مولانا اعظم طارق کا شریعت بل اور مسیحی اقلیت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۳ء

ملت اسلامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کر رکھا ہے جس میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے اور قرآن و سنت کے خلاف ملک میں رائج تمام قوانین ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس شریعت بل کا مسودہ ان نصف درجن کے لگ بھگ شریعت بلوں سے ملتا جلتا ہے جو مختلف اوقات میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش ہوئے، ان پر سالہا سال تک بحث ہوئی اور ان ایوانوں میں منظور بھی ہوئے لیکن اس کے بعد پھر طاق نسیاں کی نذر ہوگئے۔ اب پھر مولانا محمد اعظم طارق نے اسی طرز کا شریعت بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جس کے بارے میں خود انہوں نے ایک اخبار میں امید ظاہر کی ہے کہ وہ اسے قومی اسمبلی سے منظور کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہماری دعاء ہے کہ خدا ان کی زبان مبارک کرے اور وہ اسے قومی اسمبلی سے منظور کرا لیں لیکن قومی اسمبلی میں اس پر بحث کے آغاز سے قبل ہی ایک اقلیتی گروپ کرسچیئن ڈیمو کریٹک فرنٹ پاکستان نے اس شریعت بل کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ جولائی ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق فرنٹ کے سربراہ سردار خلیل طاہر سندھو نے اپنے رفقاء فادر ظفر اور جارج کلائمنٹ کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ مولانا اعظم طارق کے پیش کردہ شریعت بل میں کہا گیا ہے کہ اس بل کی کسی دفعہ کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قوانین پر نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود انہیں شریعت بل پر اعتراض ہے اور وہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔ کرسچیئن لیڈر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قرارداد مقاصد کے مطابق اسلام کے قوانین نافذ کرنے سے مسلمانوں کی بالادستی اور تسلط قائم ہو رہا ہے اور اقلیتوں میں احساس محرومی پیدا ہو رہی ہے۔

کرسچیئن فرنٹ کے صدر کی اس پریس کانفرنس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بعض اقلیتی لیڈروں کی طرف سے ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شرعی قوانین اقلیتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ سرے سے پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کر رہے ہیں اور انہیں پاکستان کے اسلامی دستور اور نظریاتی حیثیت سے ہی اتفاق نہیں ہے۔ بات اقلیتوں کے جائز حقوق کی ہو اور انہیں شرعی قوانین کے دائرہ سے مستثنٰی رکھنے کی ہو تو اس پر توجہ دی جا سکتی ہے اور کسی بھی جائز شکایت کا ازالہ کیا جا سکتا ہے لیکن سرے سے اسلامی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اسلام کے نام پر اور نفاذ اسلام کے وعدہ کے ساتھ وجود میں آیا تھا اور ملک کے کسی طبقہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پاکستان کی نظریاتی حیثیت کو چیلنج کرے اور اس کے اسلامی تشخص کی نفی کرنا شروع کر دے۔