موجودہ معروضی حالات اور دینی جدوجہد کا مستقبل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ فروری ۲۰۰۸ء

گزشتہ منگل (۱۲ فروری) کو کافی عرصہ کے بعد پشاور جانے کا اتفاق ہوا، جامعہ عثمانیہ میں وفاق المدارس کے زیراہتمام دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے چار روزہ ’’تدریب المعلمین‘‘ کورس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کچھ موضوعات پر مجھے بھی اظہار خیال کے لیے کہا گیا۔ وفاق المدارس العربیہ کی مجلس شورٰی نے گزشتہ سال جامعہ عثمانیہ پشاور کے مہتمم مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کا مجھے اور مانسہرہ کے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کو بھی رکن بنایا گیا۔ اس کمیٹی کے ذمے یہ کام تھا کہ دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا کوئی نظام وضع کیا جائے تاکہ دینی و ملی ضروریات کے حوالے سے اساتذہ کی تیاری کے کام کو باقاعدہ شکل دی جا سکے۔ کمیٹی نے چند ماہ قبل جامعہ عثمانیہ پشاور میں ہی ایک اجلاس منعقد کر کے اس کے کچھ خدوخال وضع کیے تھے اور وفاق المدارس العربیہ کی قیادت سے گزارش کی تھی کہ ابتدائی طور پر ملک کے مختلف مقامات میں علاقائی سطح پر اساتذہ کے اجتماعات کا اہتمام کیا جائے جن میں اہم موضوعات پر ماہرین فن کے لیکچرز کے علاوہ متعلقہ امور و مسائل پر اساتذہ کی باہمی مشاورت اور مذاکرہ بھی شامل ہو۔

چنانچہ اس کے مطابق اس سلسلہ کا پہلا علاقائی اجتماع ۱۲ فروری تا ۱۵ فروری جامعہ عثمانیہ پشاور میں مولانا مفتی غلام الرحمان کی نگرانی میں ہوا جس میں صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے ستر سے زائد دینی مدارس کے دو دو منتخب اساتذہ نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا مفتی غلام الرحمان، پروفیسر عبد الجبار شاکر، مولانا محمد حسن اور دیگر ممتاز اساتذہ نے اپنے تجربات اور قیمتی خیالات سے اساتذہ کو آگاہ کیا۔ جبکہ راقم الحروف نے (۱) تدریس فقہ کے ضروری تقاضے (۲) علم کلام جدید و قدیم کا ایک تقابلی جائزہ، اور (۳) تعلیمی ماحول کو مستحکم کرنے کے تقاضے کے عنوانات پر تین نشستوں میں اپنی معروضات پیش کیں۔ یہ گزارشات زبانی تھیں، میں کوشش کر رہا ہوں کہ کسی طرح قلمبند ہو جائیں تاکہ انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا سکے، ان شاء اللہ العزیز۔ اس سلسلہ کا اگلا اجتماع پنجاب کے کسی شہر میں تجویز کیا گیا ہے جو غالباً مارچ کے آخر میں ہوگا۔ اس طرح ایک بہت پرانی تجویز پر عملدرآمد کا آغاز ہوگیا ہے کہ وفاق المدارس العربیہ دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے کوئی تربیتی نظام وضع کرے تاکہ تدریسی ماحول کو زیادہ بہتر، بامقصد اور معیاری بنایا جا سکے۔

دو روز میرا قیام جامعہ عثمانیہ میں رہا البتہ حضرت مولانا حسن جانؒ کی قبر پر اور ان کے قائم کردہ مدرسہ میں حاضری دی اور جامعہ عثمانیہ کی نئی عمارت میں، جو پنجی چراٹ روڈ پر چونسٹھ ایکڑ زمین کے وسیع قطعہ میں تعمیر ہو رہی ہے، وفاق المدارس العربیہ کے مرکزی دفتر کے ناظم مولانا عبد المجید اور ان کے ایک رفیق کار کے ہمراہ حاضر ہوا۔ حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ وفاق المدارس کے نائب صدر اور ہمارے مشفق بزرگوں میں سے تھے، وفاق المدارس کے اجلاسوں کے علاوہ مختلف مدارس کے اجتماعات میں ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی، جب بھی ملتے شفقتوں اور دعاؤں سے نوازتے۔ گزشتہ رمضان المبارک سے قبل فیصل آباد کے جامعہ اسلامیہ محمدیہ میں ختم بخاری شریف کی تقریب کے موقع پر آخری بار ان کی زیارت ہوئی۔ میں نے تقریب سے خطاب کر کے واپس جا رہا تھا، وہ گاڑی پر تقریب کی طرف آرہے تھے، راستے میں آمنا سامنا ہوا، میں نے سلام عرض کیا، انہوں نے دعاؤں سے نوازا، اس کے بعد میں بیرون ملک سفر پر چلا گیا اور حضرتؒ کی شہادت کی خبر میں نے واشنگٹن ڈی سی میں سنی۔ ان کی شہادت کے نصف گھنٹہ بعد ہی پشاور کے ایک دوست نے مجھے فون پر بتایا کہ حضرت مولانا حسن جان کو کسی بدبخت نے گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔ میں نے اس سانحہ پر اس وقت ایک کالم میں اپنے جذبات کا اظہار کر دیا تھا۔ پشاور حاضری کے موقع پر جی چاہا کہ مولاناؒ کی قبر پر حاضری ہو جائے، انہیں پشاور سے باہر جی ٹی روڈ پر چند کلو میٹر کے فاصلے پر معروف قصبہ ’’جھگڑا‘‘ کے قریب بستی رشیدہ میں ان کے قائم کردہ دارالعلوم احسن المدارس میں دفن کیا گیا ہے۔ قبر پر حاضری ہوئی، حضرت کے منجھلے صاحبزادے مولانا عابد حسن جان موجود تھے، ان سے تعزیت کی، تھوڑی دیر حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ کا ذکر ہوتا رہا اور پھر ہم وہاں سے رخصت ہوگئے۔

جامعہ عثمانیہ نہ صرف پشاور بلکہ صوبہ سرحد کے بڑے مدارس میں سے ہے۔ مولانا مفتی غلام الرحمان صاحب کا تعلق ہزارہ سے ہے، ایک عرصہ تک دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خدمات سرانجام دیتے رہے اور اس کے بعد پشاور میں جامعہ عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ جامعہ عثمانیہ کی پرانی عمارت نوتھیہ روڈ پر واقع ہے جہاں طالبات کا بھی الگ مدرسہ ہے اور اسی میں ’’تدریب المعلمین‘‘ کورس کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ جی ٹی روڈ پر پنجی سے چراٹ جانے والی معروف سڑک پر چونسٹھ ایکڑ زمین کے وسیع رقبہ پر جامعہ عثمانیہ کی نئی عمارات زیر تعمیر ہیں اور ایک حصہ مکمل ہونے کے بعد تدریس و تعلیم کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تعمیری منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ غالباً صوبہ سرحد کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہوگا۔ اس سلسلہ میں مولانا مفتی غلام الرحمان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ شعبہ جات اور تعلیمی دائرہ کے حوالہ سے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ہی صوبہ سرحد کا سب سے بڑا مدرسہ ہے مگر ان کے پاس اتنی جگہ نہیں کہ وہ اسے مزید توسیع دے سکیں۔

صوبہ سرحد میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی سرگرمیوں کا مرکز بھی زیادہ تر جامعہ عثمانیہ ہی ہوتا ہے اور مولانا مفتی غلام الرحمان اپنے تجربہ کار ساتھیوں کے ساتھ اس سلسلہ میں اہم خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ اس سفر میں میرا جی چاہ رہا تھا کہ پرانے جماعتی دوستوں سے بھی رابطہ کروں اور تازہ ترین جماعتی اور سیاسی صورتحال پر ان سے ملاقات و گفتگو ہو جائے مگر انتخابی سرگرمیوں میں ان حضرات کی مصروفیت کے باعث اس کی کوئی شکل نہ بن سکی البتہ انتخابی اور جماعتی سرگرمیوں کے بارے میں ملنے جلنے والے دوستوں سے دریافت کر کے گزارہ کرتا رہا۔

میں نے ۱۹۹۰ء کے بعد سے جمعیۃ علماء اسلام کا باقاعدہ اور مسلسل رکن ہونے کے باوجود انتخابی سیاست سے لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے اور اس سلسلہ میں میرا ایک مستقل موقف ہے کہ ہمارے جماعتی حلقوں میں نہ تو نظریاتی اور معروضی سیاست کے درمیان ایسا توازن باقی رہا ہے کہ ہم خود کو شرح صدر کے ساتھ نظریاتی سیاست کا نمائندہ قرار دے سکیں اور نہ ہی انتخابات کے وہ ناگزیر تقاضے پورے کرنے کی طرف ہماری سنجیدہ توجہ ہے، جن کے بغیر انتخابی سیاست سے دینی و ملی مقاصد کے لیے فوائد کا حصول ممکن ہی نہیں ہے۔ ہمارے ہاتھوں میں پرچم نظریاتی سیاست کا ہے مگر ہمارے شب و روز کی تمام تر سرگرمیاں معروضی سیاست کی بھول بھلیوں میں گردش کر رہی ہیں، ان کے درمیان توازن اور جوڑ کی کوئی ڈور اب ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اور ملک میں نفاذ شریعت کے خواہاں حلقوں میں اس حوالہ سے سیاسی عمل اور انتخابی سیاست سے مایوسی اور بددلی میں جو مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں تشدد کا ذہن ہر سطح پر فروغ پاتا جا رہا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ، جو سیاسی عمل اور انتخابی سیاست کے ذریعے نفاذ اسلام کے لیے جدوجہد کرتے آرہے ہیں اور ۱۹۹۰ء تک ہم نے اسی میں مسلسل پیشرفت کی ہے، اب اس میدان میں اپنی جدوجہد اور طرزعمل کے بارے میں دینی کارکنوں کا اعتماد بحال رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ اور یہ خیال دن بدن تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ سیاسی عمل کے ذریعے نفاذ اسلام کا کوئی امکان باقی نہیں رہا اس لیے اب ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ خیال صحیح ہے یا غلط اور اس خیال کی پیش قدمی کے نتائج کا موجودہ حالات میں یہ ملک متحمل ہو سکے گا یا نہیں؟ یہ ایک مستقل مسئلہ ہے جو تفصیلی بحث کا متقاضی ہے اور ہم کسی موقع پر ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں اپنی معروضات تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے مگر اس وقت ہم اس کے صرف اس پہلو پر عرض کر رہے ہیں کہ یہ خیال پیدا ہونے اور اس کے تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے کے اسباب میں ایک بڑا سبب یہ ہے کہ سیاسی عمل کے ذریعے نفاذ اسلام کی جدوجہد کرنے والے حلقے اپنی پالیسیوں اور طرزعمل کے حوالے سے دینی کارکنوں کا اعتماد کھو رہے ہیں اور مستقبل کی قومی سیاست اور دینی جدوجہد میں اس کے انتہائی دور رس نتائج ہوں گے۔

متحدہ مجلس عمل اس سلسلہ میں امید کی آخری کرن تھی اور گزشتہ انتخابات میں اس کی پیشرفت نے یہ امید پھر سے پیدا کر دی تھی کہ قومی سیاست میں متحرک دینی جماعتیں ایک بار پھر نفاذ اسلام کی طرف پیش قدمی کی صلاحیت حاصل کر لیں گی لیکن موجودہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے باہمی خلفشار نے اس امید کو شکوک و شبہات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ہمارے ’’مہربانوں‘‘ نے ہمیں رفتہ رفتہ اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ دینی جماعتوں کا متحدہ محاذ اپنے وجود کے بارے میں سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے بڑے خلوص کے ساتھ مطمئن ہیں کہ وہ بالکل صحیح رخ پر ہیں اور الیکشن لڑنے والے اس سے زیادہ خلوص کے ساتھ تسلی رکھتے ہیں کہ ان کا سیاسی قبلہ بالکل درست ہے، جبکہ:

صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی

الیکشن کی صورتحال سب کے سامنے ہے، صوبہ سرحد میں جہاں متحدہ مجلس عمل نے پانچ سال حکومت کی ہے اس کی دونوں اہم پارٹیاں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی ایک دوسرے کی طرف پشت کیے کھڑی ہیں، اور بلوچستان میں جہاں جمعیۃ علماء اسلام ہی ایم ایم اے کی سب سے بڑی بلکہ واحد سیاسی قوت تھی خود اسی کے دو حصے کر کے انہیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آرا کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں انتخابی نتائج کے بارے میں کسی خوش فہمی کا آخر کیسے اظہار کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے ہمیں الیکشن اور اس کے نتائج سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، ہماری دلچسپی کا صرف ایک پہلو اس میں باقی رہ گیا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کو توڑ دینے سے اب تک گریز کیا گیا ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ الیکشن کے بعد کے حالات پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر اس الیکشن کے بعد متحدہ مجلس عمل اپنا وجود باقی رکھنے اور ترجیحات کا دائرہ درست کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو دینی سیاست کے کسی حد تک بہتر مستقبل کی توقع کی جا سکتی ہے ورنہ دینی جدوجہد کی قیادت اب ’’منشور‘‘ کی بجائے ’’کلاشنکوف‘‘ کی طرف منتقل ہوتی نظر آرہی ہے، پھر:

ہرچہ بادا باد