”گینگ ریپ“ پر سزائے موت اور علماء کرام

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ اپریل ۱۹۹۷ء

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی نے ’’گینگ ریپ‘‘ پر سزائے موت کا قانون منظور کیا تو اس پر بعض سرکردہ علماء کرام نے یہ اعتراض کر دیا کہ سزائے موت کا یہ قانون شرعی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے اسے عجلت میں منظور نہ کیا جائے اور اس پر سرکردہ علمائے کرام سے رائے لی جائے۔ ’’اجتماعی آبروریزی‘‘ کے واقعات کچھ عرصہ سے جس کثرت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں اس کی روک تھام کے لیے قومی اسمبلی کو اس قانون کی ضرورت محسوس ہوئی ہے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اجتماعی آبروریزی کے حیاسوز واقعات کی روک تھام کے سلسلہ میں اپنے وعدہ کی تکمیل کے لیے یہ قانون منظور کرایا ہے۔

جہاں تک عجلت میں قانون کو منظور نہ کرنے اور اس پر سرکردہ اہل علم کی رائے لینے کا تعلق ہے اس رائے کی اہمیت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا اور احتیاط کا تقاضہ یہی تھا لیکن اب جبکہ یہ قانون منظور ہو چکا ہے اس رائے پر اصرار کا موقع نہیں رہا۔ البتہ اس کی شرعی حیثیت پر بحث کی گنجائش موجود ہے اور اگر واقعتا اس میں کوئی شرعی سقم پایا جاتا ہے تو اس پر نظر ثانی کے لیے سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ جن حلقوں کو اس قانون کی شرعی حیثیت پر اعتراض ہے وہ وفاقی شرعی عدالت یا اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کریں، جن کی آئینی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ ملک میں نافذ قوانین کا شرعی نقطہ نظر سے جائزہ لیں اور قرآن و سنت کے منافی قوانین کی نشاندہی کر کے حکومت سے ان کی تبدیلی کی سفارش کریں۔

گینگ ریپ کے سلسلے میں قومی اسمبلی کا منظور کردہ مسودہ قانون اس وقت ہمارے سامنے نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کی صحت و سقم کے فنی پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ البتہ اس شبہہ پر ایک نظر ڈالنا چاہتے ہیں جو اس قانون پر بعض علماء کرام کے اعتراض کا باعث بنا ہے، اور وہ یہ ہے کہ:

  • زنا کی شرعی سزا یہ ہے کہ شادی شدہ مرد یا عورت اس جرم کا ارتکاب کریں تو انہیں عدالت میں جرم ثابت ہونے کے بعد رجم کر دیا جائے،
  • اور غیر شادی شدہ مرد یا عورت کی سزا اس جرم میں موت نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ انہیں سو سو کوڑے مارے جائیں۔

جب کہ مذکورہ قانون میں ان علماء کرام کے بقول یہ فرق نہیں کیا گیا۔ اسی طرح بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ تعزیرات میں سزا کا تعین حد شرعی سے زیادہ کرنا درست نہیں ہے، اس لیے بھی گینگ ریپ کے تمام مجرموں کے لیے مطلقاً سزائے موت مقرر کرنے کا جواز نہیں ہے اور اس طرح یہ قانون شرعی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جہاں تک زنا کی سزا میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کا فرق ملحوظ رکھنے کا تعلق ہے، حد شرعی کے نفاذ میں تو یہ ضروری ہے اور پاکستان میں نافذ شدہ حدود شرعیہ میں اس کا لحاظ رکھا گیا ہے، لیکن زیر بحث قانون ہمارے خیال میں ’’حدود‘‘ کے دائرہ میں نہیں آتا بلکہ اسے تعزیر کے طور پر منظور کیا گیا ہے اس لیے اس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے فرق کا لحاظ رکھنا کوئی ضروری امر نہیں ہے۔ گینگ ریپ پر سزائے موت کا قانون ’’حدود شرعیہ‘‘ کے دائرہ میں اس لیے نہیں آتا کہ ’’عام زنا‘‘ اور ’’اجتماعی بدکاری‘‘ میں واضح فرق موجود ہے اور اسی فرق کی وجہ سے اس کے لیے الگ قانون سازی کی ضرورت محسوس کی گئی ہے، ورنہ زنا کے عام جرم کے لیے تو ملک میں قوانین پہلے بھی نافذ ہیں۔

ایک ہی جرم مختلف مواقع اور حالات کے حوالے سے الگ الگ نوعیت اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی مختلف نوعیتوں کا یہ فرق علمائے احناف کے ہاں تو بطور خاص تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثلاً سرقہ، جیب تراشی اور کفن چوری بنیادی طور پر چوری ہی کی مختلف صورتیں ہیں لیکن فقہاء کرام نے نوعیت اور مواقع و محل کی مناسبت سے انہیں الگ الگ جرم شمار کیا ہے اور ان کے لیے الگ سزائیں تجویز کی ہیں، حتیٰ کہ ’’کفن چوری‘‘ پر ’’سرقہ‘‘ کا اطلاق مکمل نہ سمجھتے ہوئے بعض فقہاء نے اسے ’’حد شرعی‘‘ کے اطلاق سے مستثنیٰ کر کے ’’تعزیر‘‘ کے دائرے میں شامل کر دیا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو ’’گینگ ریپ‘‘ زنا کی عام تعریف سے ہٹ کر ایک الگ بلکہ اس سے زیادہ سنگین جرم قرار پاتا ہے، اس لیے کہ اجتماعی بدکاری کی صورت میں زنا کے ساتھ دو مزید جرم بھی شامل ہو جاتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ یہ بدکاری عملاً دوسرے لوگوں کے سامنے کی جاتی ہے جس میں تذلیل اور تشہیر کا پہلو پایا جاتا ہے۔
  2. اور انتقام کے لیے خود ساختہ صورت اختیار کرنا بجائے خود جرم ہے۔
  3. پھر اس موقع پر اگر ہتھیار کی موجودگی اور نمائش بھی کی گئی ہو تو تخویف اور جبر ایک تیسرا جرم بھی اس کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔

اور ان تمام جرائم کا مجموعہ گینگ ریپ ہے جس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے اگر ’’حدود شرعیہ سے ہٹ کر بطور تعزیر الگ سزا مقرر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تو اسے شرعی اصولوں سے تجاوز قرار دینا کوئی مناسب طرز عمل نہیں ہو گا۔ باقی رہی یہ بات کہ تعزیرات میں حد شرعی سے زائد سزا مقرر کرنا درست نہیں ہے تو یہ موقف بھی اصولی طور پر محل نظر ہے اور سلسلہ میں بحث و دلائل کا ایک الگ میدان موجود ہے۔ البتہ اس موقع پر احناف کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اس قدر تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امام طحاویؒ شرح معانی الآثار میں حضرت امام ابو یوسفؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ تعزیرات میں سزا کا مقرر کرنا امام (یعنی حکومت) کی رائے پر موقوف ہے اور اس میں کوئی تحدید نہیں ہے۔ علامہ عینیؒ نے بھی ’’عمدۃ القاری‘‘ میں امام ابو یوسفؒ کا یہی قول نقل کیا ہے۔ جب کہ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ’’فیض الباری‘‘ میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کا موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تعزیر میں سزا کوڑوں کی صورت میں ہو تو یہ شرط ہے کہ کوڑوں کی سزا، جو حد شرعی میں کم از کم (چالیس کوڑے) بیان کی گئی ہے، تعزیر میں اس سے زیادہ مقرر نہ کی جائے۔ لیکن اگر سزا کسی اور شکل میں مقرر کی جا رہی ہے تو امام (یعنی حکومت) کے لیے موت سمیت کوئی بھی سزا مقرر کرنا جائز ہے۔ اسی طرح معروف محقق الاستاذ السید سابق ’’فقہ السنۃ‘‘ میں فتاویٰ شامی کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ احناف کا اصول یہ ہے کہ جن جرائم میں ان نزدیک قتل کی سزا عام حالات میں نہیں ہے، مثلاً کسی بھاری چیز کے ساتھ قتل کرنا یا لواطت وغیرہ، اگر ان جرائم کا تکرار ہونے لگے تو امام (حکومت) کو حق حاصل ہے کہ اس جرم میں موت کی سزا یا مقررہ حد سے زیادہ سزا دے، بشرطیکہ اسے عوام کی مصلحت اسی میں نظر آئے۔

اس لیے ہمارا خیال ہے کہ ’’گینگ ریپ‘‘ کی انسانیت سوز وارداتوں میں جس طرح مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس پر قابو پانے کے لیے موت کی سزا کا یہ قانون مناسب بلکہ ضروری قانون ہے اور شرعاً اس میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس پر مؤثر عملدرآمد ہو، ورنہ ملک میں قوانین تو پہلے بھی موجود ہیں مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے، اگر ان کی طرح یہ قانون بھی ہمارے نظام کی سست روی اور کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین کے مؤثر نفاذ اور ان پر عملدرآمد کے لیے بھی منصوبہ بندی کرے۔