حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ سے عام طور پر بہت کم لوگ واقف ہیں، میں نے پہلی مرتبہ انہیں ۱۹۷۶ء میں دیکھا جب میں ایک طالب علم تھا۔ اس وقت اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا ہوا تھا، مفتی محمود صاحبؒ نے ایک جلسے میں فرمایا کہ اگر حکومت ہمیں اجازت دے تو ہم اپنے خرچے پر وہاں جہاد کے لیے جائیں گے۔ مفتی صاحبؒ کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوا اور بڑے جوشیلے انداز میں اس نے اس با ت کا اعلان کیا کہ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو میں قبائل کی طرف سے دس ہزار کا لشکر فراہم کروں گا۔ میں نے بڑے تعجب سے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ بعد میں مفتی صاحبؒ سے میں نے پوچھا کہ حضرت یہ نوجوان کون ہیں اور اتنا بڑا دعویٰ کیسے کر رہے ہیں؟مفتی صاحبؒ نے فرمایا، یہ دے دے گا، یہ وزیروں کا لیڈر ہے۔

مولانا نور محمدؒ نے وانا میں جمعیۃ کی بنیاد رکھی۔ قبائل کا علاقہ دینی علاقہ ہے، بھٹو صاحب مرحوم نے اپنے دور اقتدار میں ایک مرتبہ قبائل کا دورہ کیا۔ وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ نے مولانا مرحوم سے ملاقات کی کہ بھٹو صاحب کا استقبال کیسے کیا جائے، انہوں نے فرمایا کہ میں بے مثال استقبال کروں گا لیکن کروں گا جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے۔ جبکہ وہ لوگ چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے استقبال ہو۔ جب بھٹو صاحب ائیر پورٹ پر اترے تو ہر طرف جمعیۃ کے ہزاروں پرچم لہرا رہے تھے۔ اس کی مولانا کو پھر سزا بھی دی گئی، انہیں ایک مقدمے میں الجھایا گیا، وانا بازار کو بلڈوز کر دیا گیا اور مولانا سات آٹھ سال تک جیل میں رہے۔

مولانا نور محمد مرحوم نے جہاد افغانستان میں بہت سرگرم کردار ادا کیا اور سب سے پہلے جو کتاب جہاد افغانستان کی شرعی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے لکھی گئی وہ مولانا نے ہی لکھی تھی۔ میں بھی اس وقت ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کر رہا تھا۔ ہمارا جب بھی ان علاقوں کا سفر ہوتا تو ہم مولانا کے پاس ٹھہرتے اور ان سے استفادہ کرتے۔ ایک مرتبہ میں افغانستان جا رہا تھا تو راستے میں مولانا کے پاس ٹھہرا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے جہاد افغانستان پر ایک کتاب لکھی ہے جو چھپنے کے قریب ہے، انہوں نے اس کا مسودہ مجھے بھی دکھایا۔ کتاب میں نے اسی رات ساری دیکھی اور صبح ان سے عرض کی کہ میں نے ساری کتاب دیکھ لی ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کتاب صرف پٹھانوں کے لیے لکھی ہے یا سب کے لیے؟ انہوں نے کہا کہ سب کے لیے ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی زبان تو صرف پٹھانوں والی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتی ہے وغیرہ، اس کی زبان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ فرمانے لگے کہ نظر ثانی کون کرے گا؟ میں نے کہا کہ میں کروں گا۔ میں وہ کتاب ساتھ لے آیا اور اس کی زبان کی اصلاح کی اور پھر وہ کتاب چھپی۔ اس طرح ان کی برکت سے مجھے یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ جہاد افغانستان پر لکھی جانے والی سب سے پہلی کتاب پر نظر ثانی کا موقع ملا، اس کتاب پر مقدمہ بھی میں نے ہی لکھا تھا۔

مولانا کے پاس علم بھی تھا، وجاہت بھی تھی اور مقام و مرتبہ بھی تھا۔ آپ قبائل کے لیڈر تھے، اگر کسی ایک شخصیت کا نام پوچھا جائے کہ جس پر تمام وزیر قبائل کو اکٹھا کیا جا سکتا تھا تو وہ نام مولانا نور محمدؒ ہی کا تھا۔ گزشتہ دنوں وہ ایک خود کش حملے میں شہید کر دیے گئے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک نوجوان ان سے آ کر گلے ملا اور گلے ملتے ہی اس نے اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا اور مولانا سمیت ۲۳ افراد شہید ہو گئے۔ ان کی موت سے دیگر نقصانات تو ایک طرف،ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اب شاید کوئی ایسی شخصیت نہ ملے جس پر سب قبائل کو جمع کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیین میں ارفع و اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔