قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
جامع مسجد، برمنگھم، برطانیہ
تاریخ اشاعت: 
۱۶ اگست ۱۹۹۲ء

(عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مرکزی جامع مسجد، برمنگھم، برطانیہ میں ۱۶ اگست ۱۹۹۲ء کو منعقد ہونے والی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس سے مولانا زاہد الراشدی کے خطاب کی تحریری شکل۔)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ مجھے تھوڑے سے وقت میں صرف ایک پہلو پر کچھ گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنی ہیں، دعا کریں اللہ تعالیٰ مقصد کی باتیں کہنے کی توفیق دیں اور دین حق کی جو بات علم اور سمجھ میں آئے اس پر عمل کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائیں۔

قادیانی گروہ کی سرپرست لابیوں اور ویسٹرن میڈیا کی طرف سے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ایک الزام پاکستان کے مسلمانوں پر، پاکستان کی حکومت پر اور پاکستان کے دستوری اور قانونی ڈھانچے پر پورے شدومد کے ساتھ دنیا بھر میں دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیے گئے ہیں، ان کے شہری حقوق معطل ہو گئے ہیں اور قادیانیوں کے ہیومن رائٹس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ابھی حال میں اسی ماہ کے آغاز میں برطانیہ میں ٹل فورڈ کے مقام پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی ہے اور اپنی تقریر میں انسانی حقوق کے حوالہ سے قادیانیوں کی نام نہاد مظلومیت کا ذکر کیا ہے، پاکستان سے ان کی جلاوطنی کا ذکر کیا ہے اور انسانی حقوق کی دہائی دی ہے۔ یہی وہ الزام ہے جس بنیاد پر مغربی ممالک اسلام دشمن عناصر اور ویسٹرن میڈیا قادیانی گروہ کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے۔ اس لیے آج میں یہ چاہتا ہوں کہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے کون سے انسانی حقوق پامال ہوئے ہیں اور ان کے ہیومن رائٹس پر کیا زد پڑی ہے؟ جذبات سے ہٹ کر منطق اور استدلال کے ساتھ اس مسئلہ کا تھوڑے سے وقت میں تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ہے کہ قادیانی مسلم تنازعہ کی اصل بنیاد کو تلاش کیا جائے کہ بنیادی جھگڑا کیا ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے نئی نبوت اور نئی وحی کے ساتھ اپنے لیے نئے مذہب کا انتخاب کیا ہے اور مسلمانوں سے اپنا مذہب الگ کر لیا ہے۔ یہ بات مسلّمات میں شامل ہے کہ نئی نبوت اور نئی وحی کے ساتھ مذہب بھی الگ ہو جاتا ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر صرف ایک حوالہ سے بات عرض کروں گا۔ آپ کے اس برطانوی معاشرہ میں یہودی اور عیسائی دونوں رہتے ہیں۔ تورات پر یہودی اور عیسائی دونوں ایمان رکھتے ہیں اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو بھی دونوں اللہ تعالٰی کا رسول مانتے ہیں۔ حضرت موسٰیؑ اور تورات پر دونوں متفق ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں کا مذہب ایک نہیں ہے بلکہ دونوں الگ الگ مذہب کے پیروکار ہیں، اس لیے کہ عیسائی حضرت موسٰیؑ اور تورات پر ایمان رکھنے کے باوجود ایک نئے نبی اور نئی وحی کو تسلیم کرتے ہیں، جن پر یہودیوں کا ایمان نہیں ہے۔ عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام اور انجیل کو بھی مانتے ہیں جن پر یہودیوں کا ایمان نہیں ہے، اس لیے عیسائیوں کا مذہب یہودیوں سے الگ ہوگیا اور دونوں الگ الگ مذہب کے پیروکار ہیں۔

اسی طرح مسلم قادیانی تنازعہ میں بھی یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا مذہب ایک نہیں ہے بلکہ دونوں الگ الگ مذہب کے پیروکار ہیں۔ اس حقیقت کو قادیانی گروہ بھی تسلیم کرتا ہے اور تاریخ کے ریکارڈ میں اس کی متعدد دستاویزی شہادتیں موجود ہیں جن میں سے بعض کا میں اس وقت ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

  1. جب پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہو رہی تھی، پنجاب کی تقسیم کے لیے ریڈکلف کمیشن بنا تھا، پنجاب کو اس بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ پاکستان میں شامل ہوں گے اور جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں وہ بھارت کا حصہ ہوں گے۔ گورداسپور کا علاقہ جہاں قادیان واقع ہے، اس علاقہ کی صورتحال یہ تھی کہ اگر قادیانی آبادی خود کو مسلمانوں میں شامل کراتی تو یہ خطہ زمین پاکستان کے حصہ میں آتا، اور اگر قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ شمار ہوتا تو گورداسپور کا علاقہ بھارت کے پاس چلا جاتا۔ اس وقت قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے، جو مرزا غلام احمد قادیانی کا فرزند اور مرزا طاہر احمد کا باپ تھا، اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کر کے یہ فیصلہ تاریخ میں ریکارڈ کروایا کہ قادیانی خود کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ چودھری ظفر اللہ خان نے مرزا بشیر الدین محمود کی ہدایت پر قادیانیوں کی فائل مسلمانوں سے الگ ریڈکلف کمیشن کے سامنے پیش کی جس کی بنیاد پر گورداسپور غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار پایا اور بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں بھارت کو کشمیر کے لیے راستہ ملا اور اس نے کشمیر پر قبضہ کر لیا اور آج بھی لاکھوں کشمیری عوام بھارت کے تسلط اور وحشت و درندگی کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
  2. بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کا جنازہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ پڑھا رہے تھے، ملک بھر کے سرکردہ حضرات اور غیر ملکی سفراء جنازہ میں شریک تھے۔ حکومت پاکستان کا قادیانی وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خان بھی موجود تھا لیکن ملک کے گورنر جنرل کے جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور غیر مسلم سفیروں کے ساتھ الگ بیٹھا رہا۔ یہ بات قومی پریس کے ریکارڈ میں ہے کہ چودھری ظفر اللہ خان سے پوچھا گیا کہ آپ وزیرخارجہ ہیں لیکن جنازہ میں شریک نہیں ہوئے، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس پر ظفر اللہ خان نے کہا کہ ’’مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیرخارجہ سمجھ لیا جائے یا مسلمان حکومت کا کافر وزیرخارجہ‘‘۔ اس طرح چودھری ظفر اللہ خان نے بھی تاریخ میں اپنی یہ شہادت ریکارڈ کرائی کہ مسلمانوں کا مذہب الگ ہے اور قادیانی ان سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار ہیں۔
  3. ۱۹۷۴ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم پر بحث کر رہی تھی، اسمبلی نے یکطرفہ فیصلہ کرنے کی بجائے قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو اسمبلی کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا۔ قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے گیارہ روز تک اور لاہوری گروپ کے سربراہ مولوی صدر الدین نے دو روز تک اسمبلی کے سامنے اپنے موقف کی وضاحت کی، اور ان کا موقف پوری طرح سننے کے بعد اسمبلی نے اپنا فیصلہ صادر کیا۔ اس موقع پر مرزا ناصر احمد سے پوچھا گیا کہ وہ دنیا بھر کے ایک ارب کے لگ بھگ ان مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ مرزا ناصر احمد نے پہلے اس سوال کو گول کرنے کی کوشش کی لیکن بالآخر پارلیمنٹ کے فلور پر انہیں اپنے اس عقیدہ کا دوٹوک اظہار کرنا پڑا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لانے والے دنیا بھر کے ایک ارب کے لگ بھگ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح مرزا طاہر احمد کے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد نے بھی تاریخ کی عدالت میں اپنی یہ شہادت ریکارڈ کرائی کہ وہ قادیانیت کو مسلمانوں سے الگ مذہب قرار دیتے ہیں۔
  4. آج مرزا طاہر احمد دنیا بھر میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف واویلا کر رہا ہے لیکن میں مرزا طاہر احمد کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ایک شہادت تو خود تم نے بھی ریکارڈ کرائی ہے جو تازہ ترین شہادت ہے۔ ابھی حال ہی میں ٹل فورڈ میں قادیانیوں کا سالانہ اجتماع ہوا ہے۔ مسلمانوں کے اجتماعات ہوتے ہیں تو مہمان خصوصی امام کعبہ ہوتے ہیں، شیخ الازہر ہوتے ہیں، مسلم ممالک کے سفراء آتے ہیں اور دیگر مسلم شخصیات شریک ہوتی ہیں، ہماری اس ختم نبوت کانفرنس میں حضرت مولانا خان محمد تشریف فرما ہیں، پاکستان کے مفتی اعظم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی تشریف فرما ہیں، لیکن ٹل فورڈ کے قادیانی اجتماع میں مہمان خصوصی کون تھا؟ بھارت کا ہندو ہائی کمشنر اور ساؤتھ آل کونسل کا سکھ میئر۔ یہ بھی تاریخ کی شہادت ہے۔

حضرات محترم! جب یہ بات طے شدہ ہے کہ قادیانیوں کا مذہب مسلمانوں سے الگ ہے اور دونوں ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں تو ظاہر بات ہے کہ اسلام کا نام ان میں سے ایک ہی فریق استعمال کرے گا، دونوں استعمال نہیں کر سکتے۔ اسلام کا نام اور اس کے شعائر مثلاً کلمہ طیبہ، مسجد، امیر المومنین، خلیفہ اور صحابی، جو اسلام کے ساتھ مخصوص ہیں اور مسلمانوں کی پہچان بن چکے ہیں، انہیں استعمال کرنے کا حق ایک فریق کو ہوگا۔ آپ حضرات خانہ خدا میں بیٹھے ہیں، آپ ہی انصاف سے کہیں کہ کیا دونوں گروہوں کو بیک وقت اسلام کا نام، اسلام کا لیبل اور اس کا ’’ٹریڈ مارک‘‘ استعمال کرنے کا حق ہے؟ اگر نہیں، اور انصاف کا تقاضا ہے کہ نہیں، تو پھر انصاف کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کیجئے کہ یہ حق دونوں میں سے کس فریق کا ہے؟ جو چودہ سو سال سے اس نام اور اصطلاحات کو استعمال کر رہا ہے یا اس کا جو ایک سو سال سے اس کا دعویدار ہے۔

اصل بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، ایک عام کاروباری سی بات ہے، عام سی مثال ہے، اس حوالہ سے بات عرض کرتا ہوں۔ ایک کمپنی جو سو سال سے کام کر رہی ہے، اس کا ایک نام ہے، ایک لیبل ہے، ایک ٹریڈ مارک ہے، جن کے ساتھ وہ مارکیٹ میں متعارف ہے۔ اس کی ایک ساکھ ہے، اس حوالہ سے اس کا اعتبار قائم ہے۔ اب کچھ لوگ اس سے الگ ہو کر ایک نئی کمپنی بناتے ہیں، ایمان کے ساتھ بتائیے کہ اگر وہ نئی کمپنی اپنا مال مارکیٹ میں لانے کے لیے پہلی کمپنی کا نام استعمال کرتی ہے، اس کا ٹریڈ مارک اور لیبل استعمال کرتی ہے، تو انصاف کی زبان اسے کیا کہتی ہے؟ قانون اسے کیا کہتا ہے؟ (لوگوں نے کہا فراڈ، فراڈ)۔ میں ان مغربی لابیوں سے پوچھتا ہوں کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے؟ قانون کا تقاضا کیا ہے؟ دانش کا تقاضا کیا ہے؟ خدا کے لیے ہمارا موقف بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔

نبوت کا دعوٰی مرزا بہاء اللہ نے بھی کیا تھا، اس کے ماننے والے بہائی بھی ہم سے الگ مذہب رکھتے ہیں، ہم انہیں کافر کہتے ہیں، لیکن ہمارا ان سے قادیانیوں کی طرز کا کوئی تنازعہ نہیں ہے، کشمکش کی فضا نہیں ہے، اس لیے کہ وہ اسلام کا نام استعمال نہیں کرتے، انہوں نے اپنا نام اور اصطلاحات الگ کر لی ہیں۔ وہ کلمہ طیبہ پڑھ کر لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہتے، لندن ماسک کے نام پر اپنا لٹریچر تقسیم نہیں کرتے، اور اپنے مرکز کو اسلام آباد نہیں کہتے۔ ہم انہیں کافر کہتے ہیں لیکن ہمارا ان سے جھگڑا کوئی نہیں ہے۔ قادیانیوں کے ساتھ تنازعہ یہ ہے کہ مذہب نیا ہے، کمپنی نئی ہے، لیکن نام ہمارا استعمال کرتے ہیں، لیبل اور ٹریڈمارک ہمارا استعمال کرتے ہیں۔ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے، یہ دھوکہ ہے، فراڈ ہے اور کھلا فریب ہے۔ ہم دنیا بھر کے دانشوروں کو دہائی دیتے ہیں کہ خدا کے لیے ہمارے خلاف پراپیگنڈا کرنے سے پہلے یہ تو دیکھ لو کہ اصل قصہ کیا ہے اور تنازعہ کس بات پر ہے۔

حضرات محترم! اب میں اس صدارتی آرڈیننس کی طرف آتا ہوں جسے مرزا طاہر احمد اور اس کی سرپرست لابیوں کی طرف سے پوری دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا عنوان دے کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ یعنی ۱۹۸۴ء کا وہ صدارتی آرڈیننس جس کے تحت صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا ہے، اور جس کے بارے میں مغربی لابیاں یہ کہہ رہی ہیں کہ اس کے ذریعے قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال ہوگئے ہیں۔ لیکن پہلے یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ آرڈیننس صدر جنرل ضیاء الحق کا تیار کردہ نہیں ہے، نہ اسے فوجی ہیڈکوارٹر نے ترتیب دیا ہے۔ بلکہ آرڈیننس تحریک ختم نبوت کے ان مطالبات پر مشتمل ہے جن کے لیے ہم نے ملک بھر میں تحریک چلائی، اسٹریٹ پاور کو منظم کیا، لوگوں کو سڑکوں پر لائے اور راولپنڈی کی طرف لانگ مارچ کیا۔ اس پر مجبور ہو کر ہمارے مطالبات کو آرڈیننس کی شکل دی گئی، اس لیے یہ مارشل لاء ریگولیشن یا کسی ڈکٹیٹر کا نافذ کردہ قانون نہیں بلکہ عوامی مطالبات پر مشتمل ایک قانونی ضابطہ ہے۔

اس کے بعد صدارتی آرڈیننس پر بحث سے قبل آپ حضرات کو مرزا طاہر احمد کی اس مہم سے بھی متعارف کرانا چاہتا ہوں جو اس آرڈیننس کے خلاف ابھی تک جاری ہے۔ اس مہم کے مختلف مراحل کا آپ کے سامنے لایا جانا ضروری ہے تاکہ آپ لوگ دیکھ سکیں کہ ان کا طریق واردات کیا ہے۔ بالخصوص برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اس مہم سے واقف ہونا بے حد ضروری ہے۔ تو حضرات محترم! ۱۹۸۴ء میں صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد مرزا طاہر احمد لندن میں آکر بیٹھ گیا اور مغربی لابیوں کو اپروچ کر کے یہ دہائی دی کہ پاکستان میں امتناع قادیانیت کے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کے انسانی حقوق چھین لیے گئے ہیں، ان کے ہیومن رائٹس پامال کر دیے گئے ہیں، انہیں عبادت کے حق سے روک دیا گیا ہے، اور ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ویسٹرن میڈیا بھی اس مہم میں شریک ہوگیا، اسے تو انتظار رہتا ہے کہ اسلام اور پاکستان کے خلاف کوئی بات کہنے کو ملے، وہ تو بہانے تلاش کرتے ہیں کہ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف کسی بات پر شور اٹھا سکیں۔

پھر یہ بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن کو اپروچ کیا گیا۔ یہ کمیشن اقوام متحدہ کے تحت قائم ہے اور اس کا کام یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک پر نظر رکھتا ہے، جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، اس کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر مغربی حکومتیں اپنی پالیسیاں مرتب کرتی ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے اس کمیشن کے پاس درخواست پیش کی گئی کہ پاکستان میں ان کے شہری حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، لیکن اس درخواست سے پہلے ایک اور بات کا اہتمام ہو چکا تھا کہ جنیوا میں پاکستان کی سفارت اور نمائندگی مسٹر منصور احمد سنبھال چکا تھا جو معروف قادیانی ڈپلومیٹ ہے، پاکستان کا سینئر سفارتکار ہے اور اس وقت جاپان میں پاکستان کا سفیر ہے۔ اب راستہ صاف تھا، درخواست قادیانیوں کی طرف سے تھی اور کمیشن کے سامنے پاکستان کی نمائندگی اور حکومت پاکستان کے موقف کی وضاحت کی ذمہ داری ایک قادیانی سفارتکار پر تھی، نتیجہ وہی ہونا تھا جو ہوا، انسانی حقوق کمیشن نے اس مضمون کی قرارداد منظور کر لی کہ پاکستان میں واقعتاً قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیے گئے ہیں اور حکومت پاکستان اس کی ذمہ دار ہے۔

بات اور آگے بڑھی اور قادیانی گروہ اس قرارداد کو لے کر واشنگٹن پہنچا جہاں پرسلر رہتا ہے، جہاں سولارز رہتا ہے۔ آپ جانتے ہیں ان کو؟ اور پاکستان کا کونسا باشعور شہری ہے جو پریسلر اور سولارز کو نہیں جانتا۔ وہاں لابنگ ہوئی، اس وقت امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی پاکستان کی اقتصادی اور فوجی امداد کی بحالی کے لیے شرائط طے کر رہی تھی۔ جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی یہ قرارداد اس کے سامنے پیش ہوئی اور امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کے لیے امداد کی شرائط والی قرارداد میں قادیانیت کا مسئلہ شامل کر لیا۔ یہ ہے مرزا طاہر احمد کی مہم اور یہ ہے اس کا طریق واردات جسے آپ کے علم میں لانا میں نے ضروری سمجھا ہے۔

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کی امداد کے لیے جن شرائط کو اپنی قرارداد میں شامل کیا ان کا خلاصہ روزنامہ جنگ لاہور نے ۵ مئی ۱۹۸۷ء اور روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۵ اپریل ۱۹۸۷ء کو شائع کیا ہے۔ یہ میرے پاس موجود ہے اور آپ حضرات میں سے اکثر نہیں جانتے کہ ان شرائط میں کون کون سی باتیں شامل ہیں۔ عام طور پر صرف ایٹمی تنصیبات کے معائنہ کی شرط کا ذکر کیا جاتا ہے، بلاشبہ وہ بنیادی شرط ہے اور ہم اس مسئلہ پر پاکستان کی حکومت اور قوم کے موقف کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہیں بلکہ ہم تو اس سے بھی آگے کی بات کہتے ہیں، ہمارا موقف یہ ہے کہ ایٹم بم پاکستان کا اور دیگر مسلم ملکوں کا حق ہے اور اس سلسلہ میں معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ مگر امریکی شرائط میں صرف ایٹمی تنصیبات کا مسئلہ نہیں، اور امور بھی ہیں جن میں دو کا بطور خاص آپ کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی امداد کے لیے ضروری ہوگا کہ امریکی صدر ہر سال ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں یہ درج ہوگا کہ حکومت پاکستان نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ازالہ میں نمایاں ترقی کی ہے۔ یہ کتنا خوبصورت جملہ ہے لیکن ’’کلمۃ حق اریدیھا الباطل‘‘ اس کے اندر جو زہر چھپا ہوا ہے آپ حضرات نہیں جانتے۔ آپ کہیں تو میں عرض کر دوں کہ اس شوگر کے کیپسول میں کون سا زہر ہے؟ اس شرط میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کی بات کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مغربی ملکوں کے ہاں انسانی حقوق کا تصور کیا ہے اور یہ کس چیز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے دیکھنا پڑے گا کہ پاکستان میں مغربی میڈیا کے ’’بوسٹر‘‘ کیا کہتے ہیں۔

مغربی میڈیا کے بوسٹر ہر جگہ موجود ہیں، پاکستان میں بھی ہیں۔ امریکی سینٹ کی اس قرارداد کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن قائم ہوا ہے جس کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس دراب پٹیل ہیں جو پارسی ہیں، اور سیکرٹری جنرل عاصمہ جہانگیر ہے جو ایک قادیانی ایڈووکیٹ مسٹر جہانگیر کی بیوی ہے۔ یہ لوگ پاکستان میں ہیومن رائٹس کے عنوان سے فورم منعقد کرتے ہیں، جلسوں کا اہتمام کرتے ہیں، مظاہرے کرتے ہیں اور امریکی سفارتکار ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ذرا سنیے کہ اس کمیشن کے سربراہ مسٹر پٹیل کیا کہتے ہیں۔

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۵ اپریل ۱۹۸۷ء کے مطابق مسٹر دراب پٹیل نے کہا کہ کمیشن کو بہت سے ایسے قوانین منسوخ کرانے کی کوشش بھی کرنا ہوگی جو یکطرفہ ہیں اور جن سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا راستہ کھلتا ہے۔ اس سلسلہ میں حدود آرڈیننس، قانون شہادت، غیر مسلموں کو مسلمانوں کی شہادت پر سزا دینے کا مسئلہ، قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا قانون، جداگانہ انتخابات کا قانون، سیاسی جماعتوں کا قانون، یہ سارے قوانین ختم کرنا ہوں گے، یہ قوانین انسانی حقوق کے منافی ہیں۔

روزنامہ نوائے وقت نے ۲۷ اپریل ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں بیگم عاصمہ جہانگیر کے حوالہ سے کمیشن کے جنرل اجلاس میں کیے جانے والے مطالبات بھی شائع کیے ہیں جن کے مطابق تعزیرات اور حدود آرڈیننس کی بعض سزاؤں کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سنگسار کرنے، پھانسی پر لٹکانے اور موت کی سزا کو فی الفور ختم کیا جائے، نیز کوڑے لگانے، ہاتھ کاٹنے اور قید تنہائی کی سزائیں بھی ختم کر دی جائیں۔ جنرل اجلاس میں منظور کردہ ڈیکلیریشن میں تمام مذہبی اقلیتوں کی تائید کی گئی ہے اور اس ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت کسی بھی شخص کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر کوئی کاروائی نہ کرے۔

حضرات محترم! اب تو آپ اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ انسانی حقوق سے ان کی مراد کیا ہے اور ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کو روکنے کے عنوان سے مغربی ممالک اور لابیاں ہم سے کیا تقاضا کر رہی ہیں؟ امریکہ ہم سے یہ ضمانت چاہتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوگی، اور اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اسلامی قوانین نافذ نہیں کریں گے، قرآن کریم کے احکام نافذ نہیں کریں گے۔ ابھی حال ہی میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر موت کی سزا کا قانون منظور کیا ہے جس پر ایک محترمہ نے کہا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ معاذ اللہ توہین رسالت کو بھی انسانی حقوق میں شامل کیا جا رہا ہے اور یہ حق مانگا جا رہا ہے کہ کوئی بدبخت توہین رسالتؐ کا ارتکاب کرنا چاہے تو اسے اس کا حق حاصل ہو اور قانون کو حرکت میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہے ان لوگوں کا انسانی حقوق کا تصور اور یہ اسی قسم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے ہمیں روکنا چاہتے ہیں۔

ہمارے ساتھ اس وقت کانفرنس کے اسٹیج پر پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل جناب نذیر احمد غازی بھی تشریف فرما ہیں، ان سے معذرت کے ساتھ میں ایک ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کرنے لگا ہوں کہ ہم پر ’’انسانی حقوق‘‘ کا کیسا تصور تھوپا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال چکوال میں اغوا اور قتل کی ایک واردات ہوئی، خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا، عدالت نے قاتل کو موت کی سزا سنائی اور یہ فیصلہ دیا کہ پھانسی برسر عام لوگوں کے سامنے دی جائے۔ اسلام کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ سزا سرعام دی جائے تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ’ولیشھد عذابھما طائفۃ من المؤمنین‘‘ (النور ۲۴:۲) مجرموں کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے۔ یہ اسلامی قانون کا تقاضا ہے ، لیکن ہماری عدالت عظمٰی نے اس سزا پر عملدرآمد روک دیا ہے اور سپریم کورٹ میں گزشتہ چار پانچ ماہ سے اس نکتہ پر بحث جاری ہے کہ مجرم کو لوگوں کے سامنے سزا دینا اس کی عزت نفس کے منافی ہے اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے قاتل کو سرعام پھانسی نہیں دینی چاہیے۔

محترم بزرگو اور دوستو! یہ مثالیں میں نے وضاحت کے ساتھ اس لیے آپ کے سامنے رکھی ہیں تاکہ آپ اچھی طرح سمجھ سکیں کہ انسانی حقوق سے مغربی ممالک کی مراد کیا ہے اور یہ طاقتیں جب ہم سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ کرنے کی ضمانت طلب کرتی ہیں تو اس سے ان کا مقصد کیا ہوتا ہے؟

اب ایک اور شرط بھی سماعت فرما لیجئے جو امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کے لیے امریکی امداد کی بحالی کی شرائط کے ضمن میں اپنی قرارداد میں ذکر کی ہے۔ اس کے مطابق امریکی صدر ہر سال اپنے سرٹیفکیٹ میں یہ بھی لکھیں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتی گروہوں مثلاً احمدیوں کی مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر دی ہیں جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں۔

آپ حضرات کو کچھ اندازہ ہوگیا ہو گا کہ مسئلہ کی نوعیت کیا ہے اور معاملات کہاں تک آگے پہنچ چکے ہیں۔ آپ میں سے بیشتر حضرات یہ کہہ دیں گے کہ ہمیں تو ان باتوں کا علم ہی نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ کا نہ جاننا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ بھی ہمارا قصور ہے کہ آپ حضرات مغرب میں رہتے ہوئے بھی ان امور سے واقف نہیں ہیں، خدا کے لیے آنکھیں کھولیے اور اپنی ذمہ داری کا احساس کیجئے۔

حضرات محترم! اب میں آتا ہوں صدارتی آرڈیننس کی طرف۔ یہ میرے ہاتھ میں صدارتی آرڈیننس کی کاپی ہے، اس آرڈیننس کا مقصد اور منشا صرف یہ ہے کہ چونکہ قادیانیوں کا مذہب مسلمانوں سے الگ ہے اس لیے قادیانی اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر استعمال نہ کریں۔ اس کے علاوہ اس آرڈیننس میں کچھ نہیں، اس آرڈیننس کی رو سے قادیانیوں کو اس امر کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ:

  • اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کریں اور خود کو مسلمان کے طور پر ظاہر نہ کریں۔
  • اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہ کہیں اور اپنی عبادت کے لیے لوگوں کو بلانے کا طریقہ اذان سے الگ اختیار کریں اور اسے اذان نہ کہیں۔
  • جناب نبی اکرمؐ کی ازواج مطہرات کے علاوہ کسی اور خاتون کو ام المؤمنین نہ کہیں۔ رسول اللہؐ کے صحابہ اور خلفاء کے علاوہ کسی اور کے لیے صحابی یا خلیفہ کی اصطلاح استعمال نہ کریں۔

آرڈیننس میں ان امور کو جرم قرار دیتے ہوئے ان میں سے کسی ایک کے ارتکاب پر تین سال تک قید یا جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ میں مغربی لابیوں سے پوچھتا ہوں کہ اس آرڈیننس میں قادیانیوں کو عبادت گاہ بنانے یا عبادت کرنے سے کہاں روکا گیا ہے؟ انہیں صرف اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے سے روکا گیا ہے، اذان دینے سے روکا گیا ہے اور اسلام کے دیگر شعائر کے استعمال سے روکا گیا ہے۔ اور جب قادیانیوں کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے الگ ایک جداگانہ مذہب ہے تو یہ پابندیاں اس کا منطقی تقاضا ہیں، اور ان اصولی اور منطقی پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینا سراسر ناانصافی ہے۔

ہماری یہ آواز ویسٹرن میڈیا تک پہنچنی چاہیے اور مغربی لابیوں کے علم میں آنی چاہیے۔ برطانیہ میں رہنے والے مسلمان بھائیو! ہم تو مجبور ہیں کہ سال میں ایک آدھ بار آتے ہیں اور آواز لگا کر چلے جاتے ہیں، یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر مرزا طاہر احمد یہاں کے ذرائع استعمال کرتا ہے تو مغرب کے ذرائع ابلاغ آپ کی دسترس سے باہر نہیں ہیں۔ اگر مرزا طاہر احمد مغربی لابیوں کو اپروچ کر سکتا ہے تو آپ حضرات بھی کر سکتے ہیں۔ خدا کے لیے آپ بھی اپنے فرائض پہچانیں اور اسلام اور پاکستان کے دفاع کے لیے سائنٹیفک بنیادوں پر کام کا طریقہ اختیار کریں۔

حضرات محترم! اگر بات انسانی حقوق کی ہے تو میں یہ بات ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہم نہیں کر رہے بلکہ قادیانی کر رہے ہیں۔ اور عملی صورتحال یہ ہے کہ خود ہمارے انسانی حقوق قادیانیوں کے ہاتھوں پامال ہو رہے ہیں، اس لیے کہ اسلام کا نام، مسجد، اذان، کلمہ طیبہ اور دیگر اسلامی شعائر دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی پہچان اور ان کی شناخت ہیں۔ اپنی شناخت کا تحفظ مسلمانوں کا حق ہے اور شناخت کی حفاظت انسانی حقوق میں شامل ہے، جسے قادیانی مسلسل پامال کر رہے ہیں۔ اور جب قادیانیوں کے خلاف اس جرم میں قانونی کاروائی ہوتی ہے تو مغربی لابسٹ چیخ اٹھتے ہیں کہ قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ اب دیکھیے، میں ایک شخص ہوں، مجھے زاہد الراشدی کے نام سے پہچانا جاتا ہے، گوجرانوالہ سے ماہنامہ الشریعہ شائع کرتا ہوں اور اس کا ایڈیٹر ہوں۔ اگر کوئی اور شخص یہ دعوٰی کرے کہ وہ زاہد الراشدی ہے اور الشریعہ کا ایڈیٹر ہے تو کیا اس سے میری شناخت مجروح نہیں ہوگی؟ اور کیا میرے انسانی حقوق پر زد نہیں پڑتی؟ اور اگر میں اس شخص کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرا دوں اور قانون اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دے تو کیا مغربی لابیاں اس پر شور مچانا شروع کر دیں گی کہ اس کے انسانی حقوق پامال ہو گئے ہیں؟

میں مغرب میں بیٹھ کر اسلام اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والی لابیوں سے خدا کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ کچھ انصاف کریں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کریں کہ وہ اپنی شناخت اور پہچان کی حفاظت کر سکیں، اسلام کا نام، اس کا لیبل اور ’’ٹریڈ مارک‘‘ غلط استعمال کرنے والوں کو ایسا کرنے سے باز رکھ سکیں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے مذہبی نام کا تحفظ کریں، اپنی شناخت کا تحفظ کریں، اپنی علامات اور نشانیوں کا تحفظ کریں اور اپنی پہچان کو بچائیں۔ قادیانی گروہ مٹھی بھر ہونے کے باوجود مغربی طاقتوں اور لابیوں کی شہ پر ہماری پہچان کو خراب کر رہا ہے اور ہماری شناخت کو مجروح کر رہا ہے۔ صدارتی آرڈیننس میں قادیانیوں کو اسی جرم سے روکا گیا ہے، اس لیے انصاف کی بات یہ ہے کہ امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور ہیومن رائٹس کے تقاضوں کی تکمیل کا آرڈیننس ہے۔

میرے محترم بزرگو اور دوستو! کہنے کی باتیں ابھی بہت سی ہیں لیکن وقت کا دامن تنگ ہوتا جا رہا ہے اور میرے بعد دوسرے فاضل مقررین نے بھی آنا ہے اس لیے آخر میں آپ حضرات سے پھر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مغرب کے ممالک اور لابیاں ایک بات طے کر چکی ہیں کہ کسی مسلمان ملک میں اسلامی نظام کو کسی قیمت پر نافذ نہ ہونے دیا جائے۔ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں، مصر اور مراکش کا بھی یہی مسئلہ ہے، دنیا کے ہر مسلمان ملک میں مغربی میڈیا کے بوسٹر موجود ہیں جو انسانی حقوق اور بنیاد پرستی کے عنوان سے اسلامی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں اور قادیانیت جیسے گمراہ کن گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا ادراک حاصل کرنا، مغربی لابیوں کے طریق واردات کو سمجھنا اور اس کا توڑ پیدا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس جسارت پر مجھے معاف فرمائیں کہ اس سلسلہ میں پہلی ذمہ داری آپ لوگوں کی ہے جو مغربی ممالک میں مقیم ہیں اور یہاں کے ذرائع تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اس کے بعد ہماری ذمہ داری ہے۔ آئیے ہم سب عہد کریں کہ اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے دفاع میں اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق دیں، آمین۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

درجہ بندی: