اتاترک کی تقلید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی مصطفی کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر کسی ابہام کے بغیر اپنی پالیسی ترجیحات کا جو دوٹوک اعلان کیا تھا، وہ اس پر بدستور قائم ہیں اور ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اعلانات کا تسلسل اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان کی زبان پر اقتدار کے پہلے روز مصطفی کمال اتاترک کا نام محض اتفاقی طور پر نہیں آ گیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے شعور اور عزائم کا ایک بھرپور پس منظر کارفرما تھا۔ اس لیے دینی اقدار و شعائر اور اسلام کے روایتی ڈھانچے کے حوالے سے وہ وقتاً فوقتاً جو کچھ بھی کہتے ہیں، ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمیں اس پر کسی قسم کی حیرت ہوتی ہے۔

مصطفی کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی ہیں اور برادر ترکی قوم کے محترم لیڈر کے طور پر ہم ان کا احترام کرتے ہیں، بلکہ اس تاریخی حقیقت کا پوری طرح ادراک رکھتے ہیں کہ آج جمہوریہ ترکی ایک ملک کے طور پر اگر موجود ہے اور اس کا شمار آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے کیا جاتا ہے تو اس کا کریڈٹ مصطفی کمال اتاترک کا جائز حق ہے، جنہوں نے ترک نیشنلزم کے نام پر ایک طرف خلافت عثمانیہ کا بوریا بستر سمیٹ کر عثمانی ایمپائر کو تاریخ کی نذر کر دیا تھا جبکہ دوسری طرف اسی ترک نیشنلزم کے ہتھیار سے یورپی مداخلت کاروں کا مقابلہ کر کے ترک قوم اور ملک کو ان کی دستبرد سے بچا لیا تھا۔ ورنہ خلافت عثمانیہ کے خلاف صدیوں جنگ لڑنے والے یورپی ممالک نے جس طرح ترکی کے حصے بخرے کر کے ڈکار لیے بغیر اسے ہضم کرنے کا پروگرام بنا لیا تھا، اگر مصطفی کمال اتاترک ان کے کباب میں ہڈی نہ بنتے تو ترکی آج ایک آزاد اور خود مختار ملک اور قوم کے طور پر موجود نہ ہوتا۔

ہمیں مصطفی کمال اتاترک کے اس کردار کا نہ صرف اعتراف ہے، بلکہ ہم اس کا پوری طرح احترام کرتے ہیں، لیکن ہمیں شکایت ہے کہ انہوں نے یورپی برادری میں شامل ہونے کے شوق میں اسلامی اقدار و روایات اور دینی شعائر کی جو قربانی دی اور جس بے دردی کے ساتھ ترکی میں اسلام کی دینی و ثقافتی علامات کا یکے بعد دیگرے خاتمہ کیا، اس نے ترکی کو کسی طرف کا نہیں رہنے دیا۔ دینی احکام و روایات اور شعائر کو مسلسل مٹاتے چلے جانے کے باوجود ترکی کو ابھی تک یورپی یونین کا رکن بننے کا جائز حق دار تصور نہیں کیا جا رہا اور اس کے یورپی برادری میں شامل ہونے کی راہ میں موجود رکاوٹیں ہنوز ناقابل عبور دکھائی دے رہی ہیں۔

ہمیں بھی وہی مسئلہ درپیش ہے، صرف تناظر میں وسعت پیدا ہو گئی ہے۔ ترکی کو یورپی برادری میں شامل ہونے کا شوق تھا جس کے لیے اسے اتنے پاپڑ بیلنے پڑے اور خدا جانے کب تک ان پاپڑوں سے اس کا واسطہ رہے گا، جبکہ ہمیں عالمی برادری کا قابل قبول حصہ بننے کا شوق تنگ کر رہا ہے اور صدر محترم اس شوق کی تکمیل کے لیے مصطفی کمال اتاترک کے نقش قدم پر مسلسل پیشرفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی تمام تر کوششوں اور پروگراموں کا مرکز و محور ہی یہی ہے کہ ہمیں آج کی عالمی برادری اور ورلڈ سسٹم میں ایسا مقام حاصل ہو جائے کہ ہماری کسی بات پر عالمی برادری کو اعتراض نہ ہو اور ہمارا کوئی معاملہ ورلڈ سسٹم کے لیے ناقابل قبول نہ ہو۔ ترکی کی یہ الجھن یورپی برادری کے حوالے سے تھی، جبکہ ہماری الجھن عالمی برادری کے حوالے سے ہے اور ہم یہ دیکھے بغیر کہ گزشتہ پون صدی میں ترکی کو اس طرز عمل سے کیا حاصل ہوا ہے، اسی راہ پر چلنے کے لیے بے چین ہیں۔

گزشتہ دنوں صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈاڑھی اور برقعے کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، اس سے قبل وہ چور کے ہاتھ کاٹنے کی قرآنی سزا کا جس انداز سے ذکر کر چکے ہیں، اور اس سے بھی پہلے ایک موقع پر نماز کے ضروری ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے انھوں نے جو کچھ کہا تھا، وہ ملک کے عام دینی حلقوں کے لیے ضرور حیرت کا باعث ہوگا، مگر ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہے، اس لیے کہ جمہوریہ ترکیہ کی گزشتہ پون صدی کی تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ ترکی کے قوم پرست لیڈروں کو یورپی برادری کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے لیے کیا کچھ کہنا پڑا تھا، کیا کچھ کرنا پڑا تھا اور کس کس چیز سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ اسی طرح عالم اسلام کا جو لیڈر بھی آج کی عالمی برادری اور ورلڈ سسٹم کو آئیڈیل قرار دے کر اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہونا چاہے گا، اسے یہ سب کچھ کہنا پڑے گا اور اس سے کہیں زیادہ کرنا بھی پڑے گا۔ اس کے بغیر کسی مسلمان لیڈر کو آج کا ورلڈ سسٹم پسندیدگی اور قبولیت کی سند دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی خدمت میں ان کے مذکورہ بالا ارشادات کے حوالے سے ہم دو گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ اسلامی شعائر و اقدار اور اسلام کے چودہ سو سال سے چلے آنے والے روایتی ڈھانچے سے لاتعلقی کے اظہار کے لیے بے چارے مولوی کو رگیدنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جواز ہے۔ اس لیے کہ مولوی ان میں سے کوئی بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، وہ ہر مسلمان کے لیے پانچ وقت کی نماز کی روزانہ ادائیگی کو ضروری قرار دیتا ہے تو یہ اس کا کوئی خود ساختہ مسئلہ نہیں بلکہ قرآن کریم اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح حکم ہے کہ ہر عاقل و بالغ مسلمان کے لیے روزانہ پانچ وقت نماز کی ادائیگی اس کے فرائض میں سے ہے۔ جناب نبی اکرمؐ نے مسلمان اور کافر کے درمیان فرق و امتیاز کی علامت ہی نماز کی ادائیگی کو قرار دیا ہے۔ مولوی اگر یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق چور کا ہاتھ کاٹنے کی شرعی سزا ملک میں نافذ کی جائے تو یہ سزا اس نے مقرر نہیں کی، قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ مولوی جب یہ کہتا ہے کہ مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط شرعاً درست نہیں ہے اور عورت کے لیے حجاب کی پابندی اسلام کی رو سے ضروری ہے تو یہ ضابطہ بھی مولوی نے وضع نہیں کیا، بلکہ قرآن کریم اور سنت نبویؐ میں اس کی صراحت موجود ہے۔ اسی طرح مولوی اگر ڈاڑھی کو سنت نبوی قرار دیتا ہے تو یہ اس کا خود ساختہ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ احادیث کے ذخیرے میں بہت سی روایات موجود ہیں جن میں ڈاڑھی کو مرد کے لیے زینت اور سنت نبویؐ بتایا گیا ہے۔

    ان میں سے کوئی مسئلہ بھی مولوی کا اپنا وضع کردہ نہیں ہے، وہ اس حوالے سے صرف دو باتوں کا ’’مجرم‘‘ ہے۔ ایک یہ کہ وہ جو کچھ قرآن کریم میں پڑھتا ہے یا سنت نبویؐ میں دیکھتا ہے اسے بیان کر دیتا ہے اور ان میں سے کسی بات کو صرف اس لیے چھپاتا نہیں ہے کہ یہ بات ورلڈ سسٹم کے لیے قابل قبول نہیں ہے، یا عالمی برادری اس بات کو پسند نہیں کر رہی۔ جبکہ اس کا دوسرا ’’جرم‘‘ یہ ہے کہ وہ قرآن سنت کے احکام و قوانین کی کوئی ایسی تعبیر و تشریح قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو سنت نبویؐ کے ذخیرہ اور امت کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اسے اس بات کا کوئی شوق نہیں ہے کہ آج کا ورلڈ سسٹم اور عالمی برادری اسے پسندیدگی کا سرٹیفکیٹ جاری کرے، کیونکہ وہ پورے شرح صدر کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ آج کے ورلڈ سسٹم اور عالمی برادری کو اسلام کی جس جس بات پر اعتراض ہے، اس میں اسلام کا موقف صحیح ہے اور عالمی برادری کا موقف غلط ہے۔ یہ بات بھی اس کے ایمان و یقین کا حصہ ہے کہ بالآخر اس حوالے سے عالمی برادری اور ورلڈ سسٹم کو ہی اپنے موقف سے ہٹنا پڑے گا اور اسلام کے فطری اصولوں کی طرف واپس آنا پڑے گا۔

    طاقت کے مراکز پر قبضہ کر لینا اور دولت کے وسائل پر اجارہ داری قائم کر لینا اور بات ہے جبکہ کسی فکر و فلسفہ اور نظام و ثقافت کا صحیح اور حق ہونا اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ حق اور باطل ہونے کا فیصلہ کبھی طاقت اور دولت کی بنیاد پر نہیں ہوا۔ تاریخ میں اس سے قبل بھی بہت سے مراحل آئے ہیں جب طاقت اور دولت نے محض طاقت کے بل پر خود کو حق ثابت کرنے اور دنیا سے منوانے کی کوشش کی ہے لیکن اسے کبھی کامیابی نصیب نہیں ہوئی، اور اب بھی نہیں ہوگی، اس لیے جس کو بھی اسلام کے روایتی ڈھانچے اور دینی شعائر و روایات سے دستبردار ہونا ہے، اسے اخلاقی جرأت سے کام لینا چاہیے اور مولوی کو آڑ بنا کر اسلام پر چاند ماری کی مشق نہیں کرنی چاہیے۔

  2. دوسری گزارش یہ ہے کہ اگر ہمارے صدر محترم نے مصطفی کمال اتاترک کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو انہیں اسلامی اقدار و روایات سے لاتعلقی کے حوالے سے ترک قوم کی پون صدی کی کوششوں کے نتائج پر بھی ایک نظر ضرور ڈال لینی چاہیے، اور یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کیا وہ اس کام میں اس حد تک آگے جا سکیں گے جہاں تک مصطفی کمال اتاترک چلے گئے تھے؟ اور اگر خدانخواستہ انھوں نے ایسا کر بھی لیا تو انہیں اس کے نتیجے میں ترکی سے مختلف کوئی نتیجہ حاصل ہو سکے گا؟
درجہ بندی: