خواتین کی نسل کشی اور نسوانیت کشی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۱۴ء

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۲ اپریل ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تنظیم خواتین کو نسلی امتیاز کی بنیاد پر درپیش مسائل اور منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی کے اقدامات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ’’جینڈر سائیڈ اویئرنیس پروجیکٹ‘‘ (Gendercide Awareness Project) کے نام سے کام کر رہی ہے۔اس تنظیم کی بانی اور چیئر پرسن بیورلی ہل (Beverley Hill) نے کہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جس میں چین سب سے آگے اور بھارت دوسرے نمبر پر ہے، جنوبی ایشیا کے ممالک کی اکثریت میں یہ مسائل ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس ضمن میں پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فطری طور پر جہاں مردوں کی پیدائش ہوتی ہے وہاں عورتوں کی بھی پیدائش ہوتی ہے لیکن اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ۲ ملین لڑکیوں کو پیدائش سے قبل اسقاط حمل کے ذریعے دنیا میں آنے سے پہلے ہی زندگی کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں ۲۰ ملین جبکہ ایڈز سے ۲۵ ملین اور دوسری عالمی جنگ ۷۰ ملین لوگ لقمہ اجل بنے، مگر نسل کشی کے تحت اب تک ۱۱۷ ملین لڑکیوں اور خواتین کو لقمۂ اجل بننا پڑا جو کہ حیرت کی بات ہے۔بیورلی ہل کا کہنا ہے کہ بعض جگہوں پر مردوں کو اثاثہ جبکہ لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

خواتین کی نسل کشی کا سلسلہ بہت پرانا ہے اور قرآن کریم نے دورِ جاہلیت کی اقدار میں اس کا تذکرہ کیا ہے کہ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اور اس کی دو وجہ بتائی ہیں۔

  1. ایک ’’خشیۃ املاق‘‘ ہے کہ فاقہ کے ڈر سے انہیں مار دیا جاتا تھا اور انہیں بوجھ سمجھا جاتا تھا کہ لڑکا تو جوان ہو کر خود کمائے گا لیکن لڑکی باپ پر، خاوند پر اور اولاد پر ساری زندگی بوجھ رہے گی اور اس کو کھلانا پڑے گا۔
  2. اور دوسرا ’’من سوء ما بشر بہ‘‘ کہ لڑکیوں کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا تھا اور لڑکی کی ولادت کی خبر پر لوگ منہ چھپاتے پھرتے تھے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم بد کا خاتمہ کیا اور اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کر کے عرب معاشرے کو اس سے پاک کیا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ اسلام نے لڑکی کو زندہ رہنے کا حق دیا اس لیے کہ اس سے قبل وہ باپ کے رحم و کرم پر ہوتی تھی وہ چاہے تو اسے زندہ رہنے دے اور چاہے تو زندہ دفن کر دے، جسے قرآن کریم نے یوں تعبیر کیا ہے کہ ’’ایمسکہ علی ہون ام یدسہ فی التراب‘‘ باپ کے لیے یہ فیصلہ مشکل ہو جاتا تھا کہ ساری زندگی طعنے اور عار برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا اسے مٹی میں دبا دے۔

جاہلیت کی یہ رسم آج بھی انسانی معاشرے میں موجود ہے اور بیورلی ہل کے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کی سنگینی میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں یہ مسئلہ قومی مسائل میں شمار ہوتا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے معلوم کر کے اگر لڑکی ہے تو اسے گرا دیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ قبل ہم نے ایک کارٹون دیکھا جس میں اس مسئلہ کی سنگینی کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ لڑکی ماں کے پیٹ میں ہے اور ماں حمل گرانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس گئی ہوئی ہے جبکہ لڑکی ماں کے پیٹ سے پکار کر ڈاکٹر سے کہہ رہی ہے کہ انکل ڈاکٹر! مجھے زندہ رہنے دو، میں ماں سے زیادہ فیس تمہیں ادا کروں گی۔

لیکن یہ مسئلہ صرف لڑکیوں کے ساتھ مخصوص نہیں کیونکہ مغربی دنیا میں تو لڑکی یا لڑکے کا فرق معلوم کیے بغیر اسقاط حمل کرا دیا جاتا ہے اور اسے ماں کا حق قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ جب چاہے حمل کو گرا دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زنا عام ہے، اس پر کوئی قدغن نہیں ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں ساری زندگی مصیبت میں پڑ جاتی ہے کہ اسے کس طرح پالے۔ اسلام نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ زنا پر مکمل پابندی لگا دی اور عورت اور اس کی اولاد کی تمام مالی ذمہ داریاں قبول کیے بغیر مرد اور عورت کی جنسی ملاپ کو حرام قرار دے دیا ہے، مگر مغرب نے زنا کو حرام کرنے کی بجائے اسقاط حمل کو عورت کا حق قرار دے کر لاکھوں بلکہ کروڑوں بچوں کے قتل عام کا دروازہ کھول رکھا ہے۔

اسقاط حمل کے بارے میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ بچے میں جان پڑنے سے قبل اس کی مشروط اجازت ہے مگر ماں کے پیٹ میں بچے کے جسم میں جان پڑ جانے کے بعد اس کے اسقاط کو قتل شمار کیا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؒ نے ایسے کیس میں دیت یا تاوان کا حکم صادر فرمایا ہے۔ لیکن مغرب نے لڑکے یا لڑکی کی تمیز کیے بغیر اور جان پڑنے یا نہ پڑنے کا فرق رکھے بغیر اسقاط حمل کو مطلقاً عورت کے حقوق میں شمار کر کے پوری دنیا میں اس کے لیے مہم چلا رکھی ہے، حتٰی کہ مسلمان ممالک سے بھی اقوام متحدہ کے فورم پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں ترمیم کر کے عورتوں کو اسقاط حمل کا یہ حق قانونی طور پر فراہم کریں۔

اس لیے ہم امریکہ کی اس خاتون راہنما سے کہیں گے کہ اگر اسقاط حمل لڑکی کے لیے قتل ہے تو لڑکے کے حوالہ سے بھی اسی طرح کا قتل ہے اور دونوں میں فرق کرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ یہ اسقاط حمل چین اور بھارت سے زیادہ مغربی ممالک میں ہے اور اس کے ذریعے قتل ہونے والوں میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ بھارت میں لڑکی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا ہے اور اسقاط حمل کے ذریعے اسے قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ مغرب میں لڑکے اور لڑکی دونوں کو معاشی بوجھ (خشیۃ املاق) سمجھ کر اسقاط حمل کے ذریعے انہیں زندگی کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر اسقاط حمل کو قتل قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلانا ضروری ہے تو اس کی ضرورت مغربی ممالک میں زیادہ ہے۔ اور اس کا حل یہ نہیں کہ مرد اور عورت کے جنسی ملاپ کی کھلی آزادی دے کر اسقاط حمل کے ذریعے نتائج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ صحیح اور فطری راستہ یہ ہے جو اسلام نے اختیار کیا ہے کہ زندگی بھر کی رفاقت، مالی ذمہ داریاں اور کفالت کی ذمہ داری قبول کیے بغیر مرد اور عورت کے جنسی ملاپ کو ممنوع قرار دیا جائے اور زنا پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ اس کے ساتھ لوگوں میں اس بات کا شعور بیدار کیا جائے کہ اسقاط حمل قتل کے مترادف ہے اور اس سے اسی طرح گریز کرنا ضروری ہے جیسے زمین پر چلتے پھرتے انسان کو قتل کرنے سے گریز کرنا انسانیت کا تقاضہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہم محترمہ بیورلی بل سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے عورت کی پیدائش کو فطرت کا تقاضہ قرار دیا ہے جو بالکل درست ہے۔ مگر عورت کا امتیاز اور مرد سے اس کی جداگانہ خصوصیات، الگ جسمانی ساخت اور صلاحیتیں بھی تو فطرت کا ہی تقاضہ ہیں، مغرب اس کے پیچھے کیوں لٹھ لیے پھرتا ہے اور مرد اور عورت کے فطری امتیاز کو ختم کر کے دونوں کو ذمہ داریوں اور فرائض کے حوالہ سے یکساں قرار دینے پر کیوں اصرار کر رہا ہے ؟ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ مغرب مرد اور عورت کی فطری امتیاز کو ختم کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتا اور نہ ہی یہ ممکن ہے، لیکن اس فطری امتیاز کے لازمی نتیجے کے طور پر مرد اور عورت کے فرائض اور حقوق میں جو فرق خودبخود پیدا ہو جاتا ہے اسے ختم کرنے کے لیے مغرب ساری دنیا میں نسلی امتیاز کے خاتمہ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔ ہم سے ایک بار پوچھا گیا کہ کیا مرد اور عورت کے احکام اور فرائض و حقوق میں فرق ہونا چاہیے؟ ہم نے عرض کیا کہ کیا مرد اور عورت کی جسمانی ساخت میں، ان کی صلاحیتوں میں، ان دونوں کی نفسیات میں اور قوتِ کار میں فرق موجود ہے یا نہیں ؟جواب دیا گیا کہ وہ تو موجود ہے تو ہم نے گزارش کی کہ پھر احکام و قوانین میں فرق کیوں نہیں ہو گا؟ مغرب مرد اور عورت میں امتیاز کو فطری تسلیم کرتے ہوئے اسی امتیاز کے نتیجے میں پیدا ہو جانے والے فرق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، جبکہ ہمارے نزدیک جس طرح اسقاط حمل عورتوں کی نسل کشی ہے اسی طرح عورت کو اس کی فطری ساخت اور صلاحیتوں سے ہٹ کر فرائض و احکام پر مجبور کرنا بھی ’’نسوانیت کشی‘‘ سے کم نہیں ہے اور عورت کو اس کی فطرت سے محروم کر دینے کے مترادف ہے۔

ہم خواتین کی نسل کشی کے خلاف مہم کا خیر مقدم کرتے ہیں بلکہ یہ تو سب سے پہلے آج سے چودہ سو سال قبل اسلام نے ہی شروع کی تھی لیکن ہم مغرب کو توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ عورت کی ’’نسوانیت کشی‘‘ بھی اسی طرح فطرت سے بغاوت ہے اس کے خلاف مہم کی بھی ضرورت ہے اور مغرب کو اس حوالہ سے اپنے طرز عمل پر بہرحال نظر ثانی کرنا ہو گی۔

درجہ بندی: