وفاق المدارس کا مجوزہ عالمی اجتماع ۲۰۱۴ء

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ اپریل ۲۰۱۳ء

گزشتہ روز (۱۷ اپریل) کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی دفتر ملتان میں وفاق کی امتحانی کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کی پہلی نشست میں شرکت کا موقع ملا جو اگلے سال ۲۱، ۲۲، ۲۳ مارچ کو منعقد ہونے والے عالمی اجتماع کی تیاریوں کے سلسلہ میں مشاورت کے لیے مخصوص کی گئی تھی اور مجھے اس نشست میں شرکت کے لیے خاص طور پر بلایا گیا تھا، نشست کی صدارت صدر وفاق حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے فرمائی اور ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے عالمی اجتماع کے بارے میں وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کے فیصلہ کی تفصیلات بتائیں جن کے مطابق وفاق المدارس کی پچاس سالہ تعلیمی و علمی خدمات کے حوالہ سے مارچ ۲۰۱۴ء کی ۲۱، ۲۲ اور ۲۳تاریخ کو اسلام آباد میں ایک عالمی اجتماع منعقد کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے، اس اجتماع میں وفاق المدارس سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے علماء، قراء اور حفاظ کی دستار بندی کی جائے گی، ملک کی سرکردہ علمی شخصیات کے علاوہ امام کعبہ، شیخ الازہر اور مہتمم دار العلوم دیوبند سمیت دنیا بھر کی ممتاز دینی و علمی شخصیات خطاب کریں گی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد کی شرکت اس میں متوقع ہے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے دینی مدارس کا تعلیمی و امتحانی بورڈ ہے جو ان مدارس کے تعلیمی نظام و نصاب کی تشکیل و نگرانی کرتا ہے، سالانہ امتحانات کا اہتمام کرتا ہے اور مختلف درجات کی اسناد جاری کرتا ہے جو مساجد و مدارس کے علاوہ عصری تعلیمی اداروں میں بھی درجہ بدرجہ تسلیم کی جاتی ہیں، ان مدارس کے فضلاء مختلف شعبوں میں تعلیمی و دینی خدمات سر انجام دیتے ہیں اور مسلم معاشرہ کی دینی راہ نمائی کرتے ہیں۔

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور یکساں امتحانی نظام رائج کرنے کی غرض سے ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘ کے قیام کا فیصلہ ۲۲مارچ ۱۹۵۷ء کو جامعہ خیر المدارس ملتان میں حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کی زیر صدارت ممتاز علماء کرام کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا اور اس کی باقاعدہ تشکیل ۱۸۔۱۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء کو عمل میں آئی تھی، تب سے یہ ادارہ تسلسل کے ساتھ اپنے مقاصد و اہداف کے لیے مصروف عمل ہے۔

مولانا شمس الحق افغانیؒ ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا مفتی محمد عبد اللہؒ ، مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ اور مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہیدؒ جیسے اکابر علماء کرام مختلف اوقات میں وفاق کے عہدہ دار رہے ہیں، جبکہ اس وقت جامعہ فاروقیہ کراچی کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان وفاق کے صدر اور جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سیکرٹری جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ پاکستان کا سب سے بڑا پرائیویٹ تعلیمی بورڈ ہے جس کے تحت سولہ ہزار چھ سو اڑتیس (۱۶,۶۳۸) مدارس اس وقت تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں اور ان میں اکیس لاکھ (۲۱,۰۰,۰۰۰) سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، جبکہ ایک لاکھ (۱,۰۰,۰۰۰)سے زائد معلمین اور معلمات تعلیم و تدریس کے فرائض میں مگن ہیں۔ وفاق المدارس سے ملحق مدارس اب تک فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار نو سو بارہ(۱,۱۳,۹۱۲)، فاضلات کی تعداد ایک لاکھ تیرہ ہزار آٹھ سو ایک (۱,۱۳,۸۰۱) اور حفاظ کی تعداد آٹھ لاکھ (۸,۰۰,۰۰۰) سے زائد ہے۔

دینی مدارس کا تعلیمی نظام ہجری سن کے حساب سے چلتا ہے جو شوال المکرم سے شروع ہو کر رجب کے آخر تک مکمل ہو جاتا ہے اور شعبان المعظم کی ابتداء میں ملک بھر میں ایک ہی ہفتہ کے دوران سالانہ امتحانات ہوتے ہیں جو باقاعدہ تحریری ہوتے ہیں، ماہرین کی نگرانی میں پرچے مرتب ہوتے ہیں، تجربہ کار اساتذہ امتحانات کی ایک نظم کے تحت نگرانی کرتے ہیں، پرچوں کی مارکنگ کی نگرانی خود صدر وفاق کرتے ہیں، سیکریسی اور رازداری کا مکمل اہتمام کیا جاتا ہے اور پوری ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ سندات جاری کی جاتی ہیں۔اس سال یہ سالانہ امتحانات (۸ جون بمطابق ۲۹ رجب) سے شروع ہو رہے ہیں جو ایک ہفتہ جاری رہیں گے، ان کے لیے ملک بھر میں ایک ہزار تین سو نو (۱,۳۰۹) امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر دو لاکھ چھ سو چونسٹھ (۲,۰۰,۶۶۴) طلبہ اور طالبات اس سال مختلف درجات کے امتحانات میں شریک ہو رہے ہیں۔

دینی مدارس کا نمایاں امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ اور طالبات کی غالب اکثریت کو مدارس کے ہاسٹلز میں قیام و طعام کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں، نصابی کتابیں مہیا کرتے ہیں جبکہ مدارس میں مقیم طلبہ و طالبات کو علاج و معالجہ کی سہولتیں بھی میسر ہوتی ہیں، یہ سب سہولتیں بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں بلکہ بعض مدارس ان سہولتوں کے ساتھ طلبہ کو جیب خرچ کے لیے ماہانہ وظیفہ بھی دیتے ہیں۔ ان سہولتوں پر ہونے والے اخراجات اربوں روپے کے حساب سے ہوتے ہیں جو دین دار مسلمانوں اور اصحابِ خیر کے رضاکارانہ تعاون سے پورے ہوتے ہیں۔ اس سے دینی تعلیم کے ساتھ عام مسلمانوں کی محبت اور دل چسپی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، یہ دینی مدارس سرکاری فنڈز وصول کرنے سے گریز کرتے ہیں، اپنے اخراجات عام مسلمانوں کے تعاون سے پورا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور سرکاری امداد و نگرانی سے بے نیاز ہو کر آزادانہ ماحول میں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں اگلے سال مارچ میں وفاق المدارس کے تحت اسلام آباد میں منعقد ہونے والا عالمی اجتماع بلاشبہ تاریخی اہمیت و حیثیت کا حامل ہوگا اور اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔ وفاق المدارس نے اس اجتماع کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی سرکردگی میں مرکزی نگران کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں ملک کے تمام صوبوں سے سرکردہ حضرات کو شامل کیا گیا ہے۔ مولانا قاضی عبد الرشید کی نگرانی میں اسلام آباد اور راول پنڈی کے ممتاز علماء کرام پر مشتمل انتظامی کمیٹی بنائی گئی ہے جو اجتماع کی جگہ کا تعین کرے گی اور ضروری انتظامات کی نگرانی کرے گی۔ مولانا مفتی محمد طیب (فیصل آباد) کی سرکردگی میں مالیاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مولانا ابن الحسن عباسی، مولانا عبد القدوس محمدی، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، مولانا عدنان کاکاخیل، مولانا سیف اللہ نوید، مولانا محمد ابراہیم سکہ گاہی اور راقم الحروف پر مشتمل ’’میڈیا کمیٹی‘‘ تشکیل دی گئی ہے جس کی مسؤلیت راقم الحروف کو سونپی گئی ہے۔ اسی طرح مختلف ممالک میں تدریسی تعلیمی اور دینی خدمات سر انجام دینے والے فضلاء وفاق سے رابطوں کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور طے پایا ہے کہ ۱۱مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے فورًا بعد یہ سب کمیٹیاں متحرک ہو جائیں گی اور عالمی اجتماع کے لیے رابطہ مہم کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

وفاق المدارس کی مجلس عاملہ نے اس اجتماع کا فیصلہ کر کے جہاں وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے وہاں بہت بڑا ’’رسک‘‘ بھی لے لیا ہے، مختلف خدشات و خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان میں سے بہت سے خدشات ایسے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مگر دیوبندیت کا مزاج ہی خطرات و خدشات کے جلو میں آگے بڑھنے اور سفر جاری رکھنے کا ہے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی یہ ’’رسک‘‘ کامیاب رہے گا اور خدمات وفاق المدارس کے حوالہ سے منعقد ہونے والا یہ عالمی اجتماع ملت اسلامیہ کی تعلیمی و فکری تاریخ میں ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔