سودی نظام کے خلاف جدوجہد میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۶ء

جامعۃ الرشید کراچی میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سودی بینکاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے غیر سودی بینکاری کا تجربہ ضروری ہے اور اس وقت اس حوالہ سے جو محنت ہو رہی ہے اس کی اصلاح اور مزید بہتری کے لیے کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد نے جامعۃ الخیر لاہور میں ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی بینکاری کا متبادل شرعی نظام موجود ہے مگر اسے چلانے کے لیے دینی مدارس کو تربیت یافتہ حضرات فراہم کرنے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ افراد مہیا ہونے پر ملک کے بینکاری نظام کو شرعی اصولوں کے مطابق چلایا جا سکتا ہے۔

جہاں تک ملک میں رائج بینکاری نظام کا تعلق ہے اس کی بنیاد سود پر ہے اور اس کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان طویل بحث و تمحیص کے بعد فیصلہ دے چکی ہیں کہ مروجہ بینکاری کا نظام سودی ہونے کی وجہ سے غیر شرعی اور دستور کے منافی ہے اور اس کو تبدیل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ دستور پاکستان میں بھی حکومت کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملک میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے جلد از جلد اقدامات کرے۔ ہمارے خیال میں اس وقت سودی نظام کے خاتمہ اور غیر سودی بینکاری کی ترویج کی جدوجہد کے مختلف پہلو دینی حلقوں کی خصوصی توجہ کے طلبگار ہیں:

  • سپریم کورٹ نے سودی نظام کو ختم کر کے متبادل نظام رائج کرنے کا جو حکم دیا تھا وہ اس وقت وفاقی شرعی عدالت میں نظر ثانی کے لیے زیر سماعت ہے اور اس میں وہ بہت سے معاملات ازسرنو بحث و مباحثہ کا موضوع بنا دیے گئے ہیں جن کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان سالہا سال کے بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ دے چکی ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت میں انہیں دوبارہ بحث کے لیے لانا اس معاملہ کو طول دینے کے مترادف ہے، نیز نظر ثانی لیے کے اس کیس کی سماعت بھی روایتی انداز میں ہو رہی ہے جس سے بحث کو کسی مثبت رخ پر لے جانے کی بجائے محض وقت گزاری کا تاثر قائم ہو رہا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس کیس کو جلد از جلد منطقی نتیجے تک پہنچا کر قوم کو اس مخمصہ سے نجات دلائے۔ وفاقی شرعی عدالت کی توجہ اس اہم قومی و دینی ضرورت کی طرف مبذول کرانے کے لیے ملک کے دینی حلقوں کو وہ تمام ذرائع اختیار کرنے چاہئیں جو دستور و قانون کے دائرہ میں مہیا ہو سکتے ہیں۔
  • بینکاری کے سرکاری نظام کے ساتھ پرائیویٹ سطح پر مختلف شکلوں میں سودی لین دین کے جو طریقے پورے ملک میں رائج اور چل رہے ہیں وہ پرائیویٹ سیکٹر میں سودی نظام کا بہت بڑا حصہ ہیں، جبکہ پنجاب اسمبلی ۲۰۰۷ء میں ایک ایکٹ پاس کر کے پرائیویٹ طور پر سودی لین دین کو قانوناً ممنوع قرار دے چکی ہے۔ مگر اس کے لیے نہ حکومتی حلقوں میں کوئی کام ہو رہا ہے اور نہ ہی دینی اور سماجی حلقوں میں کوئی حرکت دکھائی دے رہی ہے، جبکہ اس سلسلہ میں دو قسم کی محنت ضروری ہے۔
    1. مفتیان کرام اور دینی ادارے از خود موضوع بنا کر پرائیویٹ طور پر سودی لین دین کی مروجہ صورتوں کی نشاندہی کریں، ان کی تشہیر کی جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ موجودہ حالات میں کون کون سے معاملات سودی لین کے دائرہ میں آتے ہیں اور ان کا شرعی حکم کیا ہے؟
    2. پنجاب کے مختلف شہروں میں دینی جماعتیں اور کارکن پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ امتناع سود ایکٹ ۲۰۷ کے تحت سود خور افراد اور اداروں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور ان کی پیروی کا اہتمام کریں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر اسے ایک مہم کی شکل دی جا سکے تو عوامی بیداری اور آگاہی کو منظم اور مربوط بنایا جا سکتا ہے۔
  • غیر سودی بینکاری کا جو تجربہ اس وقت جاری ہے اور اس کی بعض شکلوں کے جائز اور ناجائز ہونے کی بحث علمی حلقوں میں چل رہی ہے اس کے بارے میں ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ عملی تجربہ بھی ضروری ہے، اور اس کی مختلف صورتوں پر علمی و فقہی نقد اور بحث و مباحثہ بھی اس محنت کی ناگزیر ضرورت ہے، لیکن اس بحث و مباحثہ کو باہمی محاذ آرائی کا رنگ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور غیر سودی بینکاری کے تجربہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے اس کی اصلاح اور ارتقا کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • عالمِ اسلام میں اسلامی معاشی نظام کے تعطل پر کم و بیش دو صدیاں گزر گئی ہیں اور مختلف مسلم ممالک پر استعماری ممالک کے تسلط کے دوران ان ممالک کی معیشتوں کو جس بری طرح سودی شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے اس سے نکلنے کے لیے تجرباتی اور تدریجی عمل انتہائی ضروری ہے، اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ جبکہ تجربہ کے عمل سے گزرنے والے حضرات کو بھی اسے تجرباتی اور ارتقائی مراحل سمجھتے ہوئے ہر سنجیدہ تنقید اور تجویز کو قبول کرنا چاہیے۔
  • عوامی سطح پر سودی نظام کے خلاف بیداری کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک فورم قائم کر رکھا ہے جس کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کی حیثیت سے مؤلیت راقم الحروف کے سپرد کی گئی ہے، اس میں علماء کرام، دینی جماعتوں اور علمی اداروں کی عملی شرکت اور باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے، باذوق و با صلاحیت دوستوں کو اس سلسلہ میں آگے آنا چاہیے اور اس کے لیے محنت و تعاون کا ذوق رکھنے والے حضرات راقم الحروف سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
  • ڈپٹی گورنر بینک آف پاکستان جناب سعید احمد کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ غیر سودی بینکاری کے لیے رجال کار کی تیاری دینی مدارس کو کرنی چاہیے اور دینی اداروں کو یہ بات اپنی ذمہ داری میں شامل کرنی چاہئے کہ وہ ملک میں غیر سودی نظام کے نفاذ کے لیے رجال کار کی تربیت و تعلیم کا نظام قائم کریں۔ جبکہ دینی حلقوں کی صورتحال یہ ہے کہ ہم ملک کے پورے نظام کو تبدیل کرنے کی بات تو کرتے ہیں اور قومی زندگی کے ہر شعبہ میں شرعی احکام و قوانین کی عملداری کا مطالبہ کرتے ہیں جو ایک جائز مطالبہ اور قومی ضرورت ہے، مگر قومی زندگی کے کسی بھی شعبہ کے لیے رجالِ کار کی فراہمی اور تربیت و تیاری کا کوئی نظام ہمارے دینی تعلیم و نصاب کا حصہ نہیں ہے۔ اس لیے ہم اگر ملک میں شرعی نظام کے نفاذ میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں نہ صرف غیر سودی نظام بلکہ قومی زندگی کے ہر شعبہ میں شرعی اصلاحات کے نفاذ کے لیے رجال کار کی فراہمی اور تیاری کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کا حصہ بنانا ہو گا، اس کے بغیر ہم قومی زندگی میں دینی احکام و قوانین کی ترویج و نفاذ میں کوئی پیشرفت نہیں کر سکیں گے۔