’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جولائی ۲۰۰۷ء
اصل عنوان: 
چیف جسٹس کی بحالی اور قوم کی توقعات

چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی آپریشن روم کے دروازے سے باہر جھانک کر مریض کے رشتہ داروں کو یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی ہے اور اس نے اب سانس لینا شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اعلان سے قبل پوری قوم سکتے کے عالم میں تھی اور کان اسلام آباد کی طرف لگے ہوئے تھے کہ وہاں سے کیا خبر آتی ہے؟ عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ نے قوم کا رخ مایوسی سے امید کی طرف پھیر دیا ہے جس پر فل کورٹ کے تمام ارکان پوری قوم کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔

اب سے ساٹھ برس قبل جب جنوبی ایشیا میں ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا تو کچھ باتیں اس کے قیام کے ساتھ ہی قطعی طور پر طے ہو گئی تھیں۔ مثلاً یہ کہ:

  1. اس ملک میں بادشاہت یا شخصی آمریت نہیں ہوگی بلکہ جمہوری اصولوں کے مطابق عوام کی منتخب حکومت وجود میں آیا کرے گی،
  2. یہ سیکولر اور لادین ریاست نہیں ہوگی بلکہ اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کے احکام کے مطابق اس کا نظام چلا یا جائے گا،
  3. اور اس ملک میں کسی فرد یا طبقے کی رائے مسلط ہونے کے بجائے دستور اور قانون کی حکمرانی ہوگی۔

قوم خوش تھی کہ ہم نے ایک نئی منزل کی طرف سفر شروع کیا ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ہے جس میں نہ صرف ہمارے اعتقادات و جذبات کا لحاظ رکھا جائے گا بلکہ عوام کی مرضی اور رائے کو بھی پورا احترام حاصل ہوگا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قوم کی یہ امیدیں دھندلاتی چلی گئیں:

  • عوام کی حکمرانی کے بجائے حکمران طبقات وجود میں آ گئے اور دستور قانون کو اسٹیبلشمنٹ کی آکاس بیل نے ہر طرف سے گھیرے میں لے لیا،
  • ملک کو دستور فراہم کرنے کے لیے دستور ساز اسمبلی اپنے کام میں مصروف تھی کہ طبقاتی کشمکش کی بھینٹ چڑھ گئی، اور جب دستور ساز اسمبلی نے انصاف کے لیے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اس کی داد رسی کے بجائے اسے خالی ہاتھ لوٹا دیا گیا،
  • فوجی طالع آزماؤں کی ہوس اقتدار کے حوالے سے عدالت عظمیٰ ہی کی طرف سے قوم کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ کا تحفہ ملا جس کا مطلب رفتہ رفتہ یہ سمجھ میں آیا کہ قوم کی اجتماعی ضروریات کی باگ ڈور چند افراد یا طبقوں کے ہاتھ میں ہوگی جو کسی بھی وقت ان کا رخ کسی طرف بھی موڑ سکیں گے۔

تب سے قوم و ملک اور قوم کے اجتماعی مفادات و ضروریات چند طبقات کے ہاتھوں میں یرغمال ہیں اور قوم اپنے وطن عزیز میں دستور و قانون کی حکمرانی کے راستے تلاش کرتے کرتے تھک گئی ہے۔ ۱۹۷۳ء کا دستور آیا تو امید کی ایک کرن روشن ہوئی کہ یہ پوری قوم کا متفقہ دستور ہے جس میں اسلام بھی ہے، جمہوریت بھی ہے، انسانی حقوق بھی ہیں، اور قانون کی حکمرانی کی ضمانت بھی ہے۔ مگر وہ بھی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کی کرم فرمائی سے نہ بچ سکا، کئی بار دم توڑتے ہوئے دوبارہ زندگی کی نعمت سے بہرہ ور ہوا مگر مسلسل کومے کی حالت میں ہے، اور اب سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے کچھ امید ہونے لگی ہے کہ یہ جاں بلب مریض شاید ہوش میں آ کر باتیں کرنے لگے اور اپنا معمول کا کردار ادا کرنے کے لیے چلنے پھرنے کے قابل بھی ہو جائے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے اوپر استعفے کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے جب ریفرنس میں عائد کیے جانے والے الزامات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تو پوری قوم جھوم اٹھی تھی کہ ’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘ کے ماحول میں کسی نے تو سر اٹھا کر چلنے کی بات کی، کوئی تو ایسا آیا جس نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ یہ ادا قوم کو ایسی پسند آئی کہ چیف جسٹس کے ساتھ ہی سڑکوں پر نکل آئی اور اس وقت تک واپس جانے سے انکار کر دیا جب تک جسٹس افتخار محمد چودھری چیف جسٹس کے چیمبر میں واپس جا کر اپنے فرائض ادا کرنا شروع نہیں کر دیتے۔

اس قوم کا عجیب مزاج ہے کہ اسے سر نہ جھکانے والے ہی ہمیشہ پسند آئے ہیں۔ وہ جبر و ظلم کے مقابلے میں عملاً خود کچھ کر سکے یا نہیں، مگر سر اٹھا کر چلنے والوں پر اس نے ہمیشہ اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا ہے۔ اس کی تاریخ میں سر نہ جھکانے والے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جہانگیر بادشاہ کے دربار میں کوئی بھی سر جھکائے بغیر داخل نہیں ہو سکتا تھا، بڑے بڑے کج کلاہوں کو اس کے دربار میں جانے کے لیے جھکتے ہوئے اپنی دستاریں سنبھالنا پڑتی تھیں، مگر ایک مرد درویش نے یہ رسم نبھانے سے انکار کر دیا اور بادشاہ سلامت کا سامنا کرتے ہوئے سر اٹھا کر چلنے کی روایت قائم کی تو تاریخ نے اس کا نام ہمیشہ کے لیے اپنے اوراق میں ’’مجدد الف ثانی‘‘ کے نام سے ایک مستقل باب کا عنوان بنا دیا۔ جہانگیر بادشاہ کے اس دربار میں ہزاروں لوگ سر جھکا کر داخل ہوئے ہوں گے اور ان میں سے بہت سے لوگ تو اسے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے بار بار جھکے ہوں گے مگر تاریخ کو ان میں سے دو چار کے سوا کسی کا نام یاد نہیں، البتہ ایک مرد فقیر نے جھکنے سے انکار کیا تو وہ آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے، اور اقبال بھی اسے ’’گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے‘‘ کے عنوان سے خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔

تاریخ بتلاتی ہے کہ یہ شخصی انا کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ان دونوں، یعنی اپنے سامنے ہر کسی کو سر جھکانے پر مجبور کرنے والی اور اس کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرنے والی، دونوں شخصیتوں کی پشت پر فکر اور فلسفہ کارفرما تھا۔ جہانگیر اپنے باپ اکبر بادشاہ کے ’’دین الٰہی‘‘ کی نمائندگی کر رہا تھا اور اس خود ساختہ نظام و فلسفہ کی بالادستی اس کے تمام تر درباری پروٹوکول کا عنوان تھی، جبکہ مجدد الف ثانی کے ہاتھ میں اس دین محمدی کا پرچم تھا جس سے پیچھا چھڑانے کے لیے ’’دین الٰہی‘‘ کا ڈھونگ رچایا گیا تھا۔ اس لیے یہ دو افراد کی کشمکش نہیں تھی بلکہ دو فلسفوں کی جنگ تھی اور دو عقیدتوں کا معرکہ تھا اور تاریخ ہی کا کہنا ہے کہ جب مجدد الف ثانی نے گردن جھکانے سے انکار کیا تو وہی اکبر کے دین الٰہی کے لیے ’’ریٹرن پوائنٹ‘‘ ثابت ہوا اور ایک مرد فقیر کی گردن نہ جھکانے کی یہ روایت دھیرے دھیرے آگے بڑھتے ہوئے بالآخر اورنگ زیب عالمگیرؒ کی شکل اختیار کر گئی۔

مجھے ایک صحافی دوست نے گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا تو میں نے عرض کیا کہ ایک مدت کے بعد کوئی خوشی کی خبر سنی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ کوئی ’’پرسنیلٹی کلیش‘‘ تو نہیں تھا جس پر پوری قوم بلاوجہ خوشیاں منا رہی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا، اس لیے کہ اگر خدانخواستہ ابتدا میں یہ کوئی ’’پرسنیلٹی کلیش‘‘ تھا بھی تو جس انداز سے یہ آگے بڑھا ہے، جس جذبے کے ساتھ ملک بھر کی وکلاء برادری اپنے چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے اور جس طرح والہانہ طور پر پوری قوم نے چیف جسٹس کے اس کردار کا خیر مقدم کیا ہے، اس کے بعد اب یہ سارا کچھ پوری قوم کی مشترکہ ملکیت میں چلا گیا ہے اور ’’پبلک پراپرٹی‘‘ بن گیا ہے، اسے اب کسی شخصی دائرے کی طرف واپس لے جانا ممکن ہی نہیں رہا۔ اس انٹرویو میں مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے معاملات کو اب سپریم کورٹ میں لے جانا پسند کریں گے؟ میں نے جواب دیا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی، اس لیے کہ لال مسجد کا معاملہ پہلے سے سپریم کورٹ کی میز پر موجود ہے اور مجھے یقین ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے فرائض دوبارہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے اس کا نوٹس لیں گے، چنانچہ آج صبح میں نے خبر پڑھ لی ہے کہ چیف جسٹس نے جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے معاملات کو ڈیل کرنے کے لیے تین رکن فل بنچ مقرر کر دیا ہے۔

بہرحال اس پس منظر میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی صرف ان کی بحالی نہیں ہے بلکہ عدلیہ کی بالادستی کی بحالی ہے اور دستور و قانون کی حکمرانی کی بحالی ہے۔ جس پر چیف جسٹس موصوف، ان کا بھرپور ساتھ دینے والی وکلاء برادری، ان کی حمایت کرنے والی دینی و سیاسی جماعتیں، بلکہ پوری قوم مبارک بار کی مستحق ہے۔ اب قوم کی امیدوں کا رخ سپریم کورٹ کی طرف ہے اور عوام اپنے دکھوں، محرومیوں اور مجبوریوں کے مداوا کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کی ٹیم کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ البتہ یہ سوال ابھی موجود ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے سے لے کر ان کی بحالی تک جو کچھ ہوا، وہ کسی ’’پرسنیلٹی کلیش‘‘ کا نتیجہ تھا یا دو فکروں اور فلسفوں کی کشمکش تھی۔ چیف جسٹس کے پاس ابھی بہت وقت ہے اور ان کی ٹیم بھی بہت اچھی نظر آ رہی ہے، اس لیے اس سوال کا جواب وہی دیں گے اور یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ اسی عدالت عظمیٰ کے ایک سابق سربراہ سے کسی مسئلے کے بارے میں عوامی فورم پر سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’’جج اپنے فیصلوں میں بولا کرتے ہیں‘‘۔