حضرت مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ فروری ۲۰۱۳ء

جمعرات کو نمازِ مغرب کے بعد مری کے قریب ایک تعلیمی مرکز میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی فرمائش پر اپنے دورِ طالب علمی کے کچھ واقعات کا تذکرہ کر رہا تھا اور استاذِ محترم حضرت عبد القیوم ہزارویؒ کا تذکرہ زبان پر تھا، میں دوستوں کو بتا رہا تھا کہ جن اساتذہ سے میں نے سب سے زیادہ پڑھا اور بہت کچھ سیکھا ہے ان میں حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ہیں اور اس حوالہ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ میری ذہن سازی اور تربیت میں مسلک کے دائرے میں حضرت والدِ محترمؒ اور فکری محاذ پر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ میں ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ مجلس میں موجود ایک دوست کے موبائل فون کی بیل بجنے لگی وہ اٹھ کر باہر گئے اور واپس آکر بتایا کہ استاذِ محترم مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

جنازہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ کل جمعۃ المبارک کی نماز کے بعد ان کے گاؤں تمبرکھولا میں ادا کی جائے گی جو مانسہرہ سے آگے ہے، جمعۃ المبارک کی وجہ سے نماز جنازہ میں شرکت سے محروم رہا۔ البتہ نماز مغرب کے بعد گکھڑ میں حضرت والدِ محترمؒ کی مسجد میں ہفتہ وار درس کے دوران استاذِ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ، حضرت مولانا عبد المجید دین پوریؒ اور حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ کی دینی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی سعادت حاصل کی۔

حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے آغاز سے ہی حضرت صوفی صاحبؒ کے رفیقِ کار تھے اور ہمارے طالب علمی کے دور میں حضرات شیخینؒ کے ساتھ وہ تیسرے بڑے استاذ کا درجہ رکھتے تھے۔ انہوں نے چار عشروں سے زیادہ عرصہ تک مسلسل نصرۃ العلوم میں تدریسی خدمات سر انجام دیں، میں نے زرّادی اور زنجانی سے لے کر دورۂ حدیث میں ابو داؤد شریف تک مختلف فنون کی بہت سی کتابیں ان سے پڑھی ہیں، معقولات کے اونچے درجے کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا، مزاج کے سخت تھے اور عبارت وغیرہ میں نرمی اور کمزوری برداشت نہیں کرتے تھے اس لیے ان کے سبق میں خاصی تیاری کر کے بیٹھنا پڑتا تھا۔ ابتدا میں ان کا طرز اَنّھی والے استاذ حضرت مولانا ولی اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ والا ہوتا تھا، طالب علم کو خود مطالعہ کر کے اور سبق حل کر کے آنا ہوتا تھا، استاذ صرف سنتے تھے اور اگر کوئی بات ضروری ہوتی تو وضاحت کر دیتے تھے۔ میں نے نور الانوار سمیت بہت سی کتابیں اس طرز پر ان سے پڑھی ہیں، وہ کتاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہن سازی کی طرف بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ سیاسی طور پر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے زیادہ قریب تھے اور زندگی بھر اسی فکر پر رہے۔ دینی اور روحانی حوالہ سے شیرانوالہ لاہور اور حضرت درخواستیؒ کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے تھے۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے ساتھ ان کی اکثر و بیشتر معاملات میں ذہنی ہم آہنگی ہوتی تھی، ایک دور میں مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت میں عملی طور پر متحرک رہے، جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیم نو میں شریک تھے اور ایک مرحلہ میں شہر کے امیر بھی رہے ہیں۔

صدر ایوب خان مرحوم کے دور میں ان کی آمریت کے خلاف عوامی جدوجہد اور ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کی فکری بے روی کے خلاف جمعیۃ علماء اسلام کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ متحدہ حزب اختلاف کے زیر اہتمام شیرانوالہ باغ میں ہونے والے اس عوامی جلسہ کی صدارت انہوں نے ہی کی تھی جس پر پولیس نے پہلے آنسو گیس پھینکی اور پھر فائرنگ کی تھی، اس فائرنگ میں غالباً دو نوجوان شہید ہوئے تھے اور گوجرانوالہ ایوبی آمریت کے خلاف عوامی تحریک کا اہم مرکز بن گیا تھا۔

یحییٰ خان کے مارشل لاء کے آغاز میں انہوں نے مسجد فاروقیہ پونڈانوالہ میں خطبۂ جمعہ کے دوران قادیانیوں کی تردید کی جس کے نتیجے میں وہ مارشل لاء کے تحت گرفتار ہوئے، اس کے علاوہ تحریک ختم نبوت کے دوران بھی گرفتار ہوئے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ قادیانیوں کے خلاف تحریک میں وہ اس دور میں پورے جوش و جذبہ کے ساتھ سرگرم حصہ لیتے رہے جس دور میں کسی خطبہ یا تقریر میں قادیانیوں کا نام لینا بھی قانونی جرم سمجھا جاتا تھا اور اس پر مقدمہ درج ہو جایا کرتا تھا۔

استاذِ محترمؒ جامع مسجد فاروقیہ پونڈانوالہ کے ایک عرصہ تک خطیب رہے ہیں اور ان کے دور میں یہ مسجد مسلکی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک ختم نبوت اور دیگر دینی تحریکات کا بھی مورچہ ہوتی تھی۔ صدر یحییٰ خان کے مارشل لاء میں خطبہ جمعۃ المبارک کے دوران قادیانیوں کے خلاف تقریر کے بعد وہ گرفتار ہوگئے تو حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے مجھے طلب فرمایا کہ مولانا عبد القیومؒ گرفتار ہوگئے ہیں، اب اگر اگلے جمعہ پر اس مسجد میں قادیانیوں کے بارے میں کوئی بات نہ ہوئی تو اسے ہماری کمزوری سمجھا جائے گا اور اگر تقریر کرنے کے بعد دوسرا خطیب بھی گرفتار ہوگیا تو یہ سلسلہ تحریک کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس کا ابھی موقع مناسب نہیں ہے۔ اس لیے یہ جمعہ مسجد فاروقیہ میں تم نے پڑھانا ہے، اس طرح کہ ختم نبوت پر بات بھی پوری ہو اور گرفتاری کی صورت بھی نہ بنے۔ میں اس وقت نصرۃ العلوم میں غالباً موقوف علیہ کے درجہ کا طالب علم تھا، حضرت مفتی صاحبؒ کے حکم پر میں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور میں اسے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی چند صحبتوں کا فیضان سمجھتا ہوں کہ عقیدۂ ختم نبوت پر ایک گھنٹہ خطاب کے باوجود گرفتاری سے محفوظ رہا۔ سی آئی ڈی میں ہمارے ایک دوست سید مہتاب علی شاہ مرحوم ہوتے تھے انہوں نے بعد میں ایک موقع پر بتایا کہ محکمہ پولیس کے مقدمات کے انچارج پی ڈی ایس پی نے تین مرتبہ ٹیپ ریکارڈر سے آپ کی تقریر سنی ہے لیکن وہ کوئی ایسی بات تلاش نہیں کر سکے جسے مقدمہ کی بنیاد بنایا جا سکے۔ یہ بات میں نے تحدیث نعمت کے لیے عرض کی ہے اور یہ بات بتانے کے لیے لکھی ہے کہ ہمارے بزرگ بالخصوص حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ہمیں اس بات کی تلقین کرتے تھے اور تربیت دیا کرتے تھے کہ اپنی بات صحیح طریقہ سے پوری بیان کرنا تو ضروری ہے لیکن پکڑے جانا ضروری نہیں ہے۔

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، ملک میں نفاذِ شریعت اور دیوبندی مسلک کے فروغ و تحفظ میں حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ اس دور میں ہمارے لیے راہ نما اور رہبر کی حیثیت رکھتے تھے اور میری سیاسی و تحریکی زندگی کا آغاز ان کی انگلی پکڑ کر ہوا تھا۔

بعد میں جمعیۃ علماء اسلام کی بعض پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے جن کا اظہار وہ کھلم کھلا کرتے تھے وہ رفتہ رفتہ پیچھے ہٹتے گئے جبکہ میری پیش رفت جاری رہی، وہ مجھے بھی سمجھایا کرتے تھے اور کبھی کبھی ناراض بھی ہو جاتے تھے جسے میں ان کا بزرگانہ حق سمجھ کر خاموشی کے ساتھ سن لیا کرتا تھا۔ مجھے مزاج اور ڈیلنگ کے حوالے سے بہت نرم سمجھا جاتا ہے اور کسی حد تک میں ہوں بھی، لیکن موقف اور پالیسی کے معاملہ میں ہمیشہ بے لچک رہا ہوں، سنتا سب کی ہوں مگر کرتا وہی ہوں جسے صحیح اور مناسب سمجھتا ہوں، اور اسے بھی استاذِ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کے فیض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ کافی عرصہ سے علیل تھے لیکن اس کے باوجود جامعہ محمدیہ چائنہ چوک اسلام آباد میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے کئی سال تک انہوں نے تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں۔ وہاں کئی بار ان کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک سے قبل مانسہرہ کے ایک سفر کے دوران تمبرکھولا حاضری ہوئی، ملاقات و زیارت کے ساتھ ساتھ ان کی دُعا اور شفقت سے بھی شاد کام ہوا۔ آج وہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن ان کا فیض اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کے صدقات جاریہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور جامعہ محمدیہ اسلام آباد کے علاوہ ان کے ہزاروں شاگردوں کی صورت میں ان کے ذخیرۂ آخرت میں اضافے کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔