قطر میں افغان طالبان کا دفتر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ جون ۲۰۱۳ء

قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر کھلنے کے ساتھ ہی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا ہے اور دونوں طرف سے تحفظات کے اظہار کے باوجود یہ بات یقینی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات بہرحال ہوں گے کیونکہ اس کے سوا اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا اور دونوں فریقوں کو افغانستان کے مستقبل اور اس کے امن و استحکام کے لیے کسی نہ کسی فارمولے پر بالآخر اتفاق رائے کرنا ہی ہوگا۔ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالہ سے مختلف خبریں نظر سے گزرتی ہیں تو ذہن امریکہ اور ویت کانگ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی خبروں کی یاد تازہ ہونے لگتی ہے جب ویت نام میں امریکہ کی فوج کشی کے بعد وہاں کے حریت پسند گوریلوں نے ’’ویت کانگ‘‘ کے عنوان کے تحت طویل جنگ لڑی تھی اور پھر طویل اور تھکا دینے والے مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ کی فوجی مداخلت کے خاتمہ، ویت نام کی آزادی اور جنوبی اور شمالی ویت نام کے اتحاد کے مقاصد حاصل کر لیے تھے۔ افغان طالبان کو کم و بیش انہی مراحل کا سامنا ہے اور کسی بھی بڑے ملک کی فوجی مداخلت کے بعد اس سے گلو خلاصی کے لیے ان مراحل سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔

افغانستان میں امریکی افواج اور نیٹو کی عسکری یلغار کے بعد ہم نے اس وقت بھی عرض کر دیا تھا اور اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً یہ گزارش کرتے آرہے ہیں کہ مداخلت کار قوتوں کو بالآخر طالبان کا وجود تسلیم کرنا ہوگا اور ان کے ساتھ مذاکرات کی میز سجانا ہوگی، اس کے لیے کوئی لمبی چوڑی فراست درکار نہیں تھی کیونکہ تاریخ کا عمل اسی کو کہتے ہیں اور تاریخ پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص کی رائے اس سے مختلف نہیں ہو سکتی۔

افغان طالبان کے بارے میں یہ تصور کر لیا گیا تھا کہ وہ ایک شدت پسند گروہ ہے جو اسلحہ اور جبر کے زور پر افغانستان کا تسلط اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ ہمارا موقف یہ تھا کہ ’’طالبان‘‘ صرف ایک گروہ کا نام نہیں بلکہ وہ افغان قوم کی حب الوطنی، خود مختاری اور حمیت اسلامی کی علامت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور ایسی قوموں کو میدان جنگ میں کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔ اس لیے مداخلت کاروں کو بالآخر یہی کرنا تھا اور افغان طالبان نے بھی دانش مندی سے کام لیا ہے کہ مذاکرات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے اس سمت پیش رفت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ مذاکرات ابھی وقت لیں گے، مذاکرات کے دوران بلکہ اس سے پہلے بھی روٹھنے اور منائے جانے کے کئی مراحل درمیان میں آئیں گے بلکہ بعض مناظر مایوسی کے بھی دکھائی دینے لگیں گے، مختلف حوالوں سے ایک دوسرے کے بارے میں بے اعتمادی اور تحفظات کا اظہار ہوگا، یہ مذاکرات کئی بار ٹوٹتے ٹوٹتے جڑیں گے اور جڑتے جڑتے ٹوٹیں گے، لیکن یہ بات اب نوشتۂ تقدیر ہے کہ آخر کار یہ مذاکرات منطقی نتیجہ تک پہنچیں گے اور نہ صرف یہ کہ افغانستان مکمل آزادی اور خود مختاری کی منزل سے ہمکنار ہوگا بلکہ امریکہ اور نیٹو افواج بھی کسی نئے ہدف کی تلاش میں خود کو آزاد محسوس کریں گی۔

افغان طالبان افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج کے انخلاء کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ اس سے قبل افغان مجاہدین اپنی سرزمین سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کے لیے جنگ لڑ چکے ہیں۔ اس وقت افغان قوم کے سامنے ہدف یہ تھا کہ سوویت یونین کی فوجیں افغانستان کی سرزمین سے نکل جائیں اور اب اس حریت پسند قوم کا ہدف یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج افغانستان کا علاقہ خالی کر دیں۔ مگر ایک فرق واضح ہے کہ اُس وقت انہیں عالمی برادری حتیٰ کہ امریکہ کی بھی حمایت و امداد حاصل تھی جبکہ اب وہ تنہا ہیں اور کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ درپردہ امداد و حمایت کی بات الگ ہے مگر ظاہری منظر یہی نظر آرہا ہے کہ سوویت یونین کے خلاف تو عسکری جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی جنگ میں بھی عالمی برادری ان کی پشت پر تھی مگر امریکہ اور نیٹو کے خلاف جنگ میں میدان جنگ کے علاوہ سفارتی محاذ پر بھی وہ اکیلے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے یہ افغان طالبان کی ذہانت و فراست کا بہت کڑا امتحان ہے اور اگر انہوں نے گزشتہ عشرے کے دوران اپنی کشمکش کے پس منظر اور پیش منظر سے کچھ سبق حاصل کر لیا ہے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر حقیقت پسندی کی بنیاد پر حکمت و تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ وہ اس امتحان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی جنگ میں پاکستانی عوام بحیثیت قوم ان کی پشت پر کھڑے تھے، حکومت ان کے ساتھ تھی، ریاستی ادارے ان کی پشت پر تھے، علماء کرام خواہ کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں ان کے حامی و مددگار تھے، دینی مدارس کے طلبہ اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ انہیں فراہم کر دیا تھا اور مخیر حضرات نے بھی تعاون میں کوئی کمی نہیں کی تھی۔ مگر اس بار صورت حال بہت مختلف ہے حتیٰ کہ علماء کرام اور دینی جماعتیں گومگو کا شکار ہیں۔ افغان طالبان کو اپنے مشن میں بالکل صحیح سمجھتے ہوئے اور ان کی جنگ کو آزادی کی جنگ اور جہاد قرار دیتے ہوئے بھی وہ اس طرح ان کی حمایت نہیں کر پا رہے جس طرح سوویت یونین کے خلاف جہاد میں انہوں نے افغان مجاہدین کی حمایت کی تھی۔ اس کی ایک وجہ شاید قبائلی علاقوں کی صورت حال بھی ہے کہ حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے طرز عمل اور کاروائیوں نے جو حالات پیدا کر دیے ہیں وہ پاکستان کی عوامی رائے کو افغان طالبان کی حمایت میں منظم کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر رہ گئے ہیں جبکہ میڈیا تو مجموعی طور پر اس قسم کا کردار ادا کرتا ہی رہتا ہے، اس سے کوئی شکایت کرنا ہی سرے سے فضول اور بے مقصد محسوس ہوتا ہے۔

لیکن کیا پاکستان کی دینی جماعتوں اور علماء کرام کو گومگو کی اسی پوزیشن میں رہنا چاہیے؟ اور ایک جائز مقصد کے لیے صبر آزما جنگ لڑنے والے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر اسی طرح تنہا چھوڑ دینا چاہیے؟ ہمارے خیال میں اس سوال کا گہری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے مختلف پہلوؤں کی طرف ملکی رائے عامہ کو توجہ دلانا اور توجہ دلاتے رہنا شاید ہماری دینی ذمہ داریوں میں بھی شامل ہے۔

ہماری رائے میں اس وقت جن دائروں میں ہم کام کر سکتے ہیں اور ہمیں کام کرنا چاہیے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • افغان طالبان کو عمومی سیاسی و اخلاقی حمایت مہیا کی جائے اور نہ صرف ملکی رائے عامہ بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی ان کے جائز موقف کی طرف توجہ دلانے کا اہتمام کیا جائے۔
  • بین الاقوامی اداروں اور خاص طور پر عالم اسلام کے بین الاقوامی اداروں میں افغانستان کی آزادی و خود مختاری اور اس کے اسلامی تشخص کی بحالی و تحفظ کے لیے لابنگ اور ذہن سازی کی قابل عمل صورتیں نکالی جائیں۔
  • افغان طالبان کی جدوجہد اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورت حال کے فرق کو واضح کیا جائے اور پاکستان کی داخلی کشمکش کی ذمہ داری سے افغان طالبان کو بری الذمہ قرار دینے اور اصل زمینی حقائق کے اظہار کے لیے علمی و فکری محنت کی جائے۔
  • مذاکرات کے دوران افغان طالبان کی ایک بڑی ضرورت یہ بھی ہوگی کہ مذاکرات کو صحیح نتائج تک لے جانے کے لیے ان کا عسکری دباؤ کمزور نہ ہونے پائے، اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ پاکستان کے علماء کرام، دینی کارکن اور اصحابِ خیر اس فیصلہ کن مرحلہ میں جو بھی تعاون کر سکتے ہوں اس سے گریز نہ کیا جائے۔

افغان طالبان ہمارے بھائی ہیں اور اپنے وطن کی آزادی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے مصروف جہاد ہیں۔ ان کی جنگ جس طرح سوویت یونین کے خلاف جائز تھی اسی طرح نیٹو افواج کی عسکری یلغار کے خلاف جنگ میں بھی وہ ہمارے نزدیک حق بجانب ہیں اور ہمیں اپنے حالات و ظروف کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی حق کا ساتھ دینے کے قابل عمل راستے ضرور نکالنے چاہئیں۔

درجہ بندی: