افغانستان میں طالبان کا نیا دور۔ توقعات و خدشات

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اگست ۲۰۲۱ء

کابل میں طالبان کے پُراَمن داخلہ پر اطمینان و مسرت کے اظہار کے لیے آج جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طلبہ نے قرآن خوانی کا اہتمام کیا، قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی کلاس میں طلبہ نے مکمل قرآن کریم کی قراءت کی اور جہاد افغانستان کے مختلف مراحل کے شہداء اور مرحوم راہنماؤں کو ایصالِ ثواب کیا گیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے درج ذیل خطاب کیا اور بزرگ استاذ مولانا عبد القیوم گلگتی کی پرسوز دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہم مختلف حوالوں سے اطمینان اور خوشی محسوس کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مقدس کلام کی تلاوت کے ذریعے اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ کابل کسی نئی خونریزی سے بچ گیا ہے اور طالبان نے پُراَمن طور پر اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، اس میں کسی بھی حوالے سے کردار ادا کرنے والے سب لوگ ہمارے شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ جس جہاد افغانستان کا آغاز برطانوی استعمار کی فوجی یلغار سے ہوا تھا اور برطانوی فوجوں کو افغان عوام کے جذبۂ حریت کے مقابلہ میں پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی ،اس کے بعد روسی افواج نے افغانستان کو کنٹرول میں لینے کی کوشش کی تو افغان قوم نے جہادِ افغانستان کے عنوان سے اس کا مردانہ وار مقابلہ کر کے اسے شکست دی، جبکہ اس کے بعد جہادِ افغانستان کے منطقی نتائج اور تہذیبی و نظریاتی اہداف کو روکنے کے لیے امریکی اتحاد کی فوجیں آئیں تو افغان قوم نے مسلسل بیس سال کی معرکہ آرائی کے بعد انہیں بھی ناکام واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ یہ افغان قوم کا تاریخی اعزاز اور کریڈٹ ہے کہ اس نے کبھی غیر ملکی تسلط قبول نہیں کیا اور ہمیشہ اپنی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کیا ہے۔

ان مراحل میں اس بات کی مختلف اقوام کی طرف سے سرتوڑ کوشش کی گئی کہ افغانستان کو وحدت سے محروم کر کے الگ الگ علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے، ہمیں خوشی ہے کہ اس کے باوجود آج افغانستان کی وحدت قائم ہے اور اسے تقسیم کرنے کے منصوبے دم توڑ چکے ہیں۔ افغانستان پر یلغار کرنے والوں نے اپنا پورا زور لگایا کہ بہت سے دیگر مسلم ممالک کی طرح افغان عوام کو بھی اسلامی شریعت کے احکام و قوانین کی عملداری سے دستبردار کرا دیا جائے، اس کے لیے تخویف و تحریص کے تمام حربے اختیار کیے گئے مگر افغان قوم آج بھی اپنے عقیدہ و ایمان اور اسلامی شریعت کے ساتھ وابستگی پر قائم ہے اور شرعی احکام و قوانین کے نفاذ و عملداری کے لیے پُرعزم ہے۔ قابضین کی ایک کوشش یہ بھی رہی ہے کہ افغان قوم کو اس کی تہذیب و ثقافت اور روایات سے بے گانہ کر دیا جائے مگر یہ مہم بھی کامیاب نہیں ہو سکی اور خوشی کی بات ہے کہ افغان قوم کی تہذیب و ثقافت اور قومی روایات آج بھی ایک معاشرتی حقیقت کے طور پر دنیا سے اپنا وجود تسلیم کرانے میں کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔

ہم نے افغانستان کی وحدت، افغان قوم کی خودمختاری، شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی، افغان تہذیب و ثقافت کے تسلسل اور غیر ملکی مداخلت سے نجات کے لیے ہمیشہ افغانوں کی حمایت کی ہے اور آج بھی اس پر پورے شعور و ادراک کے ساتھ قائم ہیں اس لیے اس موقع پر خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ ہم ان خطرات سے خبردار کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں جو افغان قوم اور اس کے خیرخواہوں کو درپیش ہیں۔

  • ہمارے خیال میں اب سب سے پہلا مرحلہ افغانستان میں امن کا قیام، نظم و نسق کی بحالی، اور ملکی سالمیت کا تحفظ ہے۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی طرف سے اعلانات اور حکمت عملی اس سلسلہ میں حوصلہ افزا ہے۔
  • ہمارے نزدیک قومی وحدت کا ماحول قائم کرنا افغانستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ افغان قوم اور ملک کو زبان، نسل اور علاقہ کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں ناکامی کے بعد اب ایسی شرارتوں کا رخ دوسری طرف موڑا جا رہا ہے، مثلاً کل سے سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ طالبان نے سلفیوں کے مدارس بند کر دیے ہیں اور آج صبح سے ایک خبر چل رہی ہے کہ طالبان نے شیعوں کی عمارتوں سے ان کے جھنڈے اتارنے شروع کر دیے ہیں۔ یہ افغانستان کی قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا ایک نیا رُخ ہے جس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور ایسی باتوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
  • اس موقع پر عالمی برادری اور مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کو بھی اعتماد میں لینے اور اعتماد میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان اپنے نئے قومی سفر کا آغاز بہتر انداز میں کر سکے اور کسی کو اس میں دخل اندازی کا موقع نہ ملے۔
  • ان حوالوں سے مسلم ممالک کی ذمہ داری سب سے زیادہ بنتی ہے کہ وہ اپنے مثبت اور مؤثر کردار کے ساتھ سامنے آئیں اور تہذیبی اور قومی مقاصد و اہداف کے حصول میں افغان قوم کے معاون بنیں۔
  • عالمِ اسلام بالخصوص پاکستان کے دینی، علمی اور نظریاتی حلقوں کو بھی بیداری، حوصلہ اور حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور باہمی مشاورت کے ساتھ افغانستان کی تعمیر و ترقی، سلامتی و استحکام اور قومی و دینی روایات کے تحفظ میں افغان قوم کا ساتھ دینا ہو گا۔

اللہ تعالیٰ افغان قوم کو یہ پیشرفت مبارک کریں اور سب کو اپنا اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter