قومی نظام تعلیم اور آغا خان تعلیمی بورڈ

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ نومبر ۲۰۰۴ء

’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ’’فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن‘‘ کے بہترین اساتذہ میں انعامات کی تقسیم سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دینی مدارس کے لیے چھ ارب روپے رکھے گئے تھے جن میں سے پانچ ارب روپے دیے جا چکے ہیں اور ایک ارب روپے اب بھی موجود ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ خبر ’’انکشاف‘‘ کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے کہ یہ بات تو درست ہے کہ وفاقی حکومت نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے دینی مدارس کی اصلاح کے لیے دی گئی خطیر رقم میں سے چھ ارب روپے دینی مدارس کے لیے مختص کر رکھے ہیں، لیکن ان میں سے پانچ ارب روپے دیے جانے کی بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ دینی مدارس کی غالب اکثریت ان وفاقوں سے وابستہ ہے جو مختلف مکاتب فکر نے اپنے اپنے دینی مدارس کے نظام اور امتحانات کو مربوط بنانے کے لیے قائم کر رکھے ہیں۔

اس وقت موجودہ پانچ وفاقوں، دیوبندی مکتب فکر کے وفاق المدارس العربیہ، بریلوی مکتب فکر کے تنظیم المدارس، اہل حدیث مکتب فکر کے وفاق المدارس السلفیہ، شیعہ مکتب فکر کے وفاق المدارس الشیعہ اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رابطۃ المدارس العربیہ نے متفقہ طور پر اس رقم میں سے کوئی امداد قبول نہ کرنے بلکہ امداد قبول کرنے والے کسی بھی مدرسے کو اپنے اپنے وفاق سے خارج کر دینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ اس لیے اس صورتحال میں پانچ ارب کی خطیر رقم مدارس کو دے دیے جانے کی بات قابل فہم نہیں ہے۔ اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں کہ:

  1. یا تو بہت سے مدارس نے یہ پیسے لے لیے ہیں اور وفاقوں کی قیادت نے معلوم ہوتے ہوئے بھی دھیان دوسری طرف کر لیا ہے،
  2. اور یا پھر یہ رقم تقسیم کرنے والوں نے ادھر ادھر کر لی ہے اور ریکارڈ میں دینی مدارس کے نام لکھ دی گئی ہے۔ بہرحال جو بھی صورت ہے، قوم کو اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

ایم ایم اے کے کسی سینیٹر یا ایم این اے کو اگر دوسرے جھمیلوں سے فرصت ہو تو اسے یہ بات پارلیمنٹ کے فلور پر حکومت سے دریافت کرنی چاہیے کہ پانچ ارب کی اتنی بڑی رقم جن مدارس کو دی گئی ہے، ان کے نام بتائے جائیں اور دینی مدارس کے نام پر مختص کی جانے والی رقم کی تقسیم کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔

وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی نے اپنے مذکورہ خطاب میں آغا خان تعلیمی بورڈ کو امتحانی اختیارات دینے کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس سے کوئی طوفان نہیں آئے گا، اس کی مخالفت بلا جواز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے آغا خان بورڈ کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ آغا خان بورڈ کو امتحانی اختیارات دینے کے بارے میں تعلیمی بورڈ میں اختلاف پایا جاتا ہے جسے دور کرنے کے لیے چیئرمین فیڈرل بورڈ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

آغا خان تعلیمی بورڈ کے حوالے سے ہم اپنے تحفظات کچھ عرصہ قبل اس کالم میں بیان کر چکے ہیں اور اس سلسلہ میں ملک بھر کے تعلیمی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کو ’’ایگزیمینیشن بورڈ‘‘ کے قیام کا اختیار دینے کا اعلان صدر جنرل پرویز مشرف کے دستخطوں سے جاری ہونے والے آرڈیننس کے ذریعے سے اب سے دو سال قبل ۸ نومبر ۲۰۰۳ء کو کر دیا گیا تھا۔ ’’غیر معمولی آرڈیننس‘‘ کے عنوان سے یہ حکمنامہ ’’دی گزٹ آف پاکستان‘‘ میں موجود ہے، اس میں ’’آغاخان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ‘‘ کو منظور کرتے ہوئے فوری طور پر اس کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے اور پورے پاکستان کو اس کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔ آرڈیننس کے ذریعے سے اس بورڈ کو مکمل طور پر خود مختار اور اپنے مقاصد کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے میں کامل طور پر آزاد قرار دیا گیا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر امتحانی بورڈ قائم کرے۔ آرڈیننس میں بتایا گیا ہے کہ آغا خان یونیورسٹی اپنے مکمل اختیار کے تحت امتحانی بورڈ کو پرائیویٹ امیدواروں، پاکستان اور پاکستان سے باہر کے غیر سرکاری اسکولوں اور ان کے طالب علموں کو امتحانات کی پیشکش قبول کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے اور امتحانی بورڈ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اجازت کے ساتھ اپنی حدود کار کو سرکاری اسکولوں تک وسعت دینے کا مجاز ہوگا۔ جبکہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام اسکول اور ان کے طالب علم بشمول اسلام آباد کے وفاقی علاقے، نیز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا)، شمالی علاقہ جات اور چھاؤنیوں کے علاقوں کے اسکول بھی آغا خان امتحانی بورڈ کے امتحانات کو طے شدہ شرائط پر اختیار کر سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا صدارتی آرڈیننس کے تحت قائم ہونے والے ’’آغا خان تعلیمی بورڈ‘‘ نے اس کے بعد اب تک جو پیشرفت کی ہے، اس سلسلہ میں اسلام آباد کے ایک انگریزی روزنامہ میں ۹ فروری ۲۰۰۴ء کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے وفاقی تعلیمی بورڈ کو آغا خان بورڈ سے منسلک کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر تعلیم اور فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جنرل نے سرگرمی کے ساتھ دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے، لیکن والدین اور اساتذہ کی انجمن نے اس امر کی مخالفت کی ہے اور اپنے ایک مشترکہ اجلاس میں اس کی مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس منصوبے پر دو طریقوں سے عمل کیا جائے گا۔ پہلے والدین کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایک ہی تعلیمی ادارے میں اپنے بچوں کو آغا خان بورڈ کے تحت امتحان دلانا چاہتے ہیں یا نہیں، دوسرے مرحلے میں اس ادارے کے سب بچوں پر لازم کر دیا جائے گا کہ وہ آغا خان بورڈ کو ہی منتخب کریں، جبکہ اس سے اگلے مرحلے میں وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی کا ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۴ء کے اخبارات میں شائع ہونے والا یہ بیان قابل توجہ ہے:

’’آغا خان فاؤنڈیشن کا امتحانی نظام ہمارے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم تعلیمی اداروں کو آغا خان فاؤنڈیشن کے سپرد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم بعض تعلیمی اداروں کے امتحانات کو ہم آغا خان فاؤنڈیشن سے منسلک کر رہے ہیں۔ اے لیول اور او لیول کے امتحانات خصوصی طور پر آغا خان فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد کیے جانے کے انتظامات ہو چکے ہیں۔‘‘

ہماری معلومات کے مطابق اس وقت اسلام آباد کے وفاقی تعلیمی بورڈ کو آغا خان فاؤنڈیشن کے ساتھ ملحق کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، مگر نہ صرف یہ کہ اساتذہ اور والدین کی انجمن اس کی مخالفت کر رہی ہے بلکہ خود وفاقی تعلیمی بورڈ کے ارکان میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے جسے نمٹانے کے لیے مذکورہ بالا تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس پس منظر سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ آغا خان یونیورسٹی کو مکمل اختیارات کے ساتھ امتحانی بورڈ قائم کرنے کی اجازت دینے کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو آغا خان فاؤنڈیشن کی طے کردہ شرائط کے ساتھ آغا خان بورڈ کے ساتھ بتدریج منسلک کر دینے کے لیے مسلسل کام ہو رہا ہے، اور اگر اسے کسی مضبوط اور مؤثر مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا تو اگلے چار پانچ سال کے عرصے میں سرکاری اور غیر سرکاری، دونوں شعبوں میں امتحانی نظام کا سب سے بڑا کنٹرولر آغا خان بورڈ ہوگا اور اس طرح پورے ملک کا تعلیمی نظام آغا خان بورڈ کی تحویل میں چلا جائے گا۔

جہاں تک اس حوالے سے کوئی طوفان آنے یا نہ آنے کا سوال ہے، ہم اس سے قبل عرض کر چکے ہیں کہ یہ دو حوالوں سے ملک و قوم کے لیے نقصان دہ، بلکہ فکری اور نظریاتی طور پر تباہ کن بات ہوگی۔

  1. ایک اس لیے کہ آغا خان فاؤنڈیشن کا یہ تعلیمی منصوبہ خود اس کا اپنا منصوبہ نہیں ہے بلکہ امریکی سفیر کے ساتھ ایک باقاعدہ اور آن ریکارڈ معاہدے کے تحت اس نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے، چنانچہ اس کے ساتھ تعلیمی نظام کو منسلک کرنے کا مطلب ملک کے پورے تعلیمی نظام کو بالواسطہ طور پر امریکی ایجنڈے کے ساتھ وابستہ کر دینا ہے، جو ملک کی خود مختاری کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہونے کے حوالے سے تعلیمی مقاصد سے انحراف کے بھی مترادف ہے۔
  2. دوسرا حوالہ خود آغا خان فاؤنڈیشن کا ہے کہ آغا خان فرقہ ایک اقلیتی گروہ ہے جس کے عقائد قادیانیوں کی طرح ملت اسلامیہ کے اکثریتی عقائد سے متصادم ہیں اور مسلمانوں کے لیے اپنے تعلیمی نظام میں اس کی بالادستی کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔
  3. وفاقی وزیر تعلیم کو شاید یہ طوفان نظر نہ آرہا ہو مگر اس کے آثار آنکھیں کھلی رکھنے والے ہر شخص کو دکھائی دے رہے ہیں۔ خدا کرے کہ ہمارے حکمران بھی طوفان والی سمت میں ایک نظر دیکھنے کی زحمت گوارا کر سکیں۔