقار طلب موتمر کے رئیس تھے۔ کانفرنس میں انسانی معاشرہ کو پر اَمن ماحول فراہم کرنے، بالخصوص عالم اسلام میں باہمی وحدت کے فروغ اور فرقہ وارانہ و دیگر تنازعات و اختلافات کو ان کی جائز حدود میں رکھنے کے حوالہ سے علماء کرام اور ارباب دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

موتمر سے ایک دن قبل جامعہ تہران میں موتمر کے میزبان شعبہ کلیۃ الشریعۃ والالہیات الاسلامیۃ میں مہمانوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں انہیں کلیہ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ اس شعبہ میں فقہ شافعی کی تدریس گزشتہ سات عشروں سے جاری ہے جس میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے درجوں میں تحقیق و تدریس کا کام ہوتا ہے اور سینکڑوں طلبہ اس سے استفادہ کر چکے ہیں جن میں بعض اسی شعبہ میں خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔ جامعہ تہران کا اس سلسلہ میں مصر کے جامعۃ الازہر کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق یہ تسلسل قائم ہے۔ اس موقع پر فقہ حنفی کی تعلیم و تدریس کے لیے بھی ’’چیئر‘‘ قائم کی گئی تھی مگر اس کا سلسلہ آگے نہ چل سکا۔ گفتگو کے دوران اس شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر احمد باکری کو توجہ دلائی گئی کہ فقہ شافعی کی تعلیم و تدریس بہت مستحسن امر ہے مگر اس کے ساتھ فقہ حنفی کا شعبہ قائم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ ایران میں رہنے والے اہل سنت میں احناف کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے اس سے اتفاق کیا، چنانچہ طے پایا کہ موتمر کے بعد دوسرے روز اس سلسلہ میں ایک خصوصی مشاورتی نشست کی جائے گی جو جمعرات کو گیارہ بجے اسی شعبہ کے کالج میں ڈاکٹر احمد باکری کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر مصطفٰی ذوالفقار طلب، ڈاکٹر جمال جمالی زادہ اور دیگر حضرات کے ساتھ مولانا سید سلمان ندوی، مولانا عبد الحمید آف زاھدان، مولانا عزیز الرحمان سواتی اور راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر جامعہ تہران میں فقہ حنفی کی تدریس و تحقیق کا شعبہ قائم کرنے کی تجویز پر تفصیل کے ساتھ تبادلہ خیالات ہوا اور صدر شعبہ نے بتایا کہ وہ اس سے متفق ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں جلد از جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے شرکاء محفل نے کہا کہ یہ موتمر کے مثبت ثمرات میں شمار کیا جائے گا اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

موتمر کے اختتام پر صدارتی مہمان خانہ میں صدر ایران کے مشیر حجۃ الاسلام علی یونسی نے بیرونی ممالک سے آنے والے مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں مختلف مندوبین نے عالم اسلام کی وحدت، امت مسلمہ کے باہمی تنازعات کو آپس میں گفتگو کے ذریعے حل کرنے اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے سلسلہ میں خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میزبان جناب حجۃ الاسلام علی یونسی کو مولانا سید سلمان ندوی حسینی نے توجہ دلائی کہ یہ بات دنیا بھر کے اہل سنت میں محسوس کی جا رہی ہے کہ تہران میں اہل سنت لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں مگر ان کی کوئی باضابطہ مسجد بالخصوص جمعۃ المبارک کی اجتماعی ادائیگی کا اہتمام موجود نہیں ہے۔ ایرانی صدر کے مشیر محترم نے اس شکایت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی اس کا احساس ہے، وہ یقین دلاتے ہیں کہ اس شکایت کو جلد از جلد دور کیا جائے گا اور تہران میں اہل سنت کی باقاعدہ مسجد کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

میں نے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ جمعرات کو دارالعلوم زاھدان کے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب میں شرکت کے لیے میں نے اپنے قیام کی مدت میں ایک دن کا اضافہ کیا تھا مگر جامعہ تہران میں فقہ حنفی کا شعبہ قائم کرنے کی تجویز پر جمعرات کے روز جس خصوصی نشست کا اہتمام ہوا اس کے منتظمین کا تقاضہ تھا کہ ہم اس میں ضرور شریک ہوں جبکہ مولانا سید سلمان ندوی، مولانا عزیز الرحمان سواتی اور راقم الحروف تینوں مولانا عبد الحمید کے ساتھ زاھدان جانے کی ترتیب طے کر چکے تھے اور شام کی فلائیٹ سے سیٹیں کنفرم تھیں، مگر مذکورہ نشست کی اہمیت کے پیش نظر ہم سب نے زاھدان جانے کا پروگرام ترک کر کے اس میں شرکت کی اور بحمد اللہ تعالٰی ایک اچھا فیصلہ ہوگیا۔ اب میں واپسی کے سفر کی تیاری میں ہوں، امید ہے کہ ہفتہ کے روز جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق کے باقاعدہ آغاز کے وعدہ کی تکمیل میں ان شاء اللہ تعالٰی کامیاب ہو جاؤں گا۔

درجہ بندی: