ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا آغاز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۱۹۸۹ء

اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو نہ صرف زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی شعبوں میں انسانیت کی راہنمائی کرتا ہے بلکہ تاریخ عالم کے صفحات میں انسانی معاشرہ کو افکارِ جاہلیہ کے پنجے سے نجات دلا کر امن و سکون کا گہوارہ بنانے کا اعزاز اسی فطری نظام حیات کا امتیاز بن چکا ہے۔ خلافت راشدہ کا زمانہ اسلامی نظام کے عملی نفاذ اور اس کی برکات کے ظہور کا مثالی دور تھا۔ اس کے بعد بھی ملت اسلامیہ کی اجتماعی زندگی کے بیشتر شعبوں میں اسلامی احکام و اقدار کی کارفرمائی کا تسلسل کم و بیش بارہ صدیوں تک قائم رہا۔ تا آنکہ جب یورپ کے مشینی انقلاب اور اس سے پیدا شدہ مسائل کے ہاتھوں اقتدار اور کلیسا کا رشتہ ٹوٹ گیا اور مذہب سے آزادی حاصل کر کے انسانی افکار و نظریات کی بنیاد پر نیا نظام ترتیب دینے والی یورپی قوتیں انقلاب اور صنعتی ترقی کے نشہ میں مسلم ممالک پر چڑھ دوڑیں تو یورپی استعمار کے زیر تسلط آنے والے مسلم ممالک نہ صرف اپنے سابقہ نظام اور اقدار و قوانین سے محروم ہوگئے بلکہ مرعوب ذہنوں نے ملت اسلامیہ کو مغرب کی ذہنی، تہذیبی اور نظریاتی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے کی محنت کو ہی فکر و نظر کی معراج سمجھ لیا۔

خدا بھلا کرے ان علماء حق کا جنہوں نے بیرونی استعمار کے خلاف سیاسی، نظریاتی اور تعلیمی محاذوں پر طویل اور صبر آزما جنگ لڑی اور بالآخر ملت اسلامیہ کے نظریاتی تشخص اور اسلام کے فکری و علمی اثاثہ کو محفوظ رکھنے اور مسلم ممالک پر استعماری اقتدار کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن مسلم ممالک سامراجی قوتوں کے سیاسی اقتدار سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود بیرونی استعماری نظاموں کے مسلسل اسیر ہیں اور سامراجی آقاؤں کی فکری اولاد ان کافرانہ نظاموں کے تحفظ اور اسلامی نظام کے نفاذ اور غلبہ کو روکنے کے لیے آخری نظریاتی جنگ کا بگل بجا چکی ہے۔

یہ جنگ سیکولرازم کے نام پر انسانی اجتماعیت کو مذہب سے لاتعلق قرار دینے، اور اجتہاد مطلق کے نام پر نئی اور من مانی تعبیر و تشریح کے ذریعہ دین کو اپنے نظریات و مقاصد کے سانچے میں ڈھالنے کے دو محاذوں پر جاری ہے۔ اور اسی نظریاتی اور فکری معرکہ میں اہل حق کی خدمت اور ترجمانی کے لیے ’’الشریعہ‘‘ اپنے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس فکری و نظریاتی جہاد میں الشریعہ کو اہل فکر و نظر کی سرپرستی حاصل رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احباب کے تعاون سے الشریعہ دین و قوم کی بہتر خدمت کر سکے گا۔