اسلام کے خاندانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی صورتحال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۱۷ء

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۳ اگست ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے اکٹھی تین طلاقیں دینے کے عمل کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت ہند سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس دوران قانون سازی کرے۔

یہ مسئلہ کافی عرصہ سے بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور ہم اس سے قبل ان صفحات میں اس پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور اب اس کا ذکر کرنے کا مقصد دینی و علمی حلقوں کو اس طرف ایک بار پھر توجہ دلانا ہے کہ مسلمانوں کے خاندانی احکام و قوانین دنیا بھر میں مختلف سطح کی عدالتوں میں مسلسل زیر بحث ہیں اور ان کے بارے میں فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں مگر اس حوالہ سے مسلمانوں کے علمی و دینی مراکز میں بحث و تحقیق اور مطالعہ و تجزیہ کا جو ماحول اب تک بن جانا چاہیے تھا وہ دکھائی نہیں دے رہا۔

ہمارے ہاں پاکستان میں معروضی صورتحال یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے مقدمات عدالتوں میں بڑھتے جا رہے ہیں اور ان پر ہونے والے فیصلوں میں شرعی قوانین، علاقائی رواجات اور مروّجہ بین الاقوامی فلسفہ و نظام کے تقاضے کچھ اس طرح گڈمڈ ہو کر رہ گئے ہیں کہ ان کا ایک دوسرے سے فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر طلاق کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بنیاد پر بین الاقوامی اداروں کا مسلمانوں سے یہ تقاضہ ہے کہ خاوند کی طرح بیوی کو بھی طلاق کا مساوی حق دیا جائے اور اس حق میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ اسلام کے قانون میں مرد کو (براہ راست) طلاق کا حق حاصل ہے جبکہ بیوی کو ’’خلع‘‘ کی صورت میں مطالبۂ طلاق کا حق دیا گیا ہے جس کی وجوہ اور اسباب درست ہونے کی صورت میں خاوند کے علاوہ تحکیم اور قضا کی اتھارٹی بھی موجود ہے جو شکایات درست ہونے پر دونوں کے درمیان تفریق کرا سکتی ہے۔

ہمارے ہاں اس بین الاقوامی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ۱۹۶۲ء میں نافذ ہونے والے عائلی قوانین میں نکاح کے فارم میں ’’تفویض طلاق‘‘ کا سوال شامل کیا گیا تھا جو اِن حلقوں کے خیال میں مؤثر ثابت نہیں ہوا، چنانچہ اب اس کی بجائے خلع کو مطالبۂ طلاق کی بجائے براہ راست طلاق کا حق قرار دینے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے، جس کے تحت فیملی کورٹس ایک عرصہ سے خلع کی درخواستوں پر ہر صورت میں عورت کے حق میں فیصلہ صادر کرنے میں مصروف ہیں اور اس نئی عدالتی پالیسی نے طلاق اور خلع کے درمیان کوئی عملی فرق باقی نہیں رہنے دیا۔

یہ طرز عمل اس قدر وسعت پذیر ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے بعض سرکردہ وکلاء نے بھی اس کو محسوس کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے معروف علماء کرام سے رابطہ قائم کیا ہے اور ان سے اس سلسلہ میں واضح موقف کا تقاضہ کیا ہے۔ اس پر تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام پر مشتمل مشترکہ عملی فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے، جس کا راقم الحروف بھی حصہ ہے، چند وکلاء کا ایک گروپ قائم کیا ہے جس نے اپنے ابتدائی اجلاس میں معروضی صورتحال کا جائزہ لے کر علمی اداروں کی خدمت میں مندرجہ ذیل سوال نامہ پیش کیا ہے۔ اس سلسلہ میں بحث و تمحیص کا نقطۂ آغاز ہے اور ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے اس کا دائرہ تمام مکاتب فکر کے علمی و دینی حلقوں تک پھیلانے کا ارادہ کیا ہے تاکہ کوئی اجتماعی موقف سامنے آنے کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا جا سکے۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دارالافتاء کے سربراہ مولانا مفتی واجد حسین اور جناب آصف اسماعیل ایڈووکیٹ پر مشتمل گروپ اس پر کام کر رہا ہے جبکہ ملک کے دیگر علمی اداروں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کے خاندانی احکام و قوانین کے تشریح و تعبیر میں راہنمائی کریں۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ افتاء کا تجربہ رکھنے والے ذمہ دار مفتیان کرام کے ساتھ دینی ذہن و مزاج رکھنے والے پختہ کار وکلاء اور سابق جج صاحبان کو بھی اس مشاورت کا حصہ بنایا جائے تاکہ مسائل و احکام کو پوری طرح وضاحت کے ساتھ عوام اور متعلقہ اداروں کے سامنے لایا جا سکے۔

وکلاء کی طرف سے پیش کیا جانے والا سوال نامہ درج ذیل ہے:

’’ملی مجلس شرعی کے ایک اجلاس میں قائم کیے جانے والے وکلاء کے گروپ کا ایک اجلاس ۲ اگست کو لاہور منعقد ہوا جس میں پاکستان میں طلاق و خلع کے مروجہ قوانین کا جائزہ لیا گیا اور متفقہ طور پر ویسٹ پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ ۱۹۶۴ء میں ۲۰۰۲ء میں ہونے والی ترامیم میں سے دفعہ ۱۰ (۵) پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس میں ’’ مصالحتی کاروائی کی ناکامی کی صورت میں فوری طور پر سپیشل فیملی جج کے اختیار کہ فوری طور پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دی جائے‘‘ کو خلع و طلاق کے شرعی قوانین کے خلاف قدم محسوس کیا گیا، جس کی بابت اس کی شرعی حیثیت پر گفتگو سے پرہیز کیا گیا کہ یہ کام علماء کرام کا ہے جو اس پر متفقہ موقف اختیار کریں۔ لیکن وکلاء نے اس دفعہ (۵) ۱۰ کو خلاف شرع قرار دیے جانے کی صورت میں اس کے متبادل تجاویز پر گفتگو اور بحث و تمحیص کے لیے دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کا پروگرام بنایا ہے اور تمام دوستوں سے گزارش کی گئی ہے کہ تجاویز مرتب کر نے کے لیے ضروری ہے کہ تمام دوست اس بابت توجہ کریں اور اس کے علاوہ:

  1. مسلم فیملی لاز آرڈیننس ۱۹۶ دفعہ ۸۔
  2. ڈسولوشن آف میرج ایکٹ ۱۹۳۹ء دفعہ ۲۔
  3. ڈائیورس ایکٹ ۱۸۶۹ء دفعہ ۱۰۔

کو بھی پڑھ کر آئیں تاکہ اس میں بحث ہو سکے۔

مندرجہ ذیل تنقیحات بھی وضع کی گئی:

  1. آیا جج کا یہ اختیار کہ بنا کوئی شہادت لیے خلع کی ڈگری جاری کرنے کا اختیار شرعی دائرہ کار میں آتا ہے۔
  2. کیا جج کا یہ اختیار کہ خاتون کے دعویٰ کے بعد دوران مصالحت اس کی جانب سے آباد ہونے سے انکار پر تنسیخ نکاح کی ڈگری کا اجرا درست اقدام ہے؟

مزید معلومات اور مشاورت کے لیے جامعہ نصرۃ العلوم کے دارالافتاء میں مولانا مفتی واجد حسین صاحب سے فون نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔