دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جولائی ۲۰۱۹ء

۱۹۸۸ء کے لگ بھگ کی بات ہے امریکی ریاست جارجیا کے ایک شہر اگستا میں گکھڑ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست افتخار رانا کے ہاں کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا کہ کسی سمجھدار سے مسیحی مذہبی راہنما سے ملاقات و گفتگو کو جی چاہتا ہے، انہوں نے جارجیا کے صدر مقام اٹلانٹا کے ایک پادری صاحب سے، جو بیپٹسٹ فرقہ کے اس علاقہ کے چیف تھے، بات کر کے وقت لے لیا اور ملاقات کا اہتمام کیا، جبکہ رانا صاحب خود بطور ترجمان گفتگو میں شریک رہے۔

رسمی علیک سلیک اور حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے پادری صاحب سے استفسار کیا کہ مغربی سوسائٹی میں مذہب کی معاشرہ سے لاتعلقی اور اس کے اثرات مثلاً عریانی و فحاشی، شراب، زنا ، سود اور جوا وغیرہ کے مسلسل فروغ کے بارے میں ایک مذہبی راہنما کے طور پر آپ کی رائے کیا ہے اور آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مذہبی حوالہ سے میں اسے غلط سمجھتا ہوں مگر امریکی دستور میں اس سب کچھ کی گنجائش موجود ہے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ میرے علم میں ہے، میں صرف مسیحی مذہب اور اس کی نمائندگی کرنے والے ایک ذمہ دار راہنما کی رائے معلوم کرنا چاہتا تھا۔ میرا اگلا سوال یہ تھا کہ آپ اس سوسائٹی میں مذہب اور بائبل کی نمائندگی کرتے ہیں تو مسیحی مذہب کی تعلیمات کے خلاف ہونے والے ان کاموں کی روک تھام کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ سنڈے کو ہماری مذہبی مجلس ہوتی ہے جس میں ان کاموں سے میں لوگوں کو منع کرتا ہوں۔ میں نے کہا کہ قیامت کے دن حضرت عیسٰی علیہ السلام سے آپ کا سامنا ہوگا تو کیا آپ اپنی اس کارکردگی پر انہیں مطمئن کر پائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ مشکل ہے مگر میں اس کے سوا اور کیا کر سکتا ہوں؟

اس کے بعد مزید گفتگو ہوئی جس کے آخر میں ایک تجویز میں نے پادری صاحب کے سامنے رکھی کہ سوسائٹی کی مذہب اور آسمانی تعلیمات سے لاتعلقی بلکہ انحراف سنجیدہ مسیحی مذہبی راہنماؤں کے لیے بھی بڑا مسئلہ ہے اور مسلمان علماء کے لیے بھی ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، کیا یہ بات قابل عمل ہے کہ ہم دونوں مل کر اس کا سامنا کریں اور مشترکہ جدوجہد کے ساتھ سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات کی طرف واپس لانے کی صورت نکالیں۔ اگر ہم اس محنت میں دنیا کے کسی حصہ میں کامیاب ہو جائیں تو مجھے کوئی اشکال نہیں ہوگا کہ آپ مسیحی سوسائٹی میں آسمانی تعلیمات کی عملداری کے لیے بائبل کو بنیاد بنائیں، مگر ہم بھی یہ حق رکھیں گے کہ مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی عملداری کا اہتمام کریں اور اس پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

میں اس دور میں پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے متحرک مختلف مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھا جس کی مرکزی قیادت مولانا عبد الحقؒ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ، مولانا سمیع الحقؒ، مولانا معین الدین لکھویؒ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ، قاضی حسین احمدؒ، اور مولانا عبد القادر روپڑیؒ پر مشتمل تھی۔ میں نے اپنی اس حیثیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر کچھ سنجیدہ مسیحی راہنماؤں کو اس سلسلہ میں آپ گفتگو کے لیے تیار کر سکیں تو میں اپنے بزرگوں اور دوستوں کے ساتھ باضابطہ طور پر اس کی بات کر سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کے سامنے پہلی بار پیش کی گئی ہے اس لیے وہ فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ کچھ دوستوں سے مشورہ کے بعد اپنا ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ میں نے افتخار رانا سے کہا کہ وہ ضرورت پڑنے پر رابطہ کی خدمت سرانجام دیں جو انہوں نے قبول کر لی مگر اس کے بعد اس کا موقع نہیں آیا۔

یہ قصہ میں نے اس لیے عرض کیا ہے کہ نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ایک عرصہ سے میری یہ رائے چلی آرہی ہے کہ مغربی دنیا میں مسیحیت کے جو مذہبی راہنما معاشرہ میں آسمانی تعلیمات کی عملداری کے قائل ہیں ان سے رابطہ قائم کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، ان کی تعداد کم نہیں ہے اور وہ موقع ملنے پر بات بھی کرتے رہتے ہیں۔ خود ہمارے ہاں پاکستان میں جسٹس اے آر کار نیلس اور جوشوا فضل دین جیسے پختہ کار مسیحی دانشور اسلامی نظام و قوانین کے نفاذ کی حمایت بلکہ وکالت کرتے رہے ہیں، اور اب بھی ایسے راہنماؤں کی کمی نہیں ہے جو موقع محل کے مطابق ہماری بہت سی باتوں کی حمایت کرتے ہیں، مگر ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہے اور انہیں اعتماد میں لینے اور حوصلہ دلانے کا کوئی ایجنڈا ہمارے پروگرام کا حصہ نہیں ہے۔ جبکہ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ ہمیں یہ کام عالمی سطح پر کرنا چاہیے اور اس کے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔ اصلاً تو یہ کام مدرسہ اور چرچ کا ہے کہ دونوں دائروں کی آسمانی تعلیمات کے اصل نمائندے وہی ہیں لیکن ہمارے درمیان بے اعتمادی اور کھچاؤ بلکہ تناؤ کی جو فضا پیدا کر دی گئی ہے اور جسے قائم رکھنے کا اہتمام بھی موجود ہے، اس کی موجودگی میں دونوں میں سے کوئی کیمپ شاید ’’رسک‘‘ لینے کے لیے تیار نہ ہو۔ البتہ یونیورسٹیوں کے ماحول میں اس محنت کی صورت نکالی جا سکتی ہے جس کے لیے میں حسب موقع کوشش کرتا رہتا ہوں۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو ’’سماجی نفسیات‘‘ کے اسلوب میں پیش کرنے کی فکری جدوجہد کا آغاز کیا تو یہ محنت نئی اور اجنبی تھی جس پر انہوں نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے مقدمہ میں بہت سے خدشات و تحفظات کا اظہار فرمایا۔ وہ خدشات و تحفظات میرے سامنے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ بھگت بھی رہا ہوں مگر خدا جانے کیوں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا یہ نعرہ مستانہ ایک بار پھر فضا میں بلند کرنے کو جی چاہ رہا ہے کہ:

’’ومن الردیف وقد رکبت غضنفرا‘‘ میں نے تو شیر کی پشت پر سواری کر لی ہے اب دیکھیں ردیف کون بنتا ہے؟
؎ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے
درجہ بندی: