دنیا میں معاشی توازن قائم رکھنے کا اصل راستہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۱ء

۱۶ اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ خوراک‘‘ منایا گیا اور اس سال اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’غربت کی کمی کے لیے بھوک سے لڑیں‘‘ کے عنوان سے اس موضوع پر مختلف تقریبات، مقالات، رپورٹوں اور خبروں کا اہتمام کیا گیا۔ عالمی سطح پر خوراک اور غربت کی صورت حال کے بارے میں ایک رپورٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں دنیا کی غریب اقوام اور غربت وناداری کی زندگی گزارنے والے کروڑوں انسانوں کی حالتِ زار کے بارے میں اعداد وشمار پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ، افغانستان اور برونڈی اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ نیم فاقہ کش ملک شمار ہوتے ہیں اور دنیا میں کم وبیش نوے کروڑ انسان ایسے ہیں جنہیں صرف اس قدر خوراک میسر آتی ہے کہ وہ جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ ان میں سے ۸۰ کروڑ کے لگ بھگ لوگوں کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ عالمی ادارہ خوراک وزراعت کی اس رپورٹ میں جسے ’’سٹیٹ آف فوڈ ان سکیورٹی ان دی ورلڈ 2000ء‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ سخت قسم کی غذائی مشکلات کے حامل ممالک میں افغانستان، بنگلہ دیش، ہیٹی، عوامی جمہوریہ کوریا، صومالیہ اور برونڈی سمیت صحارا اور افریقہ کے ۱۶ دوسرے ممالک شامل ہیں جبکہ کم نوعیت کی غذائی محرومی کے شکار ممالک میں پاکستان اور بھارت بھی شمار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں خشک سالی اور جنگوں سے پیدا شدہ صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا گیاہے اور غربت، خوراک کی کمی اور ناداری کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح کی کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کی تفصیلات وجزئیات کا احاطہ اس موقع پر ضروری نہیں ہے البتہ اس حوالے سے غربت، ناداری اور بھوک کے عالمی تناظر میں اصولی طور پر اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس غربت وناداری اور بھوک وافلاس کے اسباب کیا ہیں اور ان اسباب کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح پر آج کے دور میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس کے بارے میں ایک نقطہ نظر یہ ہے اور آج کی بین الاقوامی قوتوں اور اداروں کی پالیسیوں کی بنیاد اسی نقطہ نظر پر ہے کہ آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے اور دنیا کے موجود اور میسروسائل آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کا ساتھ نہیں دے رہے جس سے عدمِ توازن پیدا ہو گیا ہے اور بھوک اور غربت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آبادی میں اضافے کو روکا جائے اور انسانی آبادی میں شرحِ پیدائش کو خوراک اور دیگر وسائل میں اضافہ کی رفتار کے ساتھ منسلک کر کے کنٹرول میں لایا جائے۔

آبادی میں اضافے پر کنٹرول کی اس عالمی پالیسی سے جو معاشرتی خرابیاں جنم لے رہی ہیں اور پریشان کن مسائل پیدا ہو رہے ہیں، وہ اپنی جگہ پر مگر ان سے قطع نظر اسلامی نقطہ نظر سے اور معروضی حقائق کے حوالے سے سرے سے یہ بنیاد ہی غلط ہے اور محض ایک مفروضہ ہے جسے بہت سے جائز اور ناجائز مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ پوری کائنات کاخالق ومالک اور اسے چلانے والا اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت اور مصلحت کے ساتھ اس پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ سب انسان اسی نے پیدا کیے ہیں اور زمین میں ان کے لیے خوراک بھی اسی نے مہیا کی ہے۔ اسے انسانوں کی ضروریات اور زمین میں خوراک کے خزانوں کی مقدار کا علم ہے ۔ وہ انسانوں کی ضروریات سے غافل نہیں ہے اور نہ آبادی اور خوراک کے ذخائر میں توازن قائم رکھنا اس کے بس سے باہر ہے۔ اس نے ہر جاندار کی خوراک کا وعدہ کر رکھا ہے اور اس وعدہ کے مطابق وہ صرف انسانی آبادی نہیں بلکہ ہر جاندار مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق خوراک اور دیگر ضروریات مہیا کر رہا ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اس نے کسی کو پیدا کیا، اس میں روح ڈالی اور دنیا میں اس کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق خوراک مہیا نہیں کی کیونکہ یہ ظلم ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی سے ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو تین کا تذکرہ مناسب خیال کرتا ہوں۔

سورۂ ہود کی آیت ۶ میں اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:

’’زمین میں رینگنے والا کوئی جانور ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو۔ وہ ہر جاندار کے عارضی اور مستقل ٹھکانے کو جانتا ہے اور یہ سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہے۔‘‘

سورۂ ابراہیم کی آیت ۳۴ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر وہ چیز دی جس کا تم نے اس سے سوال کیا‘‘

یہاں یہ اشکال سامنے آیا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انسانوں نے ان نعمتوں کا کوئی سوال تو نہیں کیا اور نہ اپنی ضروریات کی کوئی فہرست پیش کی تو مفسرینِ کرام نے کہا کہ یہاں سوال سے مراد زبانِ حال کا سوال ہے اور مشہور مفسر قاضی بیضاویؒ نے اس کا ترجمہ یوں کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر وہ چیز دی جو سوال کے قابل تھی‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے سوال کی ضرورت پیش آ سکتی تھی، وہ بغیر سوال کے مہیا فرما دی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسانی ضروریات کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دی ہیں اور کسی ضرورت کو ادھورا نہیں چھوڑا البتہ ان تک رسائی اور ان کے حصول کے لیے اسباب کا واسطہ بنا دیا اور حکم دیا کہ اسباب کے درجے میں محنت کر کے اپنی ضروریات کی چیزیں حاصل کر لو۔

سورہ حٰم السجدۃ آیت ۱۰میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں بنایا اور پھر دو دن میں اس میں خوراک کے ذخیرے ودیعت کیے۔ اس سے آگے ایک جملہ ہے: سواء للسائلین۔حضرت حسن بصریؒ ، امام ابن جریر طبریؒ اور بعض دیگر مفسرین کرام اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھے گئے خوراک کے ذخیرے ’’ضرورت مندوں کی ضرورت کے مطابق ہیں‘‘ یعنی زمین کی پشت پر جتنی آبادی ہوگی، زمین کے پیٹ میں اس کی ضرورت کے مطابق خوراک موجود رہے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے نہ صرف جانداروں کی خوراک کی ذمہ داری اٹھائی ہے بلکہ خوراک کے ضرورت مندوں کی تعداد اور خوراک کے ذخائر کی مقدار کے درمیان توازن قائم رکھنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے اور یہ بات ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بات کا وعدہ کریں اور اسے اپنی ذمہ داری ٹھہرا لیں اور پھر نعوذ باللہ اس سے غافل ہو جائیں۔

اس لیے مسئلہ انسانی آبادی میں اضافے کی رفتار اور زمین میں خوراک کے ذخائر کی مقدار میں توازن کا نہیں ہے کیونکہ اس توازن کو قائم رکھنے اور ہر ضرورت مند کی ضرورت کے مطابق خوراک او ر دیگر ضروریات مہیا کرنے کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے۔ مسئلہ اس سے آگے ہے جو اسباب سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں دو پہلو قابلِ توجہ ہیں: ایک یہ کہ زمین میں موجود خوراک کے ذخائر تک رسائی کس طرح ہو اور دوسرا یہ کہ ان کی تقسیم کا کیا نظام ہو؟ کیونکہ یہ دو باتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذمے کی ہیں اور انہیں انسان کی عقل اور دیانت کی آزمائش ٹھہرایا ہے۔ گڑبڑ اسی مقام پر ہے اور ہمیں اس گڑبڑ کا ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے تاکہ خرابی کے اصل مقام کا تعین ہو اور اسے دور کرنے کے لیے صحیح سمت میں کوشش کی جا سکے۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی فلاحی مملکت میں ہر کنبے کو اس کی ضرورت کے مطابق وظیفہ دیا جاتا ہو اور پندرہ بیس افراد کے ایک کنبے کے سربراہ کو اتھارٹی دی جائے کہ وہ اپنے کنبے کے افراد کی ضروریات کے لیے اتنی رقم سرکاری خزانے سے لے سکتا ہے مگر وہ اپنے کنبے کی ضرورت کی رقم سرکاری خزانے سے وصول کرنے میں بے پروائی کرتا ہے یا وہاں سے وصول کر لیتا ہے اور متعلقہ لوگوں پر خرچ کرنے کے بجائے ذاتی عیش وعشرت پر ضائع کر دیتا ہے تو اس کنبے کے افراد کو خوراک ولباس اور دیگر ضروریات نہ ملنے کی ذمہ داری اس فلاحی ریاست پر نہیں ہوگی بلکہ کنبے کا سربراہ اس بات کا مجرم ہوگا کہ اس نے رقم وصول نہ کر کے یا وصولی کی صورت میں بے جا تعیش پر صرف کر کے اپنے کنبے کے افراد کو بھوک، ناداری اور غربت سے دوچار کر دیا ہے۔

اسی طرح آج اگر دنیا میں کروڑوں انسان بھوک اور فاقہ کا شکار ہیں اور بہت سے ممالک اپنے عوام کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے سے قاصر ہیں تو اس کا قصور وار وہ نظام اور سسٹم ہے جس نے انسانی برادری کی عالمی سطح پر چودھراہٹ سنبھال رکھی ہے اور جس نے خوراک کے ذخائر اور دنیا کے مالی وسائل پر اجارہ داری قائم کر کے ان کی تقسیم کے تمام اختیارات پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ دنیا کے مالی وسائل اور خوراک کے ذخائر پر چند ممالک کی اجارہ داری اور ان کی تقسیم کے ترجیحی نظام کا کرشمہ ہے کہ ایک طرف امریکہ اپنی پیدا کردہ گندم کا ایک بہت بڑا حصہ زائد از ضرورت قرار دے کر سمندر میں پھینک دیتا ہے اور برطانیہ میں مارکیٹ کی قیمتوں میں توازن رکھنے کے لیے کچھ زمینداروں کو گندم کاشت کرنے سے سرکاری طور پر روکا جاتا ہے اور دوسری طرف غریب ممالک میں لاکھوں انسان بھوک سے مر جاتے ہیں۔ ایک طرف امیروں کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف غریبوں کی غربت اس سے دگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ خود ہمارے ملک میں ایک طرف چند افراد اور خاندان ہیں جن کے کتے مکھن اور پنیر کھاتے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں غریب عوام ہیں جن کے بچوں کو دو وقت سادہ روٹی بھی میسر نہیں ہوتی۔ غربت کامسئلہ قومی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر، دونوں جگہ خرابی کا باعث تقسیم کا نظام ہے اور وہ خود غرض طبقات واقوام اس کے ذمہ دار ہیں جو اپنی عیاشی اور لگژری کے لیے غریب عوام وطبقات کا استحصال کر رہی ہیں اور کروڑوں بھوکے اور فاقہ کش انسانوں کے منہ سے نوالے چھین کر اپنی تجوریاں بھر رہی ہیں۔ تقسیم کے اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ زمین کے وسائل پر تمام انسانوں کایکساں حق تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ تعیش ولگژری اور غربت وفاقہ کی دونوں انتہاؤں کی نفی کرتے ہوئے ضروریات کی باوقار فراہمی کے معتدل اور متوازن اصول کو اپنانے کی ضرورت ہے اور ایک عدد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ضرورت ہے جو خلیفہ کی حیثیت سے وظائف تقسیم کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ازواج مطہرات اور اصحابِ بدر کو زیادہ وظیفہ دینے اور باقیوں کو کم دینے کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیں کہ ’’یہ معیشت کاشعبہ ہے۔ اس میں برابری کا اصول ترجیح کے اصول سے بہتر ہے۔‘‘

غربت وناداری پر قابو پانے اور فاقہ وافلاس کو ختم کر کے تمام انسانوں کو ضروریات زندگی سے بہرہ ور کرنے کے لیے دنیا کو اسی اصول پر واپس آنا ہوگا۔ اس کے بغیر دنیا میں معاشی توازن قائم کرنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

درجہ بندی: