شرعی عدالتوں کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ و ۱۱ جنوری ۲۰۰۹ء

۱۹۷۵ء کے دوران جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے ملک بھر میں شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان اور اس کی اصولی وضاحت کے حوالہ سے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے ایک مضمون کے اقتباسات گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ آج اس سلسلہ میں ۲۸ و ۲۹ مارچ ۱۹۷۶ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہونے والے دو روزہ کنونشن کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ۹ اپریل ۱۹۷۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔

’’جمعیۃ علماء اسلام کے زیراہتمام شرعی عدالتوں کے قاضیوں کا دو روزہ کنونشن گزشتہ روز مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہوا جس میں مرکزی قاضی القضاۃ مولانا مفتی محمود، قاضی مولانا عبد الکریم بیر شریف، قاضی مولانا محمد سرفراز خان صفدر گوجرانوالہ، صوبہ پنجاب کے قاضی القضاۃ مولانا مفتی محمد عبد اللہ ملتان، قاضی مولانا عبد القیوم گوجرانوالہ، قاضی مولانا عبد القدیر لائلپور، صوبہ سندھ کے قاضی القضاۃ مولانا احمد الرحمان کراچی، قاضی مولانا قطب الدین صاحب ہالیجی شریف، صوبہ سرحد کے قاضی القضاۃ مولانا سید محمد ایوب جان بنوری پشاور، صوبہ بلوچستان کے قاضی القضاۃ مولانا عبد الغفور کوئٹہ اور قاضی مولانا ابوبکر خضدار کے علاوہ چاروں صوبوں سے ضلعی قضاۃ نے شرکت کی۔ اور عدالت عالیہ شرعیہ پنجاب کی خصوصی دعوت پر آزادکشمیر کے ممتاز عالم دین مولانا مفتی عبد المتین سابق قاضی ضلع پونچھ، پنجاب ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب سید ریاض الحسن گیلانی، جناب قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ، جناب چوہدری قادر بخش ایڈووکیٹ اور جناب رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ بھی کنونشن میں شریک ہوئے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت مرکزی قاضی مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اور باقی نشستوں کی صدارت قاضی القضاۃ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے فرمائی۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی محمود نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء اسلام نے شرعی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ مجبورًا کیا ہے۔ کیونکہ اٹھائیس سال سے ہم انتظار کر رہے تھے کہ قیامِ پاکستان کے مقصد کو پورا کرتے ہوئے یہاں شرعی قوانین عمل میں لائے جائیں گے لیکن یہاں عوام، علماء اور تمام طبقوں کی دلی خواہش کے باوجود ایک اقلیتی گروہ ملک میں فرنگی نظام کو نافذ رکھے ہوئے ہے۔ اور وہ گروہ اسلام کے عادلانہ نظام و قوانین میں صرف اس لیے رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے کہ اسلامی قوانین کے اجراء سے خود اس طبقہ کے مفادات خطرہ میں پڑ جائیں گے۔ لیکن ہم اب زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتے اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک مروجہ عدالتوں میں شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہیں آتا ہم اپنے طور پر شرعی عدالتوں کا نظام قائم کریں گے اور جہاں تک ہمارے بس میں ہوا شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لائیں گے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ حکومت مسلسل ٹال مٹول سے کام لے کر اسلامی قوانین پر عملدرآمد کو مؤخر کر رہی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کے بارے میں جو سوالنامہ جاری کیا ہے وہ ٹال مٹول کی اس پالیسی کا حصہ ہے۔ ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب حکومت کو اپنی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کوئی بل منظور کرانا چاہتی ہے تو اپوزیشن کے جائز اعتراضات کی بھی پروا نہیں کرتی بلکہ اپوزیشن کے ارکان کو جبرًا باہر دھکیل کر تئیس منٹ میں آئین میں ترمیم کا بل منظور کروا لیتی ہے لیکن اسلام کے معاملات میں ٹال مٹول اور سوالناموں کا سہارا لیتی ہے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ دراصل بعض ملحد عناصر سود کی تجارتی و غیر تجارتی تقسیم کر کے بینکوں کے سود کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکن ہے بعض فتویٰ فروش قسم کے لوگ حکومت کی اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کریں لیکن علماء حق اس قسم کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مفتی صاحب نے تمام قضاۃ کو تلقین کی ہے کہ وہ بزرگانِ دین اور اسلاف کرام کے مقدس طرزِ عمل کو سامنے رکھیں اور منصب قضاء کی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں تاکہ ان کا کردار اور قوت فیصلہ ملک میں اسلامی قوانین کی ترویج اور علماء کی نیک نامی کا باعث بنے۔

پنجاب ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب سید ریاض الحسن گیلانی نے کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلہ کو سراہا اور کہا کہ علماء کرام نے یہ تاریخی فیصلہ کر کے ایک اہم ملی فریضہ کی تکمیل کی طرف قدم اٹھایا ہے اور ہم سب اس فرض کی ادائیگی میں آپ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فرنگی زدہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلامی قوانین پر آج عمل نہیں ہو سکتا کیونکہ ترقی کا دور ہے، آج ہوائی جہاز اور ایٹم بم کا زمانہ ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ جب ہندوستان میں فتاویٰ عالمگیری کو منسوخ کر کے فرنگی قوانین کو نافذ کیا گیا تھا کیا اس وقت ترقی کی موجودہ شکل تھی؟ کیا اس لحاظ سے موجودہ قوانین بھی غیر ترقی یافتہ دور کی علامت نہیں جو ترقی یافتہ دور میں چل رہے ہیں؟ اگر فرنگی قوانین ترقی کے باوجود اب تک چل رہے ہیں تو اسلامی قوانین پر عملدرآمد میں کیا رکاوٹ ہے؟

گیلانی صاحب نے کہا کہ اسلامی قوانین ہی دنیا میں سب سے برتر قوانین ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر نہ کوئی دانشمند ہے نہ مدبر، نہ کوئی انسانی مسائل کو جاننے والا ہے اور نہ حل کرنے والا۔ اس لیے خدائی قوانین کے مقابلے میں دنیا کے سارے قوانین ہیچ ہیں اور اسلامی قوانین کا نظام ہی ملک میں اصلاح و فلاح کا ضامن ہو سکتا ہے۔

گیلانی صاحب نے کہا کہ آج اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی ہے تاکہ فرنگی قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے، میں پوچھتا ہوں کہ جب انگریز نے فتاویٰ عالمگیری کی جگہ اپنے قوانین نافذ کیے تھے تو کونسی نظریاتی کونسل قائم کی تھی؟ اس نے تو فتاویٰ عالمگیری کو یکسر منسوخ کر کے اپنے پورے قانونی نظام کو لاگو کر دیا تھا۔ اسلام کو کفر کے سانچے میں یا کفر کو اسلام کے سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا کیونکہ اسلام اور کفر ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ان میں کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔

گیلانی صاحب نے کہا کہ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ اسلامی قوانین کی ترتیب و تدوین میں وقت لگے گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بات بھی غلط ہے، ہمارے پاس عظیم الشان فقہی ذخیرہ کی صورت میں اسلامی قوانین مرتب و مدون موجود ہیں، ہمارے پاس ہدایہ ہے، مبسوط ہے، عالمگیری ہے اور دوسری کتابیں ہیں جن میں اسلامی قوانین پوری طرح مدون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی قوانین پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اس کے لیے کسی کے حکم کی ضرورت نہیں۔ جس طرح نماز پڑھنے کے لیے کسی کا حکم درکار نہیں اسی طرح اسلامی قوانین کے لیے بھی کسی کا حکم درکار نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں، اس لیے ہم اسلامی قوانین پر عمل کے پابند ہیں اور ہمیں اس فرض کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔

گیلانی صاحب نے کہا کہ اس سے قبل بھی مسلمان علاقوں پر غیر مسلموں نے قبضہ کیا تھا لیکن مسلمانوں کے فیصلے کبھی کافر قوم کے قوانین کے مطابق نہیں ہوتے تھے بلکہ مسلمانوں نے ہر دور میں، خواہ غلبے کا ہو یا غلامی کا، قرآن و سنت کے قوانین کے مطابق ہی اپنے فیصلے کیے ہیں۔ صرف انگریز کے دور میں مسلمانوں کو اس قدر پابند کر دیا گیا کہ ان کے فیصلے قرآن و سنت کے بجائے فرنگی قوانین کے تحت ہونے لگے اور آج فرنگی کے چلے جانے کے باوجود فرنگی زدہ افراد کی وجہ سے یہ کافرانہ قوانین ہم پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے وقت کی اس ضرورت کا احساس کیا ہے اور شرعی قوانین کے نفاذ کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ آپ کا فیصلہ بہت پیارا، بروقت اور قابل تحسین ہے اور اس سلسلے میں آپ کو ہمارا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔

کنونشن سے مولانا محمد ایوب جان بنوری، مولانا مفتی احمد الرحمان، مولانا مفتی محمد عبد اللہ، مولانا عبد الحئی، قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ، چوہدری خدا بخش ایڈووکیٹ اور جناب رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

کنونشن میں مولانا محمد ایوب جان بنوری، مولانا مفتی محمد عبد اللہ، مولانا احمد الرحمان، مولانا مفتی عبد المتین، مولانا محمد انور شاہ، سید ریاض الحسن گیلانی، جناب قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ اور جناب قادر بخش ایڈووکیٹ پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جس نے طریق کار کا خاکہ تجویز کر کے دوسری نشست میں پیش کیا جو بعض ترمیمات کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔‘‘

عدالتی نظام کا یہ خاکہ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شورٰی اور مرکزی مجلس عامہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ طور پر پیش کیا گیا اور ان کی منظوری کے بعد ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ۲۴ دسمبر ۱۹۷۶ء کے شمارے میں شائع ہوا اور اسے جمعیۃ علماء اسلام کے دستور کے ساتھ اس کے ضمیمہ کے طور پر بھی شائع کیا گیا ہے، یہ خاکہ درج ذیل ہے:

حیثیت و نوعیت

واضح رہے کہ اہل اسلام و اہل دین، جو اپنے تنازعات اور جھگڑوں کو اسلامی اور شرعی نقطۂ نظر سے طے کرانا چاہتے ہیں، ہر دو فریق اپنی مرضی سے عدالت شرعیہ کو حکم اور ثالت تسلیم کریں گے۔ اور تحریری طور پر حسب ضابطہ ثالثی نامہ شرعی عدالت میں پیش کریں گے جس میں یہ ذکر ہوگا کہ شریعت کا فیصلہ ہمیں بہرصورت منظور رہے گا۔ اس کے بعد شرعی عدالتیں ان تنازعات و مقدمات کو فیصلہ کے لیے قبول کریں گی۔

عدالت شرعیہ کا وجود صرف عامۃ المسلمین کے باہمی اختلافات اور تنازعات کے ختم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ وہ مقدمات جن میں سرکار فریق نہ ہو اور فریقین قانونی طور پر اپنی مرضی سے ان مقدمات کو سرکاری عدالت یا ثالث یا کسی عالم دین کے پاس پیش کر سکتے ہوں، ایسے مقدمات عدالت ہائے شرعیہ میں زیر سماعت لائے جائیں گے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

  1. وراثت اور اس کے متعلقات مثلاً حرمان وصیت وغیرہ۔
  2. نکاح، انعقادِ نکاح، کفو، اولیا، رضاعت، حرمت مصاہرت، طلاق، ظہار، عدت، حق حضانت، نسب وغیرہ۔
  3. قبور المسلمین کے شرعی نظم وغیرہ۔
  4. رویت ہلال سے متعلق امور و مناقشات۔
  5. بیع و شرا، اجارہ، شفع، مزارعت وغیرہ۔
  6. وقف، ہبہ اور اس کے متعلقات وغیرہ۔

عدالتوں اور عہدہ داروں کے نام

مرکزی عدالت عدالت عظمیٰ شرعیہ پاکستان
صوبائی عدالت عدالت عالیہ شرعیہ پاکستان
ضلعی عدالت عدالت شرعیہ
مرکزی عدالت کا سربراہ قاضی القضاۃ عدالت عظمیٰ شرعیہ پاکستان
صوبائی عدالت کا سربراہ قاضی القضاۃ عدالت عالیہ شرعیہ صوبہ
ضلعی عدالت کا سربراہ قاضی عدالت شرعیہ ضلع
ضلعی عدالت کا رکن نائب قاضی عدالت شرعیہ ضلع
عدالت کا منتظم مدیر عدالت

شرعی عدالت کے مراکز

عدالت عظمیٰ شرعیہ پاکستان مدرسہ قاسم العلوم، شیرانوالہ گیٹ لاہور
عدالت عالیہ شرعیہ پنجاب مدرسہ قاسم العلوم، شیرانوالہ گیٹ لاہور
عدالت عالیہ شرعیہ سرحد دفتر جمعیۃ علماء اسلام، سرکی روڈ پشاور
عدالت عالیہ شرعیہ بلوچستان مدرسہ مظہر العلوم، شالدرہ کوئٹہ
عدالت عالیہ شرعیہ سندھ بعد میں اعلان کیا جائے گا

مقدمہ کی وصولی اور فیصلہ

اگر کوئی شخص اپنا مقدمہ عدالت شرعیہ میں پیش کرنا چاہے تو سب سے پہلے مقدمہ کے کوائف اور درخواست معہ ایک زائد نقل ضلعی عدالت شرعیہ کے مدیر کو پیش کرے گا۔

مدیر عدالت اس درخواست کو اصل ریکارڈ میں محفوظ کرے گا اور اس کی نقل عدالتی چٹھی کے ساتھ مدعا علیہ کو ارسال کرے گا کہ اگر وہ اس مقدمہ کا فیصلہ عدالت شرعیہ سے کرانے پر رضامند ہو تو اس کی تحریری اطلاع دے۔

مدعا علیہ کا مثبت جواب موصول ہونے کے بعد مدیرِ عدالت فریقین کو طلب کر کے ان سے حسب ضابطہ ثالثی نامہ بحق عدالت شرعیہ تحریر کرائے گا تاکہ فیصلہ مروجہ قانون کے تحت بھی مسلمہ ہو جائے۔

ثالثی نامہ پر فریقین کے دستخط ہو جانے کے بعد کیفیت مقدمہ مکمل ہو جائے گی اور عدالت شرعیہ سماعت شروع کر دے گی۔

قاضی صاحب کے پاس باضابطہ مقدمہ آجانے کے بعد قاضی صاحب فریقین کو کسی تاریخ پر طلب کریں گے اور فریقین کے بیانات لے کر شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ تحریری طور پر صادر کریں گے۔

مدیرِ عدالت مقدمہ کے ریکارڈ کی حفاظت کے علاوہ فریقین سے رابطہ اور فیصلوں کی مناسب تشہیر کا بھی اہتمام کریں گے۔

مدیر عدالت

ہر سطح پر ایک مستقل مدیر عدالت کا تقرر ہوگا جس کے ذمہ دفتری امور، درخواستوں کی وصولی، مقدمات کی تحریر، ریکارڈ کی حفاظت اور فیصلوں کی مناسب تشہیر ہوگی۔

اجلاس

عدالت عظمیٰ شرعیہ کا انتظامی اجلاس سال میں کم از کم دو دفعہ اور عدالت عالیہ شرعیہ کا اجلاس تین ماہ میں ایک دفعہ ضروری ہے جس میں گزشتہ کارروائی کا جائزہ لینے کے علاوہ درپیش ہونے والے مسائل کا حل تجویز کیا جائے گا اور آئندہ پروگرام کا تعین کیا جائے گا۔ مقدمات کی سماعت کے لیے ہنگامی اجلاس قاضی القضاۃ کسی وقت بھی طلب کر سکتے ہیں۔

رپورٹ

ہر ماتحت عدالت مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کی رپورٹ ہر تین ماہ بعد گوشوارہ کی صورت میں بالائی عدالت کو ارسال کرے گی۔

مقامِ سماعت

ہر سطح پر مقدمات کی سماعت معروف مقامات میں کی جائے گی۔

اپیل

فریقین کو ضلعی عدالت کے فیصلے کے خلاف صوبائی عدالت میں، جبکہ صوبائی عدالت کے فیصلے کے خلاف مرکزی عدالت میں اپیل کا حق ہوگا۔

اخراجات

کسی سطح پر مقدمہ کی کوئی فیس کسی فریق سے وصول نہیں کی جائے گی اور ہر سطح پر عدالت شرعیہ کے جملہ اخراجات اسی سطح کی جمعیۃ علماء اسلام کے ذمہ ہوں گے۔‘‘

یہ وہ خاکہ ہے جو جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شورٰی نے پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے لیے تجویز کیا تھا اور مختلف اضلاع میں شرعی عدالتوں نے مقدمات کی سماعت کا کام باقاعدہ طور پر شروع بھی کر دیا تھا لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی، جس کے اسباب میں مندرجہ ذیل امور بطور خاص قابل ذکر ہیں:

  • نظام شریعت کنونشن کے بعد حکومت نے انتقامی طور پر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور اس کی جامع مسجد نور کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس کے خلاف مزاحمتی تحریک چلانا پڑی اور سینکڑوں علماء کرام اور کارکنوں کے علاوہ راقم الحروف بھی کم و بیش چار ماہ جیل میں رہا، اس طرح ایک سال ہمارا اسی مصروفیت میں گزر گیا۔
  • ہم ابھی طریق کار کے تعین اور انتظامات کے مراحل میں تھے کہ ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ تشکیل پا گیا جس کی قیادت قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمودؒ کر رہے تھے۔ پہلے عام انتخابات کی مہم اور اس کے بعد نظامِ مصطفٰیؐ کے عنوان سے اجتماعی تحریک کی مسلسل اور ہنگامہ خیز مصروفیت نے اس طرف توجہ مبذول نہ ہونے دی۔
  • ۱۹۷۷ء میں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے برسر اقتدار آتے ہی ملک میں نظام شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دیا اور پاکستان قومی اتحاد اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ حکومت میں شامل ہوگیا۔ چنانچہ سرکاری سطح پر نفاذ شریعت کی ان کوششوں کی وجہ سے پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کا مسئلہ کھٹائی میں پڑ گیا۔
  • عوامی سطح پر ان پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے لیے کوئی مہم نہ چلائی جا سکی جس سے عام لوگوں میں ان عدالتوں کی ضرورت و اہمیت کا احساس اجاگر ہوتا، وغیر ذٰلک۔