سانحہ ساہیوال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

   
مجلہ: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۹ء

سانحۂ ساہیوال کے بعد جس سوال نے قوم کو سب سے زیادہ پریشان کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ کیا سرکاری اہل کاروں کو یہ کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ جسے چاہیں مشکوک سمجھ کر دہشت گرد قرار دیں اور پھر اسے گولیوں سے بھون کر رکھ دیں۔ جو لوگ اس سانحہ میں فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں ان میں سے ایک فیملی کو ابتدائی تحقیقات میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور ذیشان کے بارے میں ابھی تک صرف شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تھا، اس کے دہشت گرد ہونے کا کوئی ثبوت ابھی تک پیش نہیں کیا جا سکا۔ چنانچہ لاہور ہائیکورٹ نے اس سلسلہ میں دو رکنی بنچ تشکیل دے کر جوڈیشل تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جس کی رپورٹ کے بعد طے ہو گا کہ جسے دہشت گرد کہہ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے اس کا دہشت گردی کے ساتھ کتنا تعلق تھا؟ مگر سوال یہ ہے کہ بالفرض اگر وہ دہشت گرد بھی تھا اور کاروائی سے قبل اس کے دہشت گرد ہونے کا یقین ہو گیا تھا تو کیا اس طرح کھلے بندوں اسے دیگر پر امن شہریوں کے ہمراہ روڈ پر سفر کرتے ہوئے مار دینے کا کوئی قانونی، اخلاقی یا شرعی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

کہا جا رہا ہے کہ دہشت گرد کے ساتھ اگر کوئی اور کاروائی کی زد میں آجائے تو اسے اس کے ساتھ نشانہ بنانا مجبوری ہوتی ہے مگر کیا یہ بات حالت جنگ کی ہے یا پر امن حالات میں بھی یہ عذر قابل قبول ہوتا ہے؟ اگر اس کار کے مسافر مقابلہ پر آگئے تھے اور مورچہ زن ہو گئے تھے تو کسی حد تک یہ بات سمجھ میں آتی ہے، مگر وہ تو غیر مسلح تھے، مقابلہ کی بجائے جان بخشی کے لیے ہاتھ جوڑ رہے تھے، حتیٰ کہ جس ڈرائیور کو دہشت گرد کہہ کر اس ساری کاروائی کا جواز پیش کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے بیلٹ باندھا ہوا تھا اور خالی ہاتھ تھا۔ بہرحال یہ المناک کاروائی بہت سے تلخ سوالات سمیت اب عدالت کی میز پر ہے اور امید ہے کہ جلد ہی اس کے اصل حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے۔

ہمارے خیال میں اصل بات یہ ہے کہ جس ’’دہشت گردی‘‘ کے خاتمہ کے لیے بہت سے ادارے اس وقت متحرک ہیں خود اس کی کوئی واضح تعریف اور اتھارٹی ابھی تک طے نہیں پا سکی۔ عالمی سطح پر جب دہشت گردی کے خلاف طبل جنگ بجایا گیا تو اسی وقت یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ دہشت گردی کی کوئی واضح تعریف طے کر لی جائے اور کسی ملک یا قوم کو دہشت گرد قرار دینے کی کوئی مسلّمہ اتھارٹی تشکیل دی جائے، کیونکہ اس طرح محض دہشت گردی کے ٹائٹل کے ساتھ جنگ چھیڑ دینے سے دہشت گردی اور کسی قوم کی جنگ آزادی میں فرق باقی نہیں رہے گا اور بالادست قوتوں کو یہ اختیار خودبخود حاصل ہو جائے گا کہ وہ جسے چاہیں دہشت گرد قرار دیں اور اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیں۔ کہا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کو یہ اتھارٹی حاصل ہے مگر سوال یہ ہے کہ جس عالمی سسٹم میں صرف پانچ بالادست قوتوں کو یہ اختیار دے دیا گیا ہو کہ ان میں سے کوئی ایک بھی جس فیصلے کو مسترد کر دے اسے پوری اقوام متحدہ اور عالمی رائے عامہ کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا، تو اس طرح کے سسٹم میں بین الاقوامی مسلمات، اکثریتی فیصلوں، عالمی رائے عامہ اور اقوام و ممالک کی آزادانہ رائے کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود اس اقوام متحدہ کے فورم پر بھی دہشت گردی کی تعریف طے کرنے اور قوموں کی جائز جدوجہد آزادی کو اس سے الگ کرنے کا کوئی تکلف گوارا نہیں کیا گیا اور ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے محاورہ کے مطابق قوت و طاقت اور بالادستی کو ہی قانون اور اتھارٹی کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عالمی فریم ورک ہے جس کے سائے بلکہ دائرے میں ہم بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہیں، چنانچہ جس طرح عالمی سطح پر تمام تر اختیارات طاقتور اور بالادست قوتوں کے ہاتھ میں ہیں اسی طرح ان کے فریم ورک میں کام کرنے والے اداروں کی بھی، وہ جہاں بھی ہوں اور جس ٹائٹل کے ساتھ ہوں، یہی صورتحال ہے۔ اور اگر دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا زمینی حقائق کی بنیاد پر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو ’’سانحۂ ساہیوال‘‘ طرز کے بہت سے سانحات ادھر ادھر بکھرے ہوئے موجود ملیں گے۔

جہاں تک قومی پالیسی کا مسئلہ ہے، ہم صرف ایک بات کی طرف توجہ دلانے کی جسارت کریں گے کہ ۲۰۰۸ء کے دوران پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لے کر ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ طے کیا تھا کہ:

’’دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے کر قومی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی، نیز عسکریت اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات پہلی ترجیح ہوں گے۔‘‘

مگر قوم گزشتہ دس برس سے انتظار میں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کا ازسرِنو جائزہ کب لیا جائے گا اور ملک میں عسکریت اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کا ڈول کب ڈالا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک خطاب میں نعرہ لگایا تھا کہ اب ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، اس لیے عوام منتظر ہیں کہ موجودہ جنگ سے نکلنے کے لیے پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟ سانحۂ ساہیوال بھی اسی جنگ کا شاخسانہ ہے، کیا ہمارے حکمران اپنی ہی منتخب پارلیمنٹ کے دس سال قبل کے اس متفقہ فیصلے کو ایک بار پھر پڑھ لینے کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟