دینی مدارس میں تعلیمی سلسلہ کا آغاز

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جون ۲۰۲۰ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی دعوت پر تین جون کو اسلام آباد میں وفاق کی ایک خصوصی مشاورتی نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ اسلام آباد پہنچتے ہی مولانا عمران جاوید سندھو نے فون پر خوشخبری سنائی کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معاملات میں مولانا عبد العزیز اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پا گیا ہے جس میں مولانا محمد احمد لدھیانوی کے ساتھ انہوں نے بھی رابطہ کار کے طور پر خدمات سرانجام دی ہیں۔ بہت خوشی ہوئی، اللہ تعالٰی خیر و خوبی کے ساتھ اس سمجھوتے کو تکمیل تک پہنچائیں، آمین یا رب العالمین۔

وفاق المدارس العربیہ کے اجلاس کی کارروائی مختلف اخبارات میں شائع ہو چکی ہے، البتہ وفاق کے میڈیا سنٹر کی طرف سے جاری کردہ مکمل خبر کو ہم کالم کا حصہ بنا رہے ہیں:

’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ایک اہم اجلاس جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا محمد حنیف جالندھری کی صدارت میں وفاق ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں رکن مجلس عاملہ وفاق المدارس مولانا ڈاکٹر عادل خان جامعہ فاروقیہ کراچی، ناظم پنجاب مولانا قاضی عبد الرشید، ناظم صوبہ خیبر پختونخواہ مولانا حسین احمد، ناظم کشمیر مولانا سعید یوسف، مولانا زاہد الراشدی، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا نذیر محمد فاروقی، مولانا مفتی اویس عزیز اور مولانا عبد القدوس محمدی نے شرکت کی۔ اجلاس کے آخر میں جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ اجلاس ملک بھر کے دینی مدارس میں وفاق المدارس کی ہدایات کے مطابق داخلوں کے آغاز پر اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور تمام دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ کو پیغام دیتا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کی مکمل پابندی کرتے ہوئے سارے تعلیمی مراحل کو منظم کریں اور آگے بڑھائیں۔ ایس اوپیز (SOP سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) کے سلسلہ میں ممتاز علماء کرام اور ڈاکٹر صاحبان کی مشاورت سے جو خاکہ بنایا گیا ہے، یہ اجلاس اس کو اصولی طور پر مناسب خیال کرتا ہے اور اس کی پابندی کو ضروری سمجھتا ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ یہ اجلاس تجویز کرتا ہے کہ شوال کے دوسرے عشرے یعنی جون کے دوسرے ہفتے میں حفظ قرآن کریم کے سلسلے کا مرحلہ وار آغاز کر دیا جائے اور ذیقعدہ کے پہلے عشرے یعنی جون کے آخر یا جولائی کے آغاز میں شعبہ کتب کی تعلیم کا آغاز کر دیا جائے۔ اجلاس کے دوران سالانہ امتحانات کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا جن کا حتمی فیصلہ اور اعلان وفاق المدارس کی مجلس عاملہ اور امتحانی کمیٹی کے آئندہ چند دنوں میں کر دے گی۔ اجلاس کے دوران امیر المومنین سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ اور ان کی اہلیہ کے مزار کی بے حرمتی پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس پر سرکاری اور حکومتی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔ وفاق المدارس کے رہنماؤں نے جمعہ ۵ جون کو ’’یوم عمر بن عبد العزیزؒ‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ملک بھر کی مساجد کے ائمہ و خطباء سیدنا عمر بن عبد العزیز کے کردار و خدمات پر روشنی ڈالیں گے اور قبور کی بے حرمتی کے واقعات کی پرزور مذمت کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری، مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا عبید الرحمان ضیاء، مولانا ڈاکٹر احمد خان، مولانا سعید احمد تنویر اور دیگر مسافرانِ آخرت کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔‘‘

رات کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ وفاق کے راہنماؤں کی ملاقات کا پروگرام تھا، انہوں نے پرتکلف کھانے سے نوازا اور نصف شب تک ان کی رہائشگاہ پر مختلف معاملات کے حوالہ سے گفتگو اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہا جس میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری اور پارلیمانی لیڈر مفتی اسعد محمود بھی شریک تھے۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے مجھ پر یہ نوازش کی کہ جمعیۃ علماء اسلام کے بارے میں خصوصی طور پر تیار کردہ ایک ’’یادگاری کتبہ‘‘ یہ کہہ کر دیا کہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ آپ کی مسلسل وابستگی کے باعث یہ آپ کو دے رہا ہوں۔ میں بحمد اللہ تعالٰی ۱۹۶۲ء سے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا مسلسل رکن چلا آرہا ہوں اور اسی کے پرچم کے سائے میں دنیا سے رخصت ہونے کی خواہش رکھتا ہوں، اللہ تعالٰی اس عزت افزائی پر مولانا موصوف کو جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ دورانِ گفتگو وفاق المدارس کے اجلاس کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز پر بھی تبادلہ خیالات ہوا اور مولانا فضل الرحمان نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے بعض مفید مشوروں اور تجاویز سے نوازا۔

وفاق المدارس کے اجلاس میں جو امور زیر بحث آئے وہ کم و بیش مذکورہ بالا پریس ریلیز میں شامل ہیں، البتہ ایک دو باتوں کی طرف میں بھی توجہ دلانا چاہوں گا۔

ایک یہ کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان نے کرونا بحران کے دوران تعلیمی اداروں کے لیے اقوام متحدہ کے تعلیم و صحت کے اداروں یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کی رپورٹوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان میں سب سے زیادہ مجالس میں باہمی فاصلہ اور صفائی و طہارت کے معاملات پر زور دیا گیا ہے اور ہم عالمی اداروں کی ان ہدایات کے دائرے میں اور ان کی پابندی کرتے ہوئے دینی مدارس میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کراچی کے بعض ڈاکٹر صاحبان کی طرف سے دینی مدارس کے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے مرتب کردہ ایس او پیز پیش کیے جو بہت مناسب ہیں، ان کی روشنی میں دینی مدارس میں تعلیمی سلسلہ کو بتدریج آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور تعلیمی تعطل کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ وفاق المدارس کے اجلاس میں یہی تجویز کیا گیا ہے کہ حفظ قرآن کریم کی کلاسیں فوری طور پر شروع کر دی جائیں، اس کے ساتھ گزشتہ سال موخر ہونے والے امتحانات کے انعقاد کی جلد از جلد ترتیب بنائی جائے، اور اس کے بعد کوشش کی جائے کہ ذیقعدہ کے دوران ہی درس نظامی کی کلاسوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جائے۔ البتہ اس بات کا پورا اہتمام کیا جائے کہ یہ سب کچھ بین الاقوامی اداروں کی ہدایات اور سینئر ڈاکٹر صاحبان کی مشاورت میں طے کردہ ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ ہو اور عملدرآمد کی ہر ممکن نگرانی کی جائے۔ مشاورت میں یہ بات بھی آئی کہ دیگر مسالک کے وفاقوں بالخصوص اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت کے ساتھ بھرپور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور سب دوستوں کو اعتماد میں لے کر حتمی فیصلے کیے جائیں۔

وفاق المدارس کی ہدایات کے مطابق ملک بھر کے دینی مدارس میں داخلوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب ایک قدم اور آگے بڑھانے سے بحمد اللہ تعالٰی تعلیمی کام بھی شروع ہونے جا رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس تدریجی حکمت عملی سے نہ صرف دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کو حوصلہ و اعتماد ملا ہے بلکہ ان تعلیمی نقصانات کا دائرہ بھی سکڑتا دکھائی دے رہا ہے جن کا خطرہ مسلسل تعلیمی تعطل کی وجہ سے بڑھتا نظر آ رہا تھا۔

دینی مدارس کے مالیاتی نظام کی صورتحال بھی زیربحث آئی کہ رجب، شعبان اور رمضان المبارک مکمل طور پر کرونا بحران کے باعث لاک ڈاؤن کے ماحول میں گزرے ہیں جو دینی مدرس کے لیے زکوٰۃ، صدقات، عطیات، صدقہ فطر، اور اس سال عشر کی وصولی کا بھی دورانیہ تھا، جبکہ بہت سے دینی مدارس کے پورے سال کے بجٹ کا مدار اسی پر ہوتا ہے جبکہ اس سال یہ سب معاملات تعطل کا شکار رہے ہیں۔ اس لیے اصحاب خیر اور مدارس کے معاونین کو اس طرف خصوصی توجہ دینا ہو گی تاکہ دینی ادارے یہ سال اطمینان اور اعتماد کے ساتھ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

۴ جون کو اسلام آباد سے واپسی ہوئی تو راستہ میں مولانا اللہ وسایا اور جناب حاجی عبد اللطیف چیمہ نے فون پر یہ خوشخبری دی کہ قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں جو رٹ دائر کی گئی تھی اور جس پر ملک بھر کے دینی کارکنوں کو تشویش لاحق تھی وہ آج سماعت کے دوران خارج کر دی گئی ہے، الحمد للہ تعالٰی، ان سرگرمیوں کے بعد ہم ظہر تک گوجرانوالہ واپس آ گئے۔